تاریخ اور یادیں:از قلم :-
سلیم ممتاز چوہدری
چک بیلی خان کی بنیاد کے ساتھ ہی، آبادی کی پیاس بجھانے کے لیے برساتی ندی کے قریب دو کنوئیں کھودے گئے تھے۔ رئیسِ اعظم رائے شیر خان کی ملکیت میں موجود یہ کنوئیں صدیوں تک علاقے کا واحد سہارا رہے۔ ان میں سے ایک مسلمانوں اور دوسرا سکھوں و ہندوؤں کے لیے مختص تھا، جو مذہبی رواداری اور ضرورت کی ایک خاموش تاریخ بیان کرتے تھے۔
ایک تہذیب کا مرکز:
تقسیمِ ہند کے بعد دونوں کنوئیں سب کے لیے عام ہو گئے۔ وہ بھی کیا منظر ہوتا ہوگا جب صبح و شام مائیں بہنیں مٹی کے گھڑوں کی قطاریں لگائے پانی بھرتی تھیں، اور دوپہر کے وقت بہشتی مشکیزوں اور کنستروں میں پانی کی ترسیل کرتے تھے۔ یہ صرف کنوئیں نہیں تھے بلکہ چک بیلی خان کی معاشرتی زندگی کا محور تھے
ورثے کی پامالی: 💔
افسوس کہ صرف پندرہ بیس سال پہلے تک جو کنوئیں پورے شہر کو سیراب کرتے تھے، آج ان کا نام و نشان مٹ چکا ہے۔ غیر مقامی قبضوں اور ہماری اپنی غفلت نے اس نایاب ورثے کو “نست و نابود” کر دیا ہے۔
اعترافِ حقیقت:
یہ کہنا کڑوا تو ہے مگر سچ ہے کہ ہم سب اس ورثے کی تباہی میں برابر کے شریک ہیں۔ خاص طور پر میرے اپنے خاندان ‘شیرآلوں’ کا قصور سب سے نمایاں ہے، جنہوں نے “چاہ کسی آلہ”یا کسی آلہ کھو کی شناخت بدل کر اسے “چاہ یوسف” بنا دیا۔
“تاریخ کے اوراق سے کسی نشانی کو مٹانا دراصل اپنی جڑوں کو کاٹنے کے مترادف ہے۔”
آئیے اس پر غور کریں کہ کیا ہم اب بھی اپنے آباء کی ان نشانیوں کو بچانے کے لیے کچھ کر سکتے ہیں؟
(اپنی زیر طبع کتاب “وراثت”کا ایک صفحہ)