پمز میں بچوں کی ہلاکت پر اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایک اور درخواست دائر

(پنڈی پوسٹ نیوز)سپریم کورٹ کے وکیل نثار اے مجاہد نے آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت عوامی مفاد میں آئینی درخواست دائر کی، درخواست میں وفاق، وزارت صحت، وزارت داخلہ، پمز، سی ڈی اے اور آئی جی اسلام آباد سمیت 13 اداروں کو فریق بنایا گیا ہے۔درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ الیکٹریکل اور اے سی کی خرابی کو پمز میں آگ لگنے کی ابتدائی وجہ قرار دیا گیا ہے، نوزائیدہ بچے خود کو بچانے یا ہسپتال سے نکلنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ آئین کے تحت سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کی زندگی اور وقار کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے۔درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ پمز واقعے کی تحقیقات کے لیے انجینئرز اور طبی ماہرین پر مشتمل آزاد کمیٹی بنائی جائے۔

درخواست میں عدالت سے پمز کی تمام سی سی ٹی وی فوٹیج، ڈیوٹی روسٹر اور مینٹیننس ریکارڈ فوری محفوظ کرنے کا حکم دینے کی استدعا کی گئی ہے۔پمز اور اسلام آباد کے تمام وفاقی ہسپتالوں کا فوری جامع سیفٹی اور فائر آڈٹ کروانے کی بھی استدعا کی گئی ہے۔درخواست میں ہسپتالوں کے لیے “ہسپتال لائف سیفٹی اینڈ ایمرجنسی پریپیرڈنس فریم ورک” نافذ کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔

درخواست گزار نے ہر ہسپتال میں ایمرجنسی سیفٹی کے لیے مخصوص افسران کی نامزدگی لازمی قرار دینے اور ہسپتالوں میں نوزائیدہ بچوں اور شدید بیمار مریضوں کی ایمرجنسی انخلاء کے لیے باقاعدہ فائر ڈرلز کروانے کی بھی استدعا کی ہے۔درخواست میں ہسپتال کے تمام ایمرجنسی راستے، فائر ڈورز اور راہداریوں کو فوری بحال اور کھلا رکھنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

ہسپتالوں کے بجلی، آکسیجن، جنریٹر اور یو پی ایس سسٹمز کا باقاعدگی سے آزادانہ معائنہ یقینی بنانے کی بھی استدعا کی گئی ہے۔درخواست میں عدالت سے حکم ناموں پر عملدرآمد کے لیے کیس کی مسلسل نگرانی کا نظام برقرار رکھنے کی استدعا بھی کی گئی ہے۔