
گوجر خان کے معروف خطاط ،کاتب اور ماہر قانون میاں زاہد علی ایڈووکیٹ کے بارے میں حسن نواز شاہ اپنی کتاب ”تذکرہ علمائے گوجر خان” میں صفحہ نمبر 428پر رقم طراز ہیں کہ ”میاں زاہد علی29جولائی 1960(شناختی کارڈ پر یکم جون 1961درج ہے جو درست نہیں)کو میاں محمد غوث (م:29مارچ1980)کے ہاں گوجر خانوادے (گوت:برے) میں بہ مقام گوجر خان پیدا ہوئے ،انکے والد گرامی اندازاََ1949میں ڈومیلی/جہلم سے گوجر خان منتقل ہوئے تھے ،
انہوں نے گورنمنٹ ایم سی بوائز ہائی سکول گوجر خان سے 1977میں میٹرک کیا،بعد ازاں سرور شہید کالج گوجر خان میں ایف ایس سی میں داخلہ لیا مگر بہ وجوہ پڑھائی ترک کرنا پڑی اور 1982میں نجی طور پر ایف اے کیا،1984میں سرور شہید کالج سے بی اے کرنے کے بعد 1985میں پنجاب یونیورسٹی لاء کالج لاہور میں داخلہ لیا اور 1988میں ایل ایل بی مکمل کی،1974میں انکے بڑے بھائی میاں امجد علی (م:28جولائی 2022)نے گوجر خان پرنٹرز کا آغاز کیا تو میاں صاحب بھی انکا ہاتھ بٹانے لگے ،
1981میں انہوں نے استاد محمد فیاض پینٹر(فیاض پینٹر/گوجر خان)سے خطاطی سیکھنے کا آغاز یا،1982تا1984حافظ محمد اعجاز اعوان (لیاقت روڈراولپنڈی)سے بھی اکتساب کیا،1985میں لاہور قیام کے دوران صوفی خورشید عالم خورشید رقم(1923۔30مئی 2004) کے سامنے زانوئے تلمذ طے کیااور1988تک ان سے استعفادہ کیا،1988میں وہ لاء کی تکمیل کے بعدواپس گوجر خان آگئے اور خورشید رقم کی تجویز پہ اسلام آباد میں مقیم جاوید اقبال یوسفی(خالد جاوید یوسفی درست نام ہے،کتاب میں غلطی سے جاوید اقبال یوسفی لکھا گیاہے،فیصل عرفان) سے اسباق کی تکمیل کی ۔”
خالد جاوید یوسفی نے صفدر حسین راجا کی کتاب ”بہار نستعلیق ”دوم ایڈیشن کے صفحہ نمبرب۔ج پر ”ایک دِیا”کے زیر عنوان اپنے مضمون میں میاں زاہد علی ایڈووکیٹ کو اپنی شاگردی میں لینے کا واقعہ بھی بہت دلچسپ انداز میں بیان کیا ہے جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ شاگرد سے کہیں زیادہ استاد اس بات پر شاداں تھے کہ میاں زاہد علی ایڈووکیٹ انکی شاگردی میں آئے ہیں۔خالد جاوید یوسفی اپنے مضمون کے ابتدائیہ میں لکھتے ہیں کہ ”یہ غالباََ1989کی بات ہے
کہ گوجر خان سے ایک صاحب تشریف لائے اور استاد گرامی حضرت صوفی خورشید عالم خورشید رقم (جانشین تاج الدین زریں رقم)کا ایک رقعہ نما خط مجھے دیا۔اس میں یہ حکم تھا کہ ان موصوف کے اسباق جاری رہنے چاہئیں ۔یہ میرے لیے حیرت اور اعزازکا ایک ناقابل یقین احساس تھا جسے بیان کرنا ممکن نہیں۔یہ صاحب اس دوران میری طرف متوجہ رہے ۔ذہین آنکھیں …چہرے سے بڑھ کر مسکراتی ہوئیں۔یہ تھے میاں زاہد ایڈوکیٹ اور منیجر گوجر خان پرنٹرز،جو لاہور میں اپنی قانون کی تعلیم مکمل کر چکے تھے،ساتھ ہی اپنا فنی ذوق و شوق حضرت صوفی صاحب کی خدمت میں حاضر ہوکر پورا کرتے تھے ۔ابھی اسباق نامکمل تھے کہ ایل ایل بی کا دورانیہ ختم ہوگیا ۔اس پس منظر میں ناچیز کو وہ حکم نامہ ملا۔”
میاں زاہد علی ایڈووکیٹ نے 13مارچ2026کو گوجر خان میں راقم (فیصل عرفان)سے بالمشافہ ملاقات میں بتایا کہ انہوں نے 1979میں پہلی بار بُچہ شریف والے پیروں کا اشتہار لکھا،1979کے بلدیاتی انتخابات میں گوجر خان میں اکیلے کاتب تھے ،مختلف امیدواروں کے مختلف انتخابی اشتہارات اور انتخابی نشان جیسے گھوڑا،لالٹین،ہیٹ وغیرہ بنا کر دیتے تھے ،
اشتہارات بنوانے والوں کا رش لگا رہتا تھا اور بعض امیدوار ساتھ ہی زمین پر بیٹھ کر اپنے اشتہارات کی کتابت کرواتے تھے ۔لاہور میں کوپر روڈ پر اور راولپنڈی میں لیاقت روڈ پر حافظ اعجاز دارالکتابت میں کمرشل کتابت کرتے رہے ہیں۔1985میں سلمان منصور پوری کی کتاب ”سفر نامہ حجاز”کی کتابت کی، اے حمید اور احمد عقیل روبی بھی کتابت کرواتے رہے ۔انہیں یہ اعزاز حاصل ہے کہ پروفیسر احمد رفیق اختر کی کتاب ”مقدمہ القرآن”کا خطی سرورق انہوں نے بنایا تھا،جو بعد میں آنیوالی اس کتاب کی تمام اشاعتوں کیلئے اب تک استعمال ہورہا ہے۔نمایاں شاگردوں میں صفدر حسین راجا اور اسرار سوہاوی شامل ہیں۔میاں زاہد علی کی تینوں صاحبزادیاں بھی فن خطاطی سے منسلک ہیں۔