
جماعت اسلامی پاکستان کے زیرِ اہتمام مرکزی تین روزہ تربیت گاہ 3 جولائی سے 5 جولائی تک منصورہ، ملتان روڈ لاہور میں منعقد ہوئی۔ اس تربیت گاہ میں فیصل آباد اور پاکپتن سے ارکان اور کارکنان کی بڑی تعداد نے شرکت کی یہ تربیت گاہ جماعت اسلامی کی سالانہ تربیتی سرگرمیوں کا اہم حصہ ہے، جس کا بنیادی مقصد کارکنان کی فکری، اخلاقی، تنظیمی اور دینی تربیت، مطالعے کا ذوق پیدا کرنا اور انہیں عصرِ حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہے۔
مجھے بھی اس بابرکت تربیت گاہ میں شرکت کا موقع ملا، جو میرے لیے ایک یادگار اور علمی و روحانی تجربہ ثابت ہوا۔ تربیت گاہ کا آغاز نمازِ جمعہ سے ہوا، جہاں امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے خطبۂ جمعہ دیتے ہوئے امتِ مسلمہ کو اتحاد، تقویٰ، دیانت، عدل اور خدمتِ خلق کا پیغام دیا عوامی مسائل کرپشن حکمران طبقہ کی عیاشیوں پر تفصیلی خطاب کیا انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ حالات میں عوام کو اپنے حق کے لیے منظم انداز میں نکلنا ہو گا جماعت اسلامی کے علاوہ کوئی پارٹی عوامی مسائل پر بات نہیں کرنی کشمیر کے حالات پر قومی قیادت سے ملاقات کر رہے ہیں انہوں نے کہا نوجوانوں کی دینی و اخلاقی تربیت اور کردار سازی وقت کی اہم ضرورت ہے اور جماعت اسلامی اسی مقصد کے لیے مسلسل جدوجہد کر رہی ہے۔
تربیت گاہ کے ناظم حافظ سیف الرحمن نے تین روزہ پروگرام کو نہایت منظم انداز میں ترتیب دیا۔ تین دن کے دوران نظم و ضبط، وقت کی پابندی، رہائش، طعام، صفائی، مطالعہ، عبادات اور تمام انتظامات مثالی رہے، جنہوں نے شرکاء پر خوشگوار اثرات مرتب کیے۔
تربیتی نشستوں سے ڈاکٹر اسامہ رضی، سید وقاص انجم جعفری، مولانا جاوید قصوری، ڈاکٹر طارق سلیم، ڈاکٹر بابر رشید مولانا عبدالمالک حافظ محمد ادریس پروفیسر عظمت اور دیگر مرکزی و صوبائی قائدین، علمائے کرام، دینی اسکالرز اور اہلِ علم نے مختلف موضوعات پر مدلل اور فکر انگیز خطابات کیے محترم لیاقت بلوچ اپنے دورہ ایران کی وجہ سے شرکاء تربیت گاہ سے خطاب نہ کر سکے مقررین نے قرآن و سنت کی روشنی میں دعوتِ دین، تنظیمی استحکام، اسلامی معاشرت، نوجوانوں کی ذمہ داریاں، ملکی حالات، خدمتِ خلق، سیاسی شعور اور اجتماعی جدوجہد جیسے اہم موضوعات پر رہنمائی فراہم کی۔
منصورہ کا سرسبز، پُرسکون اور خوشگوار ماحول تربیت گاہ کی خوبصورتی کو مزید دوبالا کر رہا تھا۔منصورہ ایڑٹوریم کا ٹھنڈا موسم، بہترین انتظامات، باجماعت نمازیں، تلاوتِ قرآن، اجتماعی دعائیں، مطالعہ، علمی نشستوں نے شرکاء کے دلوں میں دین سے وابستگی اور تنظیمی شعور کو مزید مضبوط کیا شرکاء تربیت گاہ سے علم، فکر، نظم و ضبط اور عملی زندگی کے لیے نئی توانائی حاصل کی۔
بلاشبہ یہ تین روزہ تربیت گاہ اپنے تمام مقاصد کے حصول میں کامیاب رہی۔ اس نے شرکاء کی علمی استعداد میں اضافہ کیا، دینی شعور کو جلا بخشی، تنظیمی وابستگی کو مضبوط کیا اور معاشرے میں مثبت کردار ادا کرنے کا نیا جذبہ پیدا کیا۔ ایسی تربیتی سرگرمیاں افراد سازی، کردار سازی اور ایک صالح معاشرے کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ امید ہے کہ اس تربیت گاہ کے اثرات شرکاء کی ذاتی، سماجی اور تنظیمی زندگی میں نمایاں طور پر ظاہر ہوں گے اور وہ اپنے اپنے علاقوں میں دین کی دعوت، عوامی خدمت اور اصلاحِ معاشرہ کے مشن کو مزید مؤثر انداز میں آگے بڑھائیں گے۔