محمد شفیق اعوان
رات کا آخری پہر تھا۔ آسمان پر بادلوں کی سیاہ چادر تنی ہوئی تھی اور پہاڑوں کی چوٹیوں پر برف ایسے چمک رہی تھی جیسے کسی درویش نے سفید چادر اوڑھ رکھی ہو۔ دُور کہیں سرحدی چوکی پر ایک چراغ ٹمٹما رہا تھا۔ تیز ہوا آتی، چراغ کی لو کو جھنجھوڑتی اور گزر جاتی؛ مگر چراغ ہر بار پہلے سے زیادہ ثابت قدم ہو کر جَلنے لگتا۔
چوکی پر تعینات سپاہی زبیر نے آسمان کی طرف دیکھا۔ اس کے ہاتھ میں بندوق تھی، مگر آنکھوں میں خواب تھے۔
ساتھی سپاہی عمیر نے مسکرا کر پوچھا: ’’کیا دیکھ رہے ہو زبیر؟‘‘
زبیر نے دُور افق پر نظریں جمائے رکھیں۔ ’’اپنا پاکستان۔‘‘
عمیر ہنس پڑا۔ ’’یہاں تو کچھ دکھائی نہیں دے رہا۔ صرف اندھیرا ہے۔‘‘
زبیر نے دھیرے سے کہا: ’’پاکستان صرف آنکھوں سے نظر آنے والی زمین کا نام نہیں، عمیر! یہ اُن لوگوں کے خواب کا نام ہے جنہوں نے اسے حاصل کرنے کے لیے اپنا سب کچھ قربان کیا۔ یہ اُن ماؤں کی دعاؤں کا نام ہے جنہوں نے اپنے بیٹے وطن پر نثار کر دیے۔ یہ اُن شہیدوں کے لہو کا نام ہے جو مٹی میں جذب ہو کر بھی قوم کے ضمیر میں زندہ رہتے ہیں۔‘‘
عمیر کچھ دیر خاموش رہا۔
پھر بولا: ’’اور ہم؟‘‘
زبیر نے اپنی وردی پر ہاتھ پھیرا۔ ’’ہم اُس خواب کے نگہبان ہیں۔‘‘
اچانک دُور پہاڑیوں کے پیچھے سے ہوا کا ایک تیز جھونکا آیا۔ چراغ کی لو ایک لمحے کو لرزی، مگر بجھی نہیں۔
عمیر نے چراغ کی طرف دیکھا اور مسکرا کر بولا: ’’یہ چراغ بھی عجیب ہے۔‘‘
زبیر نے کہا: ’’یہ چراغ نہیں، ہماری قوم کی علامت ہے۔ آندھیاں جتنی چاہیں چلیں، اگر اندر تیل باقی ہو تو روشنی بجھتی نہیں۔‘‘
صبح ہوئی تو پہاڑوں کے دامن میں سورج نے آنکھ کھولی۔ چوکی کے سامنے برف پر سورج کی کرنیں پڑیں تو یوں محسوس ہوا جیسے زمین نے چاندی کا لباس پہن لیا ہو۔
زبیر نے جیب سے ایک چھوٹی سی پرچی نکالی۔ اس پر اس کی بیٹی نے لکھا تھا: ’’ابّو! آپ کب واپس آئیں گے؟‘‘
نیچے ایک ٹیڑھا سا دل بنا ہوا تھا۔
زبیر کے لبوں پر مسکراہٹ آئی۔
عمیر نے پوچھا: ’’گھر سے خط آیا ہے؟‘‘ ’’ہاں۔ بیٹی نے پوچھا ہے کہ میں کب واپس آؤں گا۔‘‘
’’کیا جواب دو گے؟‘‘
زبیر نے کچھ سوچ کر کہا: ’’کہوں گا، بیٹی! جب وطن کی حفاظت کی ڈیوٹی ختم ہوگی تو واپس آؤں گا۔‘‘
عمیر نے ہلکے سے قہقہہ لگایا: ’’اور اگر ڈیوٹی ختم نہ ہوئی؟‘‘
زبیر نے آسمان کی طرف دیکھا۔ ’’تو پھر میری بیٹی کو یہ بتانا کہ اُس کا باپ گھر نہ سہی، وطن کے سینے میں ضرور موجود ہے۔‘‘
عمیر کی آنکھیں نم ہوگئیں۔ ’’تم ہر بات کو اتنا بڑا کیوں بنا دیتے ہو؟‘‘
زبیر مسکرایا۔ ’’کیونکہ وطن چھوٹی چیز نہیں ہوتا، دوست!‘‘
کئی میل دُور شہر میں ایک نوجوان علی اپنے کمرے میں بیٹھا موبائل کی اسکرین پر نظریں گاڑے ہوئے تھا۔
سوشل میڈیا پر ایک پیغام گردش کر رہا تھا: ’’فوج ناکام ہے۔۔۔ ملک کا کوئی مستقبل نہیں۔۔۔ ہر طرف تباہی ہے۔۔۔‘‘
علی نے غصے سے موبائل میز پر پھینک دیا۔ اسی وقت اس کا دادا کمرے میں داخل ہوا۔ وہ بوڑھا تھا، مگر آنکھیں اب بھی روشن تھیں۔
اس نے موبائل اٹھایا اور پوچھا: ’’کیا ہوا؟‘‘
علی نے تلخی سے کہا: ’’دادا جان! اس ملک کا کچھ نہیں ہو سکتا۔ ہر طرف مسائل ہیں۔ کوئی ادارہ ٹھیک نہیں، کوئی آدمی مخلص نہیں۔‘‘
دادا نے کرسی کھینچی اور بیٹھ گئے۔ ’’تمہیں یہ بات کس نے بتائی؟‘‘
’’لوگ کہہ رہے ہیں۔‘‘ ’’کون لوگ؟‘‘
علی خاموش ہوگیا۔
دادا نے موبائل کی طرف دیکھا اور کہا: ’’بیٹا! دشمن ہمیشہ سرحد پر کھڑا ہو کر حملہ نہیں کرتا۔ کبھی وہ تمہارے ہاتھ میں پکڑے ہوئے موبائل میں بیٹھا ہوتا ہے۔‘‘
علی چونکا۔ ’’کیا مطلب؟‘‘
دادا بولے: ’’جھوٹ، افواہ، نفرت اور مایوسی بھی ہتھیار ہوتے ہیں۔ توپ کا گولہ جسم کو زخمی کرتا ہے، مگر جھوٹ قوم کے حوصلے کو زخمی کرتا ہے۔‘‘
علی نے موبائل دوبارہ اٹھایا۔ ’’تو کیا ہر خبر جھوٹی سمجھوں؟‘‘
دادا مسکرائے۔ ’’نہیں! ہر خبر کو سچ بھی نہ سمجھو۔ تحقیق کرو، سوچو، پرکھو۔ بیدار رہو۔‘‘
پھر انہوں نے کھڑکی سے باہر دیکھتے ہوئے کہا: ’’قوم کی آنکھیں بند ہوں تو دشمن کو دروازہ توڑنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔‘‘
اُسی رات شہر میں ایک عجیب خواب پھیلا۔ علی نے خواب میں دیکھا کہ پاکستان ایک بہت بڑا قلعہ ہے۔ قلعے کی فصیل پر ایک سپاہی کھڑا ہے۔ اُس کے پیچھے کروڑوں چراغ جل رہے ہیں۔
ایک طرف علم کھڑا تھا، دوسری طرف محنت، تیسری طرف دیانت اور چوتھی طرف اتحاد۔
مگر قلعے کے اندر کچھ لوگ آپس میں لڑ رہے تھے۔ کوئی زبان کے نام پر، کوئی علاقے کے نام پر، کوئی فرقے کے نام پر اور کوئی اپنے مفاد کے نام پر۔
قلعے کی دیوار میں دراڑ پڑنے لگی۔
علی گھبرا کر چلایا: ’’یہ کیا ہو رہا ہے؟‘‘
اچانک ایک بوڑھی آواز آئی: ’’دشمن باہر سے نہیں آیا، بیٹا! دراڑ اندر سے پڑی ہے۔‘‘
علی نے دیکھا، ایک بزرگ ہاتھ میں آئینہ لیے کھڑے ہیں۔
اس نے پوچھا: ’’آپ کون ہیں؟‘‘
بزرگ نے جواب دیا: ’’میں تمہارا ضمیر ہوں۔‘‘
’’اور یہ دراڑ؟‘‘ ’’یہ نفرت، بددیانتی، جھوٹ، خود غرضی اور بے حسی سے بنتی ہے۔‘‘
علی نے پوچھا: ’’تو اسے کون بھرے گا؟‘‘
ضمیر نے کہا: ’’تم! مَیں! وہ! ہم سب!‘‘
پھر دُور سے ایک آواز آئی: ’’ایک قطرہ کیا کر سکتا ہے؟‘‘
ضمیر مسکرایا: ’’اکیلا قطرہ شاید کچھ نہیں؛ مگر قطرے مل جائیں تو سمندر بن جاتا ہے۔‘‘
اچانک خواب کا منظر بدل گیا۔
علی نے خود کو ایک وسیع میدان میں کھڑا پایا۔ سامنے شہداء کے ناموں کی ایک دیوار تھی۔ ہوا چل رہی تھی۔ دیوار پر نصب سبز ہلالی پرچم لہرا رہا تھا۔ ایک نوجوان سپاہی آہستہ آہستہ اس کی طرف آیا۔
علی نے پوچھا: ’’تم کون ہو؟‘‘
سپاہی نے کہا: ’’میں وہ ہوں جسے تم سرحد پر چھوڑ آئے تھے۔‘‘
علی نے گھبرا کر کہا: ’’مَیں نے؟‘‘
سپاہی مسکرایا: ’’ہاں! تم اپنی روزمرہ زندگی میں اتنے مصروف ہوگئے کہ تمہیں یاد ہی نہ رہا کہ کوئی تمہاری نیند کی حفاظت بھی کرتا ہے۔‘‘
علی کی آنکھیں جھک گئیں۔
سپاہی نے کہا: ’’لیکن یاد رکھو، وطن صرف سپاہی نہیں بچاتا۔‘‘
’’تو کون بچاتا ہے؟‘‘ ’’استاد جب علم بانٹتا ہے، کسان جب زمین سینچتا ہے، مزدور جب پسینہ بہاتا ہے، تاجر جب دیانت داری اختیار کرتا ہے، طالب علم جب علم حاصل کرنے کے لیے محنت کرتا ہے، ماں جب باکردار نسل پروان چڑھاتی ہے اور شہری جب قانون کی پاسداری کرتا ہے۔۔۔ تب وطن مضبوط ہوتا ہے۔‘‘
علی نے پوچھا: ’’اور فوج؟‘‘
سپاہی نے جواب دیا: ’’فوج سرحد کی نگہبان ہے، مگر قوم پورے ملک کی روح ہے۔‘‘
اچانک ایک نعرہ بلند ہوا: ’’ہم کون ہیں؟‘‘
ہزاروں آوازیں گونجیں: ’’ہم پاکستان ہیں!‘‘
پھر آواز آئی: ’’ہم کیا چاہتے ہیں؟‘‘
جواب آیا: ’’امن!‘‘
’’اور اگر وطن کو خطرہ ہو؟‘‘
فضا گونج اٹھی: ’’دفاع!‘‘
سپاہی نے علی کی طرف دیکھا۔ ’’ہم جنگ کے طلب گار نہیں۔‘‘
علی نے کہا: ’’پھر سرفروش کیوں کہتے ہو خود کو؟‘‘
سپاہی نے جواب دیا: ’’سرفروشی تباہی کا نام نہیں؛ اپنے فرض کے لیے سب کچھ قربان کرنے کا نام ہے۔ ہم امن چاہتے ہیں، مگر امن کی حفاظت کے لیے عزم بھی رکھتے ہیں۔‘‘
پھر اس نے آسمان کی طرف دیکھ کر کہا: ’’ہم گرم جوش ہیں، مگر بے لگام نہیں؛ ہم سرفروش ہیں، مگر نفرت کے لیے نہیں؛ ہم جانباز ہیں، مگر ظلم کے لیے نہیں۔ ہمارا عہد وطن کی سلامتی، قانون کی پاسداری اور قوم کی سربلندی کے ساتھ ہے۔‘‘
علی کی آنکھ کھل گئی۔
صبح کی اذان ہو رہی تھی۔ وہ کچھ دیر خاموش بیٹھا رہا۔ پھر اس نے موبائل اٹھایا، رات کو پڑھی ہوئی غیر مصدقہ خبر دوبارہ دیکھی اور اسے آگے بڑھانے کے بجائے حذف کر دیا۔
وہ آئینے کے سامنے کھڑا ہوا۔ اسے اپنا چہرہ نظر آیا۔ مگر آج پہلی مرتبہ اسے اپنے چہرے کے پیچھے ایک اور چہرہ دکھائی دیا۔ ذمہ دار شہری کا چہرہ۔
اس نے دھیرے سے کہا: ’’وطن صرف دوسروں کی ذمہ داری نہیں۔‘‘
پھر اس نے کھڑکی کھولی۔ صبح کی روشنی کمرے میں داخل ہوئی۔
دُور کسی مسجد سے قرآنِ مجید کی تلاوت کی آواز آ رہی تھی۔ علی نے آسمان کی طرف دیکھا اور دل میں عہد کیا: ’’میں نفرت نہیں پھیلاؤں گا۔ جھوٹ کو سچ بنا کر آگے نہیں بڑھاؤں گا۔ قانون کی عزت کروں گا۔ اپنے حصے کا کام دیانت سے کروں گا۔ اور اپنے وطن کی سلامتی، ترقی اور سربلندی کے لیے اپنی استطاعت کے مطابق کردار ادا کروں گا۔‘‘
اسی لمحے اسے یوں محسوس ہوا جیسے پہاڑوں کے پار سے کوئی آواز آ رہی ہو۔ وہی آواز جو رات کے خواب میں سنائی دی تھی: ’’ہم گرم جوش ہیں، ہم سرفروش ہیں؛ ہم پاک فوج کے جانباز ہیں؛ ہم وطن کے محافظ و سرفراز ہیں۔‘‘
علی نے آنکھیں بند کرلیں۔ اب اسے سمجھ آچکا تھا کہ وطن کی حفاظت صرف بندوق اٹھانے کا نام نہیں۔
کبھی قلم بھی مورچہ ہوتا ہے۔ کبھی کتاب بھی سپر ہوتی ہے۔ کبھی سچ بھی ہتھیار بن جاتا ہے۔ اور کبھی ایک ذمہ دار شہری کا کردار پوری قوم کی فصیل مضبوط کر دیتا ہے۔
افق پر سورج بلند ہو رہا تھا۔ سبز ہلالی پرچم ہوا میں لہرا رہا تھا۔ اور سرحد کی کسی دُور افتادہ چوکی پر ایک سپاہی اپنی بندوق تھامے کھڑا تھا۔
اس کے لبوں پر ایک مسکراہٹ تھی۔
اس نے آسمان کی طرف دیکھا اور آہستہ سے کہا: ’’ہم سرفروش ہیں۔۔۔ مگر ہماری سرفروشی زندگی کی حفاظت کے لیے ہے۔ ہم پاسبان ہیں۔۔۔ اور ہماری سب سے بڑی خواہش یہ ہے کہ ہمارے وطن کے بچے امن کے سائے میں اپنے خواب پورے کریں۔‘‘
پھر اس نے چوکی کے سامنے پھیلی وادی کو دیکھا۔
سورج کی پہلی کرن برف پر پڑی تو پوری وادی جگمگا اٹھی۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے وطن خود کہہ رہا ہو: ’’میری حفاظت صرف سرحد پر نہیں ہوتی؛ میری حفاظت تمہارے کردار میں ہوتی ہے۔‘‘
اور اُس دن علی نے جان لیا کہ
قومیں صرف بہادر سپاہیوں سے محفوظ نہیں رہتیں؛ وہ بیدار، متحد، باکردار اور ذمہ دار شہریوں سے مضبوط ہوتی ہیں۔
یہی وطن سے محبت ہے۔ یہی حقیقی سرفروشی ہے۔ اور یہی آنے والی نسلوں کے لیے سب سے بڑی میراث ہے۔