پاکستان میں صوبائیت کا بیج اس وقت سے بو دیا گیا تھا جب پاکستان معرض وجود میں آیا۔ سب سے پہلے لسانی بنیادوں پر بنگالی سیاستدانوں نے آئین 1956 جوپہلے ہی دیگر بہت سی وجوہات کی بنا پر تاخیر کا شکار تھا، کی راہ میں رکاوٹ ڈالی اور اردو زبان کو مشترکہ قومی زبان تسلیم کرنے سے انکار کر دیا حالانکہ اردو زبان بنگال سمیت ملک کے تمام صوبوں میں سمجھی جاتی تھی لیکن بنگالی زبان بنگال کے علاوہ کہیں بھی بولی اور سمجھی نہیں جا تی تھی لہٰذا قومی زبان کے لیے اردو سے زیادہ مناسب کوئی زبان نہ تھی لیکن بنگالی سیاستدانوں نے صوبائی تعصب کی وجہ سے تنہا اردو کو قومی زبان تسلیم نہ کیا لہٰذا مجبوراً اردو کے ساتھ بنگالی کو بھی قومی زبان کا درجہ دینا پڑا۔ اس کے باوجود ان کے دلوں سے صوبہ پرستی نہ نکلی اور اپنے صوبے کے لیے نت نئے مطالبات کرتے رہے رفتہ رفتہ ان کے مطالبات بڑھتے گئے اور ایک دن ان کے یہی مطالبات پاکستان کو دولخت کرنے کا باعث بنے۔پاکستان کو یوں دو ٹکڑے ہوتے دیکھ کر بھی ہمارے سیاستدانوں نے سبق نہ سیکھا اور ملک کے دوسرے صوبوں میں بھی صوبہ پرستی کو ہوا دیتے رہے۔ کبھی سندھو دیش کے نعرے لگے تو کبھی عظیم تر بلوچستان کے نعرے لگائے گئے، کبھی پختونستان کا راگ الاپا گیا اور کبھی مہاجر قوم کے نام پر انتشار پھیلایا گیا۔ صوبائیت پرستی نے ملک کو بہت نقصان پہنچایا، جس سے اغیار نہ فائدہ اٹھانے کی بھرپور کوشش کی۔انہوں نے علیحدگی پسندوں کو ہر طرح کا تعاون فراہم کیا اور انہیں مالی فوائد کی لالچ دے کر پاکستان کے خلاف اکسایا اور پاکستان کو توڑنے کی بھرپور کوشش کی۔ را کے جتنے بھی جاسوس پکڑے گئے وہ دوردراز اور سہولیات سے محروم علاقوں میں تخریب کاری میں ملوث پائے گئے جس کا اعتراف انہوں نے خود کیا۔ ان کی انہیں تحریبی کاروائیوں کی وجہ سے پاکستان کے محروم علاقوں کے لوگ علیحدگی پسند بنے اور پاکستان کو پھر سے توڑنے کی سازشوں میں شریک ہوئے پوٹھوار‘ہزارہ کراچی اور جنوبی پنجاب کو اگر انتظامی ضروریات کے پیش نظر صوبے بنا ئیں جائے تو یہ الگ بات ہے کیونکہ انتظامی بنیادوں پر صوبے بنتے اور ٹوٹتے رہتے ہیں۔ یعنی اگر حکومت اور انتظامیہ یہ محسوس کرے کہ کوئی صوبہ آبادی یا رقبے کے لحاظ سے بہت بڑا ہے اور انتظامیہ کے لیے اس کی دیکھ بھال مشکل ہو رہی ہے تو پھر کسی بھی صوبے کی تقسیم اور نئے صوبے کی بنیاد رکھنے میں کوئی قباحت نہیں بلکہ ضرورت کے مطابق ایسا کرنا فائدہ مند ہوتا ہے۔ لیکن اگر لسانی یا قومی بنیادوں پر صوبے بنائے جائیں یا کسی صوبے کی تقسیم کی جائے کہ کسی خاص زبان جیسے اردو اور سرائیکی زبانیں بولنے والے افراد لسانی بنیاد پر صوبوں کا مطالبہ کریں یا کوئی خاص قوم اپنے لیے نئے صوبے کا مطالبہ کرے تو یہ بات ملکی سالمیت کے لیے خطرناک ثابت ہوتی ہے۔ پھر اس کا وہی نتیجہ نکلتا ہے جو 1971میں بنگلہ دیش کی صورت میں ہم بھگت چکے ہیں کہ اس وقت بھی لسانی و صوبائی تعصب رفتہ رفتہ بڑھتا رہا اور ملک کو دوٹکڑے کرنے کا سبب بنا وزیراعظم عمران خان نے حال ہی میں ناراض بلوچوں سے ملنے کا عندیہ دیا ہے جو کہ نہایت خوش آئند ہے۔ اس سے ان میں احساس محرومی کم ہو گا اور وہ پاکستان کے خلاف کسی سازش کا حصہ نہیں بنیں گے۔ وزیر اعظم کو چاہیے کہ وہ اس کار خیر میں مزید تاخیر نہ کریں اور ایک پروگرام ترتیب دے کر نہ صرف بلوچوں بلکہ سندھ کے بھی محروم طبقات سے ملاقاتیں کریں، اسی طرح پنجاب کے دور دراز دیہاتوں اور خیبر پختونخواہ کے قبائلی علاقوں کے عمائدین سے ملاقاتیں کر کے انہیں قومی وحدت کا حصہ بنائیں۔اسی طرح وفاقی حکومتوں کو چاہیے کہ وہ ملک کے دور دراز علاقوں کو احساس محرومی سے نکالنے کے لیے انہیں ملک کے دیگر علاقوں کی طرح سہولیات فراہم کی جائیں بلکہ بہتر یہ ہو گا کہ ان علاقوں میں تعلیمی ادارے قائم کیے جائیں تاکہ ان لوگوں میں شعور پیدا ہوا اور وہ ملک سے نفرت کی بجائے محبت کرنے لگیں، انہیں اپنے پرائے کی پہچان ہو۔ وہاں صنعتیں بھی قائم کی جائیں تاکہ ان لوگوں کو روزگار ملے اور انکا معیار زندگی بلند ہو۔یوں صوبائیت پرستی کا خاتمہ ممکن ہو گا اور ملک دشمن عناصر کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ضیاء الرحمن ضیاء ؔ