
دینی مدارس اور مساجد حقیقت میں دین اسلام اور قران کے ایسے مراکز ہیں جہاں سے قال اللہ و قال رسول کی صدائیں ہمیشہ سے بلند ہوتی ائی ہیں اور انہی اداروں میں انبیاء کرام کے وارث پیدا ہوتے ہیں اور یہی علماء اکرام انبیاء کے حقیقی وارث ہیں دینی علوم کے حصول کے لیے نکلنے والے حقیقت میں اللہ کے بہت محبوب بندے ہیں انہی نے دین اور قرآن کی روشنی کو معاشرے میں پھیلانا ہوتا ہے اس روشنی سے معاشرہ پاکیزہ پرامن اور پرسکون بنتا ہے اور اللہ کے قریب کرتا ہے اللہ کے مہمانوں کے ساتھ محبت و اپنائیت اکرام و احترام کا رویہ رکھنا ان کی ضروریات کا خیال رکھنا ہر کلمہ گو انسان کی ذمہ داری ہے اور یہ ذمہ داری ان دینی اداروں کو تقویت اور ترویج و ترقی کا سبب بنتا ہے انہی مدارس سے فارغ ہونے والے طلبہ بعد ازاں علماء مفتی ائمہ مساجد اور خطباء بن کر نکلتے ہیں اور معاشرے کی دینی رہنمائی کرتے ہیں ہمیں اللہ کے نزدیک کرتے ہیں زندگی گزارنے کا سلیقہ اور طریقہ بتاتے ہیں
اگر یہ ادارے نہ ہوتے تو شاید جو دین اج ہمارے پاس موجود ہے وہ نہ ہوتا خوش نصیب ہیں وہ لوگ جنہیں اللہ تعالی توفیق دیتا ہے کہ وہ ان دینی اداروں کی سرپرستی و رہنمائی کا سبب بنتے ہیں ان اداروں کے ساتھ محبت کا برتاؤ کرتے ہیں ان کی پشت بانی کرتے ہیں اور ان مدارس و مساجد کی سرپرستی اور پشتی بانی وہی کر سکتا ہے جسے اللہ تعالی توفیق دے اور دوسرا وہ جس نے ان اداروں میں تعلیم حاصل کی ہو مدارس کی اہمیت افادیت اور اس دجالی دور میں ایسے اداروں کی ضرورت اور اہمیت اور زیادہ بڑھ جاتی ہے مدارس کی ضروریات مشکلات کا احساس انہی کو ہو سکتا ہے
جنہوں نے اس ماحول کو قریب سے دیکھا ہو ڈاکٹر انجینیئر ایڈوکیٹ پروفیسر یا کوئی دوسرا کسی شعبے سے تعلق رکھنے والا مدارس کی اہمیت جاننے سے قاصر رہے گا حقیقت میں جنہوں نے یہ بات سمجھ لی کہ مدارس اور مساجد حقیقت میں اسلام کے مرکز اور قلعے ہیں بس وہ معاشرے میں کامیاب ہو گیا۔۔میں بات کر رہا تھا دینی اداروں کی سرپرستی اور پشتی بانی کی گزشتہ دنوں ہمارے بہت ہی پیارے دوست اور جماعت اسلامی کی تن آور اور مضبوط اواز مولانا محمد جاوید قصوری نے جماعت اسلامی کی روایت سے ہٹ کر مدارس اور مساجد کی سرپرستی کا اغاز کیا ہے وہ خود مدارس میں پڑھتے رہے ہیں مدارس کی طلبہ تنظیم جمعیت طلبہ عربیہ پاکستان کے منتظم اعلی رہے پورے ملک کے مدارس کی ضروریات مشکلات اور مسائل سے بخوبی واقف ہیں وہ اس بات کو سمجھتے ہیں کہ جماعت اسلامی نے اگر عوام کے اندر اپنی بات اور دعوت پہنچانی ہے تو اس کا بہترین ذریعہ مساجد اور مدارس ہیں یہ تحریکی دینی مدارس اور مساجد جماعت اسلامی کے پاس ہیں
تو نماز جمعہ ہو یا روزانہ کی بنیاد پر پانچ نمازوں کے اوقات میں اپ اپنی بات لوگوں تک پہنچا سکتے ہیں اور جماعت اسلامی کی بات اور دعوت خالص قران و سنت کی دعوت ہے فرقہ واریت اور تعصب لسانیت نام کی چیز ان کے قریب سے بھی نہیں پھڑکتی ہمارے محسن و مربی مولانا محمد جاوید قصوری نے اپنے صوبے وسطی پنجاب سے تین سال قبل اس کا اغاز کیا کہ دینی مدارس کو مضبوط اور فعال بنایا جائے جو تحریکی ساتھی جہاں بھی اپنا مدرسہ چھوٹا یا بڑا چلا رہا ہے ان کے ساتھ رابطہ اور تعاون سرپرستی اور رہنمائی کی جائے اور الحمدللہ یہ سلسلہ تین سال سے جاری ہے منصورہ مرکز میں وسطی پنجاب سے 30 کے قریب مدارس کے مہتمم حضرات کو خصوصی دعوت پر بلاتے ہیں
ان کا اکرام و احترام کرتے ہیں ان کی باتیں مسائل اور مشکلات سنتے ہیں اور ان سے سابقہ سال کی کارکردگی رپورٹس لیتے ہیں اور ان کی سالانہ کی بنیاد پر مالی معاونت کرتے ہیں یہ قصوری صاحب نے بہت شاندار روایت رکھی ہے اس سے دینی تحریکی مدارس اور مساجد فعال اور مضبوط ہوں گے اور جماعت اسلامی کے لیے تقویت کا باعث بنیں گے۔ مولانا محمد جاوید قصوری نے جس خوبصورت اور شاندار روایت کا اغاز کیا ہے حقیقت میں یہ بہت پہلے کام ہو جانا چاہیے تھا مجھے یاد ہے کہ جماعت اسلامی پاکستان کے سابق امیر محترم قاضی حسین احمد رحمۃ اللہ علیہ کے اخری دور عمارت میں ان کی تجویز پر مرکزی مجلس شوری میں یہ بات طے کی گئی کہ ہر ضلع اپنے شہر میں ایک تحریکی دینی ماڈل مدرسہ تعمیر کرے گا مگر اس پر عمل درآمد نہ ہو سکا اب امید ہے کہ مولانا جاوید قصوری صاحب قاضی حسین احمد کے اس شاندار ائیڈیا اور ادھورے مشن کی تکمیل کا سبب بنیں گے
قصوری صاحب اگر اپنے صوبے کے اضلاع میں ایک ماڈل مدرسہ تعمیر کر لیں جو ان کے لیے مشکل نہیں ہے اگر اجتماع عام کے لیے کروڑوں کا فنڈ جمع ہو سکتا ہے تو مساجد و مدارس کے لئے کیوں نہیں ہو سکتا قصوری آگے بڑھیں قوم ان کے ساتھ ہو گی اور یہ عمل دنیا و آخرت میں آپ کی عزت و احترام میں اضافہ اور بخشش کا ذریعہ بن جائے گا مدارس کی پشت بانی و سرپرستی پر میں مولانا جاوید قصوری صاحب کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں دیگر صوبے بھی اور امید کرتا ہوں
کہ دیگر صوبے بھی قصوری صاحب کی شاندار روایت پر عمل کرتے ہوئے مدارس کی سرپرستی میں قدم بڑھائیں گے قصوری صاحب اور ڈاکٹر نوید احمد زبیری صاحب کی طرف سے بلاے گئے دینی و تحریکی مدارس کا 20 اپریل کو منصورہ میں خصوصی اجلاس مولانا جاوید قصوری صاحب کی صدارت میں منعقد ہوا اس اجلاس میں صوبے بھر سے چھوٹے بڑے مدارس کے مہتممین حضرات نے شریک تھے
ملک کے معروف دینی و تحریکی ادارے جامعہ عربیہ گوجرانوالہ سے مولانا ضیاء الرحمن قاسمی صاحب مرکز علوم اسلامیہ منصورہ سے مولانا فضل اکبر صاحب الخدمت فاؤنڈیشن پنجاب کے صدر محمد اکرم سبحانی صاحب بھی خصوصی طور پر شریک ہوئےاس اجلاس میں قصوری صاحب کی دعوت خاص پر میں بھی شریک ہوا تھا مولانا ڈاکٹر نوید احمد زبیر بھی علمائے کرام کی خدمت میں پیش پیش تھے اللہ تعالی ان کو بھی جزائے خیر عطاء فرمائے قصوری صاحب کو ایک مشورہ دیتا ہوں کہ اگر الخدمت فاؤنڈیشن اور جماعت اسلامی مل کر ہر ضلع میں ایک ماڈل مدرسہ بنائیں اور اس کو جماعت اسلامی کا مرکز بنا لیں تو اس سے جماعت کی دعوت ہزاروں لوگوں تک پہنچے گی یہ بات ذھن میں رہنی چاہئے کہ مساجد اور مدارس سے دوری جماعت اسلامی کے لیے زہر قاتل ہے امیر جماعت اسلامی پاکستان انجینئر حافظ نعیم الرحمن بھی اس پر خصوصی توجہ دیں