دیوالی کی آتشبازی،بھارت سے آنیوالی آلودہ ہواؤں سے لاہور میں سموگ مزید بڑھنے کا خدشہ

لاہور(پنڈی پوسٹ نیوز)دیوالی کی آتش بازی اور بھارت سے آنے والی آلودہ ہواؤں کے باعث لاہور میں فضائی آلودگی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے، محکمہ تحفظ ماحولیات پنجاب نے خصوصی رپورٹ جاری کردی۔رپورٹ کے مطابق دیوالی کی رات بھارتی پنجاب سے آلودہ ہوائیں لاہور پہنچنے کا خدشہ ہے، بھارت میں آتش بازی کا دھواں 5 سے 13 گھنٹوں میں لاہور پہنچ سکتا ہے، لاہور، قصور اور سرحدی علاقوں میں اتوار کی رات سے پیر کی صبح تک فضائی آلودگی خطرناک حد تک بڑھنے کا امکان ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ لاہور کا ایئر کوالٹی انڈیکس 7 نومبر کو 272 جبکہ 8 نومبر کو دوپہر ایک بجے تک اوسطاً 335 ریکارڈ کیا گیا، لاہور میں فضائی آلودگی غیر صحت بخش سے انتہائی غیر صحت بخش سطح پر پہنچ گئی۔8 نومبر کو دوپہر ایک بجے فضائی آلودگی کا انڈیکس 294 ریکارڈ کیا گیا جبکہ گزشتہ روز اسی وقت یہ شرح 163 تھی، ایک ہی وقت کے دوران فضائی آلودگی کے انڈیکس میں 131 پوائنٹس کا فرق ریکارڈ کیا گیا۔

ناسا کی سیٹلائٹ تصاویر کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارتی پنجاب اور ہریانہ میں 7 نومبر کے مقابلے میں 8 نومبر کو دھند اور آلودگی کی تہہ مزید گہری ہوگئی، بھارتی شہر امرتسر سے لاہور کا فضائی فاصلہ تقریباً 50 کلومیٹر ہے اور آلودہ ہوائیں چند گھنٹوں میں سرحد عبور کرسکتی ہیں۔رپورٹ کے مطابق بھارت سے مشرقی ہواؤں کی رفتار 7 سے 11 کلومیٹر فی گھنٹہ رہنے کی پیش گوئی ہے، دیوالی کی آتش بازی، فصلوں کی باقیات جلانے اور رات کے وقت ساکن ہواؤں کے باعث آلودگی میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔

لاہور میں دیوالی سے پہلے رات کے وقت باریک آلودہ ذرات کی مقدار 202 مائیکروگرام فی مکعب میٹر جبکہ دوپہر کے وقت 75 مائیکروگرام فی مکعب میٹر ریکارڈ کی گئی۔محکمہ تحفظ ماحولیات پنجاب کے مطابق بھارتی پنجاب میں 4 نومبر تک فصلوں کی باقیات جلانے کے 2 ہزار 347 واقعات رپورٹ ہوئے، ان میں سے ایک ہزار 81 واقعات لاہور اور قصور کے سامنے واقع تین اضلاع میں پیش آئے۔

بھارتی اضلاع ترن تارن میں 558، فیروزپور میں 316 اور امرتسر میں 207 مقامات پر آگ لگانے کے واقعات رپورٹ ہوئے، بھارتی پنجاب میں فصلیں جلانے کے مجموعی واقعات کا 46 فیصد لاہور اور قصور کے سامنے واقع اضلاع میں ریکارڈ کیا گیا۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بھارتی دارالحکومت دہلی میں 7 نومبر کو فضائی آلودگی کا انڈیکس 455 ریکارڈ کیا گیا جبکہ 8 نومبر کی رات ایک بجے یہ انڈیکس 744 تک پہنچ گیا۔

محکمہ تحفظ ماحولیات کے مطابق لاہور میں پیر 9 نومبر کی صبح 10 بجے تک فضائی آلودگی کی بلند ترین سطح رہنے کا خدشہ ہے۔پیر کی دوپہر ایک سے پانچ بجے کے دوران آلودگی میں عارضی کمی کا امکان ہے تاہم پیر کی رات فضائی آلودگی دوبارہ بڑھ سکتی ہے جبکہ منگل کو بھی صورتحال انتہائی غیر صحت بخش رہنے کا خدشہ ہے۔

رپورٹ کے مطابق بدھ 11 نومبر سے ہواؤں کا رخ تبدیل ہونے پر فضائی آلودگی میں معمولی کمی متوقع ہے جبکہ 12 اور 13 نومبر کو بارش اور تیز ہواؤں سے آلودگی میں کمی کا امکان ہے، تاہم اس پیش گوئی کو غیر یقینی قرار دیا گیا ہے۔محکمہ تحفظ ماحولیات پنجاب کے مطابق صوبے میں یکم اکتوبر سے 4 نومبر تک فصلوں کی باقیات جلانے کے 459 واقعات رپورٹ ہوئے جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں 637 واقعات سامنے آئے تھے۔

رواں سال رپورٹ شدہ واقعات میں 28 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، یکم اکتوبر سے 2 نومبر تک فصلوں کی باقیات جلانے پر 57 مقدمات بھی درج کیے گئے۔محکمہ تحفظ ماحولیات کی جانب سے فضائی آلودگی کی نگرانی کے لیے 24 گھنٹے مانیٹرنگ جاری ہے جبکہ رات کے وقت خصوصی ٹیمیں بھی متحرک ہیں۔

شہریوں کو فضائی آلودگی کی انتہائی غیر صحت بخش سطح پر بیرونی سرگرمیاں محدود رکھنے، خطرناک صورتحال میں گھروں کے اندر رہنے اور ضرورت پڑنے پر این 95 ماسک استعمال کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔محکمہ تحفظ ماحولیات نے بچوں، بزرگوں اور سانس و دل کے مریضوں کو خصوصی احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ منگل 10 نومبر کو دیوالی کی رات کے بعد فضائی آلودگی کے حقیقی اثرات کی پیمائش پر مبنی تقابلی رپورٹ جاری کی جائے گی۔