دہائیوں کی سیاست، مگر غریب آج بھی پریشان

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں بعض نعرے ایسے ہیں جو وقت گزرنے کے باوجود اپنی اہمیت نہیں کھوتے۔ ’’روٹی، کپڑا اور مکان‘‘ بھی ایسا ہی ایک نعرہ ہے، جس نے کبھی غریب عوام کے دلوں میں امید کی شمع روشن کی تھی۔ یہ نعرہ محض تین الفاظ کا مجموعہ نہیں، بلکہ ایک عام انسان کی بنیادی ضروریات، عزتِ نفس اور بہتر مستقبل کی خواہش کا عکاس ہے۔ اس میں ایک ایسے معاشرے کا خواب پوشیدہ تھا جہاں کسی کو بھوک سے نہ لڑنا پڑے، کوئی شخص لباس کی کمی کے باعث احساسِ محرومی کا شکار نہ ہو اور کسی خاندان کو سر چھپانے کے لیے چھت کی تلاش میں دربدر نہ ہونا پڑے۔

ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں ’’روٹی، کپڑا اور مکان‘‘ کا نعرہ پاکستان پیپلز پارٹی کی سیاست کا نمایاں حصہ بنا۔ اس نعرے نے بالخصوص غریب، مزدور، کسان اور محروم طبقات کو یہ امید دلائی کہ اب ان کی زندگیوں میں بھی تبدیلی آئے گی۔ انہیں بھی معاشی تحفظ، سماجی انصاف اور باعزت زندگی کے مواقع میسر آئیں گے۔

لیکن آج، کئی دہائیاں گزرنے کے بعد بھی ایک تلخ سوال ہمارے سامنے کھڑا ہے: آخر وہ دن کب آئے گا جب عام پاکستانی کو روٹی، کپڑے اور مکان جیسی بنیادی ضروریات کے لیے پریشان نہیں ہونا پڑے گا؟

روٹی ہر انسان کی بنیادی ضرورت ہے، مگر افسوس کہ ہمارے ہاں بہت سے خاندانوں کے لیے دو وقت کی روٹی کا انتظام بھی ایک مستقل آزمائش بن چکا ہے۔ آٹے، گھی، دالوں، سبزیوں اور دیگر اشیائے ضروریہ کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے عام آدمی کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔ ایک مزدور صبح گھر سے نکلتا ہے تو اس کے کندھوں پر صرف اپنی روزی کمانے کی ذمہ داری نہیں ہوتی، بلکہ گھر میں بیٹھے بچوں کی بھوک، والدین کی ضروریات اور خاندان کے مستقبل کی فکر بھی ہوتی ہے۔

وہ دن بھر محنت کرتا ہے، پسینہ بہاتا ہے، دھوپ اور گردوغبار برداشت کرتا ہے، مگر جب شام کو گھر لوٹتا ہے تو کئی مرتبہ اس کی کمائی مہینے بھر کے اخراجات پورے کرنے کے لیے ناکافی ثابت ہوتی ہے۔ بجلی اور گیس کے بل، بچوں کی فیس، کرایۂ مکان اور علاج معالجے کے اخراجات اس کی آمدنی کو پہلے ہی نگل چکے ہوتے ہیں۔ ایسے میں خوراک کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اس کے لیے ایک نئی آزمائش بن جاتی ہیں۔

سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر ایک محنت کش شخص دن رات کام کرنے کے باوجود اپنے بچوں کو مناسب خوراک فراہم نہیں کر سکتا تو اس کی محنت کا صلہ کہاں ہے؟ اگر ایک خاندان کو پیٹ بھرنے کے لیے بھی اپنی دوسری ضروریات قربان کرنا پڑیں تو پھر معاشی ترقی کے دعووں کا فائدہ کس کو پہنچ رہا ہے؟

معاشی ترقی کا اصل مقصد صرف اعدادوشمار بہتر بنانا نہیں، بلکہ عام انسان کی زندگی میں آسانی پیدا کرنا ہے۔ جب تک شہری کی آمدنی اس کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی نہیں ہوتی، اس وقت تک خوشحالی کا خواب ادھورا رہے گا۔

کپڑا بظاہر ایک معمولی ضرورت دکھائی دیتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ انسان کی عزتِ نفس، وقار اور سماجی زندگی سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔ ہر والدین کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کے بچے صاف ستھرے کپڑے پہنیں، اچھے جوتے استعمال کریں اور اسکول یا معاشرے میں کسی کے سامنے احساسِ کمتری کا شکار نہ ہوں۔

لیکن غربت کی چکی میں پستے ہوئے خاندانوں کے لیے اکثر یہ خواہش بھی ایک مشکل بن جاتی ہے۔ والدین اپنی ضروریات کو نظرانداز کرکے بچوں کی خوشیوں کے لیے کوشش کرتے ہیں، مگر محدود آمدنی اور بڑھتے ہوئے اخراجات ان کے راستے میں رکاوٹ بن جاتے ہیں۔ کبھی بچے کی اسکول یونیفارم خریدنے کا مسئلہ سامنے آتا ہے، کبھی سردیوں کے کپڑوں کا، اور کبھی پرانے جوتوں کی جگہ نئے جوتے خریدنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔

یہ صرف لباس کی کمی کا مسئلہ نہیں، بلکہ اس معاشی عدم تحفظ کی علامت ہے جس میں ایک عام شہری اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے مسلسل جدوجہد کرتا رہتا ہے۔

ایک فلاحی معاشرے کی پہچان یہ نہیں کہ وہاں چند لوگ آسائشوں سے بھرپور زندگی گزار رہے ہوں، بلکہ یہ ہے کہ وہاں کسی انسان کو غربت کی وجہ سے اپنی بنیادی ضروریات اور عزتِ نفس کے درمیان انتخاب نہ کرنا پڑے۔

انسان کی زندگی میں گھر محض اینٹوں، سیمنٹ اور چھت کا نام نہیں۔ گھر وہ جگہ ہے جہاں انسان سکون محسوس کرتا ہے، جہاں اس کے بچے محفوظ ہوتے ہیں اور جہاں وہ اپنے مستقبل کے خواب بنتا ہے۔ لیکن پاکستان میں لاکھوں خاندانوں کے لیے اپنا گھر حاصل کرنا آج بھی ایک مشکل خواب بنا ہوا ہے۔

بڑھتے ہوئے کرائے، زمین کی آسمان سے باتیں کرتی قیمتیں، تعمیراتی سامان کے اخراجات اور محدود آمدنی نے عام شہری کے لیے گھر بنانا انتہائی مشکل کر دیا ہے۔ ایک شخص برسوں محنت کرتا ہے، اپنی خواہشات قربان کرتا ہے، بچوں کے مستقبل کے لیے پیسے بچانے کی کوشش کرتا ہے، مگر اس کے باوجود اپنا گھر خریدنے کے قابل نہیں ہو پاتا۔

بہت سے خاندان اپنی ماہانہ آمدنی کا بڑا حصہ کرائے کی ادائیگی میں خرچ کر دیتے ہیں۔ مہینے کے آغاز میں تنخواہ ملتی ہے اور چند ہی دنوں میں کرایہ، بلوں اور دیگر ضروری اخراجات کے باعث رقم ختم ہونے لگتی ہے۔ ایسے خاندانوں کے لیے بچت کرنا، بچوں کی بہتر تعلیم کا انتظام کرنا اور مستقبل کے لیے کوئی منصوبہ بنانا بھی ایک چیلنج بن جاتا ہے۔

سوال یہ ہے کہ اگر ایک شہری ساری زندگی محنت کرنے کے باوجود اپنے خاندان کے لیے ایک محفوظ چھت کا انتظام نہیں کر سکتا تو اس کے لیے معاشی تحفظ کا تصور کیا معنی رکھتا ہے؟

حکومتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ سستی رہائش کے ایسے منصوبے متعارف کرائیں جو صرف کاغذوں اور اعلانات تک محدود نہ ہوں، بلکہ واقعی کم آمدنی والے خاندانوں کی پہنچ میں ہوں۔ گھر کی سہولت فراہم کرنا محض ایک ترقیاتی منصوبہ نہیں، بلکہ لاکھوں خاندانوں کے مستقبل کو محفوظ بنانے کا معاملہ ہے۔

پاکستان میں کئی حکومتیں آئیں اور گئیں۔ ہر دور میں عوام سے خوشحالی، ترقی، روزگار اور بہتر مستقبل کے وعدے کیے گئے۔ سیاسی جماعتوں نے اپنے اپنے منشور پیش کیے اور عوام کو امید دلائی کہ ان کے مسائل حل کیے جائیں گے۔ بعض شعبوں میں ترقیاتی کام بھی ہوئے، مختلف منصوبے شروع کیے گئے اور سماجی بہبود کے لیے اقدامات بھی کیے گئے۔

اس کے باوجود عام آدمی کی زندگی میں بنیادی مسائل کی موجودگی ایک اہم سوال ہے۔ مہنگائی، بے روزگاری، کم آمدنی، مہنگی رہائش اور معیاری تعلیم و صحت تک محدود رسائی جیسے مسائل اب بھی بڑی تعداد میں شہریوں کو متاثر کرتے ہیں۔

ان مشکلات کی وجوہات میں معاشی عدم استحکام، پالیسیوں کا تسلسل برقرار نہ رہنا، وسائل کی غیر مساوی تقسیم، کمزور حکمرانی اور دیگر داخلی و عالمی چیلنجز شامل ہیں۔ لیکن ان مسائل کو سمجھنے کا مقصد ذمہ داری سے فرار اختیار کرنا نہیں، بلکہ ان کے مستقل حل کی طرف بڑھنا ہونا چاہیے۔

ہر حکومت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ عوام کی بنیادی ضروریات کسی سیاسی جماعت کا احسان نہیں، بلکہ ایک فلاحی ریاست کی اہم ذمہ داریاں ہیں۔ شہریوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی منتخب قیادت سے سوال کریں، وعدوں کا حساب مانگیں اور عملی نتائج کی بنیاد پر حکومتی کارکردگی کا جائزہ لیں۔

ہمارے سیاسی ماحول میں عوامی مسائل اکثر انتخابی مہمات کے دوران نمایاں ہوتے ہیں۔ جلسوں میں غربت کے خاتمے کے وعدے کیے جاتے ہیں، مہنگائی کم کرنے کے دعوے سامنے آتے ہیں اور عوام کو بہتر مستقبل کی نوید سنائی جاتی ہے۔ لیکن عام شہری کی اصل آزمائش انتخابی نعروں سے نہیں، روزمرہ زندگی کی مشکلات سے ہوتی ہے۔

اسے اس بات سے غرض نہیں کہ سیاسی رہنما ایک دوسرے کے بارے میں کیا کہتے ہیں۔ اس کی بنیادی خواہش یہ ہے کہ آٹا مناسب قیمت پر ملے، بچوں کے لیے دودھ اور خوراک کا انتظام ہو، بجلی کے بل آمدنی کے مطابق ہوں، روزگار کے مواقع پیدا ہوں اور گھر کا کرایہ ادا کرنے کے بعد اس کے پاس زندگی کی دوسری ضروریات پوری کرنے کے لیے بھی کچھ رقم باقی بچے۔

’’روٹی، کپڑا اور مکان‘‘ کا نعرہ اسی وقت حقیقی معنوں میں کامیاب سمجھا جا سکتا ہے جب اس کے ثمرات عام آدمی کی زندگی میں نظر آئیں۔ اگر عوام آج بھی انہی بنیادی مسائل سے دوچار ہیں تو اس نعرے کی سیاسی تاریخ بیان کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے عملی نتائج کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے۔

یہ سوال صرف ایک سیاسی جماعت سے نہیں، بلکہ ہر اس حکومت اور قیادت سے ہونا چاہیے جو عوام کی خدمت اور خوشحالی کا دعویٰ کرتی ہے۔

پاکستان میں بنیادی ضروریات کے مسائل حل کرنے کے لیے وقتی اعلانات اور عارضی ریلیف کافی نہیں۔ ضرورت ایسی جامع معاشی حکمتِ عملی کی ہے جس سے عام شہری کی آمدنی بڑھے، روزگار کے مواقع پیدا ہوں اور ضروری اشیا اس کی پہنچ میں رہیں۔

حکومت کو چھوٹے کاروباروں کی حوصلہ افزائی، زراعت اور صنعت کی ترقی، ہنرمندی کی تعلیم اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے سماجی تحفظ کا مؤثر نظام قائم ہونا چاہیے تاکہ معاشی مشکلات کے دوران ان کی بنیادی ضروریات متاثر نہ ہوں۔

اسی طرح تعلیم اور صحت کی معیاری سہولتوں تک رسائی بہتر بنانا ضروری ہے، کیونکہ ایک خاندان کی آمدنی کا بڑا حصہ اگر علاج اور تعلیم پر خرچ ہو جائے تو اس کے لیے خوراک اور رہائش کا انتظام مزید مشکل ہو جاتا ہے۔

سستی رہائش کے منصوبوں میں شفافیت، مناسب قیمت، بنیادی سہولتوں اور مستحق افراد کی حقیقی ضروریات کو ترجیح دی جانی چاہیے۔ سرکاری وسائل کے مؤثر استعمال، بدعنوانی کی روک تھام، منصفانہ ٹیکس نظام اور پالیسیوں کے تسلسل کے بغیر دیرپا بہتری ممکن نہیں۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ عوام کو محض امداد فراہم کرنے تک محدود نہ رکھا جائے، بلکہ انہیں تعلیم، ہنر اور باعزت روزگار کے ذریعے اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کے مواقع دیے جائیں۔ ایک مضبوط معیشت وہی ہوتی ہے جس میں محنت کرنے والا شخص اپنی محنت کے ذریعے بہتر زندگی حاصل کر سکے۔

عوام کو بھی سیاسی نعروں اور عملی کارکردگی کے درمیان فرق سمجھنا ہوگا۔ کسی سیاسی جماعت کی حمایت یا مخالفت سے قطع نظر یہ دیکھنا ضروری ہے کہ اس کی پالیسیاں عام شہری کے لیے کتنی فائدہ مند ثابت ہوئیں۔ کیا روزگار کے مواقع بڑھے؟ کیا بنیادی اشیائے ضروریہ کی خریداری آسان ہوئی؟ کیا کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے رہائش کے امکانات بہتر ہوئے؟ کیا تعلیم اور علاج عام آدمی کی پہنچ میں آئے؟

یہ وہ سوالات ہیں جنہیں سیاسی بحث کا مرکز ہونا چاہیے۔

میڈیا، صحافیوں اور سول سوسائٹی کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے مسائل کو مسلسل اجاگر کریں اور حکومتوں کی کارکردگی کا جائزہ لیتے رہیں۔ جمہوریت صرف ووٹ ڈالنے کا نام نہیں، بلکہ منتخب نمائندوں سے جواب طلب کرنے اور عوامی مفاد کے لیے آواز اٹھانے کا نام بھی ہے۔

جب عوام اپنی ترجیحات واضح کریں گے اور سیاسی قیادت سے عملی نتائج کا مطالبہ کریں گے، تبھی سیاست کا رخ بنیادی انسانی ضروریات کی طرف زیادہ مؤثر انداز میں موڑا جا سکے گا۔

’’روٹی، کپڑا اور مکان‘‘ کا نعرہ آج بھی اس لیے زندہ ہے کہ اس کے پیچھے موجود مسائل ابھی پوری طرح حل نہیں ہوئے۔ زمانہ بدل گیا، حکومتیں بدل گئیں، سیاسی قیادتیں بدل گئیں، لیکن عام آدمی کی زندگی میں وہ بنیادی سوال اب بھی موجود ہے: کیا میری محنت مجھے اور میرے خاندان کو ایک بہتر زندگی دے سکتی ہے؟

ایک باپ آج بھی اس فکر میں گھر سے نکلتا ہے کہ شام کو بچوں کے لیے کھانا کہاں سے لائے گا۔ ایک ماں آج بھی اپنے بچوں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے اپنی خواہشات قربان کرتی ہے۔ ایک نوجوان تعلیم حاصل کرنے کے بعد روزگار کی تلاش میں بھٹکتا ہے، جبکہ ایک عام خاندان برسوں محنت کرنے کے باوجود اپنے گھر کے خواب کو حقیقت میں بدلنے کے لیے جدوجہد کرتا رہتا ہے۔

یہی وہ حقائق ہیں جنہیں نظرانداز کرکے کسی بھی معاشرے کی ترقی کا حقیقی اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔

اب وقت آ گیا ہے کہ سیاسی قیادت نعروں سے آگے بڑھے، عوامی مسائل کو اپنی اولین ترجیح بنائے اور ایسے اقدامات کرے جن کے نتائج لوگوں کی روزمرہ زندگی میں محسوس ہوں۔ کیونکہ عوام کو صرف تقریروں میں خوشحالی کے وعدے نہیں چاہییں؛ انہیں ایسی زندگی چاہیے جس میں روٹی خریدنا مشکل نہ ہو، لباس حاصل کرنا بوجھ نہ بنے اور اپنے خاندان کے لیے چھت کا انتظام کرنا عمر بھر کا خواب نہ رہے۔

آخر سوال وہی ہے: اگر کئی دہائیاں گزرنے کے باوجود عام آدمی روٹی، کپڑے اور مکان کے لیے پریشان ہے تو پھر اس نعرے کی حقیقی منزل ابھی تک کہاں ہے؟

اس سوال کا جواب تقریروں، جلسوں اور انتخابی وعدوں میں نہیں، بلکہ عوام کی زندگیوں میں آنے والی حقیقی تبدیلی میں پوشیدہ ہے۔ پاکستان کی خوشحالی اسی دن ممکن ہوگی جب عام شہری کی بنیادی ضروریات پوری ہوں گی، محنت کو اس کا جائز صلہ ملے گا اور عزت کے ساتھ زندگی گزارنا چند خوش نصیبوں کا نہیں، ہر پاکستانی کا حق بنے گا۔