طالب آرائیں/انسان دولت حاصل کرنے کے لیے کیسی کیسی ترکیبیں آزماتا ہے کیونکہ خواہشات کی تکمیل اور تعیشات کا حصول انسانی کمزوریوں میں سے ایک بڑی کمزوری ہے ہر انسان اپنی زندگی کو ہر دنیاوی سہولت سے آراستہ دیکھنا چاہتا ہے اپنی اس خواہش کو پالنے اور اس کی تکمیل کی جدوجہد بھی ہر انسان کا بنیادی حق ہے لیکن ایساتو نہیں ہونا چاہیے کہ اپنے خوابوں اور تمناؤں کا محل کسی دوسرے کے گھروندے کو مسمار کر کے تعمیر کیا جائے ہمارے معاشرے میں اپنی ذات اور اپنے خاندان کو بہتر زندگی کی فراہمی کے لیے قانونی غیر قانونی اور حرام حلال کی تمیز کیے بغیر ہر وہ کام کیا جارہا ہے جس سے دنیاوی آسائشوں کا حصول ممکن ہوسکے جان بچانے کی ادویات سے جعلی کوکنگ آئل اور مصالحہ جات تک کیمیکل سے بنے دودھ سے لے کر دیسی گھی تک استعمال کی ہر شے میں ملاوٹ کی جاتی ہے کیونکہ ہمارے یہاں جزاء وسزا کا تصور سرے سے موجود ہی نہیں‘جعلی اور دونمبر اشیاء کی تیاری کے علاوہ پیسہ بنانے کا بہت ہی آسان نسخہ منشیات فروشی کا کاروبار ہے جو مجاز اداروں کے کرپٹ سربراہان کی کرپشن اور سیاسی پشت پناہی کے باعث پورے ملک میں اپنے عروج پر ہے انسان کی حرص اس کے ضمیر کو تھپک کر اس طرح سُلا دیتی کہ اسے اپنی غلط کاری اور اپنے غیر قانونی غیر اخلاقی عمل سے کسی دوسری انسان کی تباہ ہوتی زندگی کا قطعی احساس نہیں ہوتا ملک بھر کی طرح تحصیل گوجر خان میں بھی منشیات فروشی کا یہ گھناونا کاروبار اپنے عروج پر ہے۔ بیول اور اس کے گرد ونواح میں بھی مستقبل میں ملک کی بھاگ ڈور سنبھالنے والی نسل نو کو اس زہر کا عادی بنایا جارہا ہے۔ اندیشے اور تفکرات گہرے ہورہے ہیں کہ منشیات فروشی علاقے میں انڈسٹری کا روپ دھار رہی ہے۔ اطلاعات یہ بھی ہیں بیول میں روز در آنے والی خوبرو بھکارنیں بھی منشیات فروشی کررہی ہیں خبر یہ بھی ہیں کہ مبینہ طور پر یہ بھکاری خواتین اور لڑکیاں منشیات فروشی کے علاوہ نوجوانوں کو دعوت گناہ دے کر بے راہ روی کا شکار بھی بنا رہی ہیں۔لیکن اس پر کوئی آواز اُٹھانے یا ایکشن کرنے پر آمادہ نہیں۔کیا ایس ایچ او گوجرخان کو منشیات فروشی کے اڈوں کا علم نہیں کیا انہیں بیول کے نواحی گاوں میں کمسن بچوں سے منشیات فروشی کا علم نہیں۔کیا بھکاری خواتین کے مکروہ دھندے کی بھنک نہیں۔سب علم ہے لیکن ایکشن لینا بووجہ ممکن نہیں۔سوچنے کی بات یہ ہے کیا قانون اور عوام دونوں اپنے فرائض کی پاسداری کر رہے ہیں جواب نفی میں ہے کیونکہ یہاں قانون صرف کتابوں میں درج کرنے کے لیے بنائے جاتے ہیں بالادستی کے لیے نہیں جس دن ملک میں قانون کانفاد اس کی اصل روح کے مطابق ہوگیا اس دن اندھیر نگری چوپٹ راج کا تاریک دور بھی ختم ہوجائے گا ورنہ ہمیں تباہی سے کوئی نہیں بچاسکتا اور بے شمار سمجھوتوں میں الجھی یہ قوم ایک خوشگوار اور طاقت ور معاشرے کی پرورش نہیں کرسکے گی یہ قدرت کا نظام ہے کہ ہر چیز اپنے وقت اور مقام پر ہی اچھی لگتی ہے مگر جب زندگی موت سے قبل ختم ہوجائے اور قانون کا استعمال کمزورپڑ جائے تو شعور کسی ناگہانی سے آگاہ کرتا ہے۔ہم اپنی کشتی کے خود ہی نگہبان ہیں لہروں پر ڈولتی اس کشتی کو ہم ڈبو دیں یا ساحل پر لے جائیں فیصلہ ہم نے ہی کرنا ہے۔بولیں اُواز اُٹھائیں ہر اس برائی پر جو آپکے معاشرے اور آپکی نسل نو کو دھیرے دھیرے زہر آلودہ کر رہی ہے۔مطالبہ کریں قانون کی عملداری کا اُٹھ کھڑے ہوں ہر اس راشی افسر کے خلاف جو اپنی زندگی کو پرآسائش بنانے کے لیے آپکی زندگیوں کو جہنم بناتے ہوں بولیں اس پہلے کہ دیر ہوجائے۔