ایک اچھا مقرر اور خطیب


اللہ تعالیٰ نے انسان کو اظہارِ خیال کی بے مثال نعمت عطا کی ہے۔ یہی نعمت جب علم، حکمت، اخلاص اور حسنِ اخلاق کے ساتھ استعمال ہو تو ایک عام انسان کو بہترین مقرر اور مؤثر خطیب بنا دیتی ہے۔ خطابت محض خوبصورت الفاظ یا بلند آواز کا نام نہیں، بلکہ دلوں کو جوڑنے، شعور بیدار کرنے اور معاشرے میں خیر و اصلاح کا پیغام عام کرنے کا مؤثر ذریعہ ہے۔
ایک اچھا مقرر وہ ہوتا ہے جو اپنے سامعین کی ذہنی سطح، حالات اور ضروریات کو سمجھتے ہوئے مدلل، شائستہ اور مؤثر انداز میں گفتگو کرے۔ اس کی گفتگو میں سچائی، تحقیق، اعتدال اور شائستگی نمایاں ہوتی ہے۔ وہ اپنی بات کو مثالوں، دلائل اور حکمت کے ساتھ پیش کرتا ہے تاکہ سننے والے نہ صرف اس کی بات سمجھیں بلکہ اس پر غور بھی کریں۔
حقیقی خطیب کی سب سے بڑی خوبی اس کا کردار ہوتا ہے۔ اگر اس کے قول و فعل میں تضاد ہو تو اس کی بہترین تقریر بھی دیرپا اثر نہیں چھوڑتی۔ اس کے برعکس، جب کردار پاکیزہ اور عمل مثالی ہو تو اس کے الفاظ دلوں میں گھر کر جاتے ہیں۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ کردار، خطابت کی سب سے بڑی طاقت ہے۔
ایک ذمہ دار خطیب معاشرے میں نفرت، تعصب اور انتشار کے بجائے محبت، اخوت، رواداری اور اتحاد کا پیغام دیتا ہے۔ وہ اختلافِ رائے کو برداشت کرتا ہے، دوسروں کی عزت کرتا ہے اور لوگوں کو اخلاق، دیانت داری، خدمتِ خلق اور مثبت سوچ کی طرف راغب کرتا ہے۔ اس کی گفتگو امید پیدا کرتی ہے اور لوگوں کو نیکی، امن اور خیر کے راستے پر چلنے کی ترغیب دیتی ہے۔
بہترین مقرر بننے کے لیے مسلسل مطالعہ، وسیع مشاہدہ، اچھی زبان، درست تلفظ، اعتماد، صبر اور مسلسل مشق ضروری ہے۔ عظیم مقررین نے برسوں کی محنت، مطالعے اور عملی تجربے کے بعد خطابت کے میدان میں کامیابی حاصل کی۔ نوجوان اگر کتابوں سے دوستی کریں، اہلِ علم کی گفتگو سنیں اور مثبت موضوعات پر اظہارِ خیال کی مشق جاری رکھیں تو وہ بھی مؤثر خطیب بن سکتے ہیں۔
آج کے دور میں سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل ذرائع نے اظہارِ خیال کے بے شمار مواقع فراہم کیے ہیں۔ ایسے میں ہر مقرر اور خطیب کی ذمہ داری پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے کہ وہ اپنی زبان کو سچائی، اعتدال اور ذمہ داری کے ساتھ استعمال کرے۔ ایسے الفاظ سے گریز کیا جائے جو نفرت، انتشار یا بداعتمادی کو فروغ دیں، اور ایسی گفتگو کو فروغ دیا جائے جو دلوں کو جوڑے، سوچ کو نکھارے اور معاشرے میں خیر کا سبب بنے۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ ایک اچھا مقرر صرف لوگوں کو متاثر نہیں کرتا بلکہ ان کی سوچ، کردار اور زندگی پر مثبت اثر بھی چھوڑتا ہے۔ جب علم، اخلاص، کردار اور حسنِ بیان ایک ساتھ جمع ہو جائیں تو خطابت عبادت کا درجہ اختیار کر لیتی ہے۔ ایسے باکردار اور باوقار خطیب ہی ایک مہذب، باشعور اور ترقی یافتہ معاشرے کی حقیقی بنیاد ہوتے ہیں۔