تحریر: قاضی خالد محمود
نگاہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ایک عظیم نعمت ہے۔ انسان کی شخصیت، کردار اور باطن کی پاکیزگی کا ایک اہم پیمانہ اس کی نگاہ بھی ہے۔ اسی لیے دینِ اسلام نے صرف ظاہری اعمال کی اصلاح پر زور نہیں دیا بلکہ نگاہوں کی حفاظت کو بھی اخلاقی اور روحانی زندگی کا بنیادی حصہ قرار دیا ہے۔
آج ہمارے معاشرے میں ایک ایسا مسئلہ تیزی سے بڑھ رہا ہے جس پر سنجیدگی سے گفتگو کی ضرورت ہے: نگاہوں کی بے احتیاطی اور نامحرم کو دیکھنے کا بڑھتا ہوا رجحان۔ ایک زمانے میں ایسے مناظر جو معاشرتی حیا کے خلاف سمجھے جاتے تھے، محدود ذرائع کی وجہ سے ہر شخص کی دسترس میں نہیں تھے۔ لیکن موبائل فون، سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل دنیا نے صورتحال بدل دی ہے۔ اب ایک چھوٹی سی اسکرین کے ذریعے انسان ہر وقت ایسے مناظر تک پہنچ سکتا ہے جو اس کے دل، کردار اور سوچ پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
مسئلہ صرف یہ نہیں کہ انسان باہر نکل کر کیا دیکھتا ہے؛ اصل سوال یہ ہے کہ تنہائی میں وہ اپنی آنکھوں کو کہاں جانے دیتا ہے۔ آج انسان بظاہر اپنے گھر میں محفوظ بیٹھا ہے، مگر موبائل کی اسکرین اسے ایسی دنیا تک لے جا سکتی ہے جہاں حیا، پاکیزگی اور اخلاقی حدود کی کوئی ضمانت نہیں۔
یہاں اصل آزمائش انسان کی اپنی ذات کی ہے۔ دوسروں کے سامنے اپنی نگاہ جھکا لینا نسبتاً آسان ہے، مگر جب انسان اکیلا ہو اور اس کے ہاتھ میں موبائل ہو، تب اس کا فیصلہ اس کے کردار کی حقیقی ترجمانی کرتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں انسان کو یاد رکھنا چاہیے کہ لوگوں کی نظروں سے تو چھپا جا سکتا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ سے کچھ پوشیدہ نہیں۔
ہر چیز دیکھ لینا آزادی نہیں۔ حقیقی آزادی یہ ہے کہ انسان اپنی آنکھ، اپنی خواہش اور اپنے نفس پر اختیار رکھتا ہو۔ جو شخص اپنی نگاہ کا مالک نہیں رہتا، وہ رفتہ رفتہ اپنے نفس کا غلام بن سکتا ہے۔
نگاہ کی بے احتیاطی کا نقصان صرف ایک لمحے تک محدود نہیں رہتا۔ ایک منظر دوسرے منظر کو جنم دیتا ہے، ایک خیال دوسرے خیال کو، اور مسلسل دیکھنے کی عادت انسان کے اندر حیا کے احساس کو کمزور کر سکتی ہے۔ پھر جو چیز کبھی غلط محسوس ہوتی تھی، آہستہ آہستہ معمولی لگنے لگتی ہے۔ یہی وہ خطرناک مرحلہ ہے جہاں انسان کو اپنے آپ سے سوال کرنا چاہیے کہ کہیں وہ اپنی روح اور کردار کے ساتھ ناانصافی تو نہیں کر رہا۔
اس مسئلے کی ذمہ داری صرف نوجوانوں پر ڈال دینا بھی درست نہیں۔ والدین، اساتذہ، علما اور معاشرے کے تمام ذمہ دار افراد کو نئی نسل کی تربیت میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ بچوں کو موبائل دینا آسان ہے، لیکن انہیں موبائل کے صحیح استعمال کا شعور دینا اصل تربیت ہے۔ انہیں یہ سمجھانا ہوگا کہ ہر تصویر دیکھنے کے لیے نہیں، ہر ویڈیو دیکھنے کے لیے نہیں اور ہر لنک کھولنے کے لیے نہیں ہوتا۔
اسی طرح یہ مسئلہ صرف خواتین یا صرف مردوں کا مسئلہ نہیں۔ نگاہ کی حفاظت ہر فرد کی ذمہ داری ہے۔ ہمیں دوسروں کے لباس، کردار اور حرکات پر تنقید کرنے سے پہلے اپنی نگاہ اور اپنے رویے کا محاسبہ کرنا چاہیے۔ اصلاح کا آغاز ہمیشہ اپنی ذات سے ہوتا ہے۔
آج سوشل میڈیا نے ہمیں ایک ایسی دنیا میں پہنچا دیا ہے جہاں ہماری انگلی کا ایک لمس ہمیں بے شمار مناظر تک لے جاتا ہے۔ اس لیے آج نگاہ کی حفاظت پہلے سے کہیں زیادہ مشکل ضرور ہے، لیکن اس کی ضرورت بھی پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ ہمیں اپنے موبائل کا استعمال اپنی ضرورت تک محدود رکھنا ہوگا اور ایسی چیزوں سے خود کو بچانا ہوگا جو ہماری حیا، سکون اور پاکیزگی کو متاثر کرتی ہیں۔
یاد رکھنا چاہیے کہ پاکیزہ نگاہ صرف آنکھوں کی حفاظت نہیں کرتی؛ یہ دل، سوچ، کردار، گھر اور معاشرے کی حفاظت کرتی ہے۔
آئیے آج ہم دوسروں کی نگاہوں کا حساب لینے کے بجائے اپنی نگاہوں کا محاسبہ کریں۔ اپنے موبائل کی اسکرین پر انگلی رکھنے سے پہلے ایک لمحے کے لیے سوچیں کہ جو کچھ میں دیکھنے جا رہا ہوں، کیا میں اسے اپنے رب کے سامنے بھی دیکھنا پسند کروں گا؟
شاید معاشرے کی اصلاح کا آغاز کسی بڑے قانون یا بڑے نعرے سے نہیں، بلکہ ایک فرد کے اس چھوٹے سے فیصلے سے ہو کہ وہ غلط منظر سامنے آنے پر اپنی نگاہ ہٹا لے گا، اسکرین بند کر دے گا اور اپنے دل سے کہے گا: مجھے ہر چیز دیکھنے کی ضرورت نہیں، مجھے اپنی نگاہ کی حفاظت کرنی ہے۔