
صابر بھائی انتہائی نفیس مخلص اور مسکراہٹیں بکھیرنے والا بہترین انسان ہے۔ آپ پنجاب کے گاؤں تلونڈی موسیٰ خان میں پیدا ہوئے جو پسرور روڈ گوجرانوالہ کے نزدیک ہے۔ آپ نے پنجاب یونیورسٹی سے اردو میں ایم اے کیا اور اسی یونیورسٹی سے ماس کمیونیکیشن میں ڈی ایس سی یعنی پی جی ڈی کا ایک سالہ ڈپلومہ کیا۔
آپ کے پاس اتنے عہدے ہیں کہ میں سن کر حیران و ششدر رہ گیا۔ میں نے کم از اتنے زیادہ سرگرم آدمی ساری زندگی نہیں دیکھا۔ معلوم نہیں یہ بندہ اپنے گھر والوں کو کیسے وقت دیتا ہوگا۔ آپ کے پاس بہت سے عہدے ہیں جن کو اگر میں لکھنا شروع کر دوں تو ایک صفحہ بھر جائے گا۔ بحر حال چند کام ملاحظہ فرمائیں۔
آپ اس وقت بانی منہاس ویل فیر سوسایٹی تلونڈی موسیٰ خان ہیں۔ بانی و صدر ہائی سکولز فیلوز گروپ۔ بانی ممبر بزم بزم عدم جو فلاحی ، ادبی اور سیاسی تنظیم ہے۔ آپ آج کل پریزیڈنٹ گوجرانوالہ پنجاب پیس کونسل بھی ہیں۔ آپ اس وقت ظہور مارکی میں چیف ایگزیکٹو اینڈ جنرل مینیجر بھی ہیں۔ اسکے علاوہ بیشمار کام آپ نے سنبھالے ہوئے ہیں۔
آپ ادب کے میدان میں روشن ستارے کی مانند جگمگ جگمگ کر رہےہیں۔ آپکی پہلی کتاب جو شعری مجموعہ ہے جس کا نام ہے “ایک بس تیری نگاہ ضروری ہے”۔ اس کا تزکرہ روزنامہ جنگ اور روزنامہ خبریں میں بھی چھپ چکا ہے۔ آپ کا سابقہ عہدہ منہاس راجپوت برادری میں مرکزی سیکریٹری فنانس اور نشر واشاعت تھا۔ آپ کا موجود عہدہ چیف آرگنائزر آل پاکستان و کشمیر منہاس راجپوت فیڈریشن ہے۔
آپ نے یوتھ اور مرکزی باڈی کا منشور مرتب کیا۔ آپ کے 4 بھائی اور ایک بہن ہے۔ بھائیوں کے نام یہ ہیں۔نزر حسین منہاس ، ڈاکٹر مظہر حسین منہاس ، حافظ منور حسین منہاس ، اور صابر حسین منہاس شاملِ ہے۔ آپ کی تین بیٹیاں ہیں جنکے نام ملاحظ فرمائیں ۔آئمہ صابر , فبیہ صابر اور ام حبیبہ صابر شامل ہیں۔ اللہ پاک انکے نصیب اچھے کرے آمین۔
جب میں نے صابر حسین منہاس سے والد گرامی اور والدہ کے بارے میں دریافت کیا تو چند لمحوں کے لیے خاموش ہو گئے اور پھر خاموشی نے دم توڑ دیا اور دھیمے لہجے میں بولے کہ میرے والدین اب اس دنیا میں نہیں ہیں اور پھر کیا ہوا کہ زندگی یکسر بدل گئی۔ کہنے لگے میرے والد گرامی کا نام غلام حسین منہاس مرحوم یے اور والدہ کا نام جب میں زبان سے نکالوں تو میں انکی گود میں یک دم چلا جاتا ہوں اور یوں محسوس کرتا ہوں کہ وہ مُجھے آج بھی لوری دے رہی ہوں۔ کہنے لگے کہ میری کل کائنات میری والدہ کا نام نسیم بی بی مرحوم ہے۔ بس والدہ کی وفات کے بعد زندگی ںے معنی ہو کر رہ گئی۔
پھر میں نے صابر حسین کو دوسری جانب کردیا کیونکہ وہ خود کو اس دُنیا کا مسافر نہیں بلکہ آخری دنیا کا فرد محسوس کررہے تھے۔ آپ کا مشغلہ کتابوں کا مطالعہ اور شعر و شاعری ہے۔ کہنے لگے کہ تلونڈی موسیٰ خان میں مقامی سطح پر کوئی لائیبریری نہیں تھی پھر میرے ایک کلاس فیلو نوید رحمانی نے جاپان سے دس برس پہلے 70 ہزار روپے بھیجے اور ہم نے وہاں لائیبریری بنوا دی۔ وہ لائیبریری بغیر پیسوں کے چل رہی ہے۔
میں اور میرے دوستوں کہنے پر افتخار سکندر چیمہ نے جو افریقہ میں 34 ممالک کا پریزیڈنٹ ہے اس نے 25 لاکھ روپے ابتدا میں بھیجواےء اور جہاں کچرا تھآ وہاں باغ، بزم عدم کا آفس اور لائبریری بنوا دی۔ فری ڈسپنسری بنوائی جہاں دو سو لوگ بغیر پیسے دیے علاج کروا ریے ہیں ۔ اب تک 60 لاکھ افتخار سکندر چیمہ بھجوا چکے ہیں اور یہ کام ساری زندگی کرتے رہیں گے انشاء اللہ۔ افتخار سکندر چیمہ نے یہ بہترین سوچ اور احسن اقدامات کر کے ساری دنیا میں پاکستان اور اپنے علاقے کا نام روشن کر دیا ۔ یہ سب دوست عبدلستار عیدی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔
ہم سب دوست ہر رمضان میں غریب اور مستحق افراد کی چپکے سے مدد کرتے ہیں۔ انکو گھر جا کر ٹوکن دیتے ہیں اور وہ ٹوکن لے کر اس دوکان میں جاتے ہیں جہاں سے انہوں نے راشن لینا ہوتا ہے۔ دیکھنے والے کہتے ہیں کہ یہ اپنی جیب سے راشن لے رہا یے۔ لہزا اسکی عزت محفوظ رہ جاتی ہے۔ بے شمار غریب افراد کو نوکریاں دلوا کر سکون محسوس کر رہے ہیں۔
کہتے ہیں کہ میرے ایک دوست نے پچھلے سال 7 Air Coular دیے اور وہ ہم نے بیواؤں اور یتیموں کے حوالے کر دیے۔ صابر حسین منہاس انتہائی ملنسار خوش مزاج اور ارد گرد کے لوگوں کی بے پناہ خدمات اپنے دوستوں اور گروپ کے ساتھ مل کر کام کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ کبھی کبھی تو مجھے یہ محسوس ہوتا ہے کہ یہ شخص دن کا کھانا بھی دوسروں کی مدد کرتے ہوئے قربان کر دیتا ہو گا۔ محفل میں خاموش بیٹھا رہتا ہے مگر اندر سے لفظوں کی مالا اپنے دل و دماغ میں پروتا جاتا ہے۔
دوستوں کے ساتھ بھائی بن کر زندگی گزار رہے ہیں۔ انکی غیر موجودگی میں اس کے ڈھیروں دوست صابر بھائی کی تعریف کرتے ہیں جن میں چوہدری اشرف منہاس راجہ رجحان قمر اور چوہدری طارق حیدر منہاس سر فہرست ہیں۔ صابر حسین منہاس رشتے داروں دوستوں اور محلے اور علاقے کے تمام افراد کوایک ہی انداز سے ملتے ہیں۔ جب کوئی دوست راولپنڈی یا اسلام آباد سے گوجرانولہ چلا جائے تو مہمان نوازی میں صابر بھائی اور چوہدری اشرف اور چوہدری طارق حیدر فرام پسرور کوئی کسر نہیں چھوڑتے۔ الوداع ہونے سے پہلے گوجرانولہ کی سوغات گاڑی کی چابی لے کر گھاڑی کے پیچھے رکھ دیتے ہیں۔ جب ہم گاڑی میں بیٹھتے ہیں تومعلوم ہوتا ہے کہ ان دوستوں نے بیشمار سوغات اور تحفے گاڑی میں رکھ دیے۔
اللہ پاک صابر حسین منہاس انکے خاندان انکے رشتے داروں اور دوستوں کو صحت مند زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے اور ساری زندگی اتحاد و اتفاق میں رہنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔صابر بھائی جھوٹ بولنے والوں کے سامنے بھی نہیں بیٹھتا اور جب کسی منافق آدمی کو دیکھتا ہے تو مجھے یہ محسوس ہوتا ہے کہ یہ اپنے دماغ میں یہ شعر دہرا رہا ہے ۔ شعر ملاحظہ فرمائیں اور پھر اللہ حافظ ۔
جھوٹ بولا ہے ظفر تو
اس پہ قاءیم بھی رہو
آدمی کو صاحبِ کردار ہونا چاہیے ۔