رسول اکرم شفیع اعظمﷺسے عشق و وفا‘محبت وعقیدت وفاداری جاں نثاری کی جو لازوال مثال جاں نثار پہرے دار وفادار صحابہ اکرام ؓ نے پیش کی وہ کسی ثبوت وتعارف کی محتاج نہیں۔ دنیا میں کسی جماعت نے اپنے نبی کے ساتھ دل وجان اور اپنی روح سے ایساعشق نہیں کیا ایسی محبت وعقیدت کے مثالیں پیش نہیں کیں جیسی صحابہ کرام ؓ نے امام الانبیاء حضرت محمد مصطفی احمد مجتبیٰﷺ سے کیں۔چشم فلک نے بھی وہ منظربھی دیکھاجب نبیﷺ کے جاں نثار وفادار صحابہ کرامؓ نے اپنا سب کچھ نبی کریم روف الرحیمﷺ پرقربان کردیا اولاد کنبہ قبیلہ خاندان وطن گھر مال و دولت حتی کہ جان بھی تو اللہ نے انہیں دنیامیں چلتا پھرتاجنتی قراردیا۔
جنت کی بشارت ملنے کے باوجود انہوں نے وہ کام کیے جن کا حکم دیاگیا ان تمام کاموں سے رک گئے جن کا حکم نہیں دیا گیا تھایا پھرجوکام رسول اللّہﷺ نے نہیں کئے شیرخدا حضرت سیدنا علی المرتضیٰؓ سے کسی نے پوچھا صحابہ کرامؓ کی رسول اللہﷺ سے محبت کیسی تھی توحیدر کرارؓ نے فرمایا اللہ کی قسم ہمیں اپنے اموال والدین اولاد جان حتی کہ سب سے بڑھ کر آپﷺ محبوب ہیں۔ حضرت سیدنا ابو سفیانؓ کہ وہ تاریخی کلمات بھی درج ہیں کہ میں نے کبھی کسی ایسے شخص کونہیں دیکھا جو دوسروں سے ایسی محبت کرتاہوجیسی محبت اصحاب الرسولﷺ اپنے رسول سے کرتے ہیں۔ صحابہ کرامؓ وہ عظیم ہستیاں ہیں
جنہوں نے اپنا مال اولاد کنبہ قبیلہ خاندان جائیداد حتی کہ سب کچھ قربان کرنے کے بعد نبیﷺ کی محبت میں برہنہ تلواروں کے سامنے خودکو پیش کردیتے لیکن ان سب کے باوجود کوئی ایک مثال بھی ایسی نہیں پیش کی جاسکتی کہ نبی کریم روف الرحیمﷺ کے چہرہ انور کی ایک جھلک دیکھ کر سب کچھ قربان کرنے والے اور ایک جھلک چہرہ انور کی زیارت کرنے کیلئے ترسنے والوں نے کبھی نبی کی محبت کے نام پر خودسے ہی دین اسلام میں کسی بات کا اضافہ کیاہو یادین اسلام کے خلاف کوئی کام کیا ہویا اپنے ہوش وحواس کھو کر عجیب وغریب کام کئے ہوں۔
نبی اکرم شفیع اعظمﷺنے جوفرمایاجیسے فرمایاجتنا ارشادفرمایا یاجن افعال واقوال مبارک کاحدیث و سنت میں حکم دیا اس سے ایک قدم بھی آگے بڑھے ہوں یاعشق کے نام پراپنی طرف سے دین اسلام میں کوئی تبدیلی کی ہویعنی کہ صحابہ کرامؓ نے پیروی وفاداری جاں نثاری کرکہ بتایا کہ اطیعواللہ واطیعوالرسول کیسے کی جاتی ہے اللّٰہ رب العزت نے اپنے محبوب نبی کی زندگی کاایک ایک حسین و جمیل لمحہ محفوظ کیاآپﷺ کی تعلیمات محفوظ ہیں آپﷺ کی احادیث مبارکہ محفوظ ہیں آپﷺ کاقول وعمل محفوظ ہے آپﷺ کی ولادت باسعادت سے لیکر وصال تک ایک ایک واقعہ ایک ایک تذکرہ ایک ایک جھلک ایک ایک لمحہ صبح شام کے زندگی کے ایام محفوظ ہیں جن کوقرآن مجید نے اسوہ حسنہ قراردیاجن کو بیان کرنا ان پر عمل کرنا مسلمان کیلئے بصیرت‘حکمت‘ برکات اور نزول رحمت سے خالی نہیں۔
قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے آج کے دن ہم نے دین اسلام مکمل کردیا آج ہمارے سامنے قرآن مجید موجودہے احادیث مبارکہ موجود ہیں نبی کریم روف الرحیمﷺ کی مبارک زندگی موجود ہے خوشی ہویاغمی غربت ہویا خوشحالی صحت وتندرستی ہویاکہ بیماری پاکی ناپاکی کے مسائل ہوں یا حلال حرام کے مسائل پڑوسی کے حقوق ہوں یاعزیز واقارب کے حقوق رشتے داروں کے معاملات ہوں یا اپنے گھر والوں سے حسن سلوک تجارت ہو یا عبادت زندگی میں پیش آنے والے واقعات ہوں یاکہ موت کے بعد کے طریقہ کار اسلام نے شریعت
محمدی نے قدم قدم پر ہماری راہنمائی کی ہماری نجات اسی میں ممکن ہے کہ ہم بعینہ وہی کام کریں جن کا ہمیں شریعت نے حکم دیا لیکن آج ہماری خوشی و غمی میں ایسے ایسے کام ایجاد ہوچکے ہیں جن کا شریعت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں اس سے بھی بڑھ کر وہ کام جن کی شریعت میں اجازت نہیں وہ کام کئے جارہے ہیں اور لیبل شریعت کالگاکرلیکن جب منع کیاجاتاہے تو جواب ملتا ہے کہ دین میں منع کہاں ہے حالانکہ کہ یہ نہیں سوچتے کہ دین اسلام میں کوئی کمی نہیں کوئی ایسا حکم نہیں جسے بیان ناکیاگیاہو اگر کوئی کمی ہوتی تو رب العالمین یہ اعلان نا کرتے کہ دین اسلام مکمل ہے اوریہ اعلان بھی ناہوتا رب کے ہاں پسندیدہ دین صرف اور صرف دین اسلام ہے مباح سنت واجب فرض یہ سب شرعی درجات ہیں جن کا تعین صرف شریعت کے ذریعہ سے ہی ممکن ہے مستحب کا سہارا لیکر ان کے درجات تک رسائی حاصل کرنا سنگین جسارت ہے کیونکہ دین جذبات کانام نہیں اور اللہ اور اللہ کے رسول سے محبت کایہ مطلب ہرگز نہیں کہ اظہار محبت اور عقیدت کا دائرہ وسیع کرکہ نئے طریقے اسلام کے نام پرایجادکرلئے جائیں۔
حقیقی محبت کا تقاضا کامل اتباع میں ہی پوشیدہ ہے اللہ و رسول اللّہ ﷺ سے محبت وعقیدت کے طور طریقے آداب وہدایات سب کچھ دین اسلام میں واضح ہے کچھ بھی پوشیدہ نہیں جب یہ سب کچھ موجود بھی ہے واضح بھی ہے صحابہ کرام ؓ کی زندگیاں ان پر عمل کرتے گزریں تو پھر ہمیں من پسند عادات وخیالات کا اظہار کرنے کی بجائے انہیں طریقوں پر چلنا چاہیے جن پر صحابہ کرامؓ چلے جو دین اسلام میں بیان کردہ ہیں یا جن کا حکم رسول اللّہ ﷺ کی طرف سے دیا گیاہے ان تمام امور سے بچناچاہیے جو دین اسلام میں نہیں یاجن کا حکم نہیں دیا گیا یہی حقیقی محبت کی تقاضا بھی ہے اور یہی کامل واکمل اتباع ہے اسی میں نجات کا راز پوشیدہ ہے۔