تھانہ چونترہ مشہور قتل کیس ایک ہی خاندان کے9افراد کے قاتل ملزمان کو5/5مرتبہ سزائے موت

راولپنڈی ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج راولپنڈی ماجد حسین گادھی نے تھانہ چونترہ کے مشہور ایک ہی خاندان کے 9 افراد کے قتل میں نامزد 4 ملزمان کو 5/5 مرتبہ موت کی سزا سنانے کے ساتھ 1 ملزم کو 5 مرتبہ عمر قید کی سزا سنادی ہے عدالت نے پانچوں ملزمان کو 5 لاکھ روپے فی کس جرمانے کی سزا بھی سنائی ہے جبکہ عدالت نے ہر ملزم کو مقتولین کے ورثا کو 1 لاکھ روپے فی کس ہرجانہ بھی ادا کرنے کا حکم دیا ہے عدالت نے یہ فیصلہ ملزمان کی اپیل پر ہائی کورٹ کے احکامات کے تحت مقدمہ کی از سر

نو سماعت کے بعد جاری کیا عدالت نے ازسرِ نو سماعت کے بعد ٹرائل کورٹ کے سابقہ فیصلے کو بحال رکھتے ہوئے حکم دیا کہ ملزمان کی موت واقع ہونے تک انہیں پھانسی پر لٹکایا جائے تھانہ چونترہ پولیس نے 25 جولائی 2020 کو نذر عباس سکنہ میال کی مدعیت میں انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ7 اے ٹی اے کے علاوہ تعزیرات پاکستان کی دفعات 302 ،324، 449،145 اور 149کے تحت

درج مقدمہ نمبر 247 درج کیا تھاجس میں ملک رب نواز اس کے 2 بیٹوں اوربھائی سمیت 25 افراد کو نامزد کیا گیا تھا جن میں 10 نامعلوم افرادشامل تھے مقدمہ کے متن کے مطابق 24 جولائی 2020 کی رات رب نواز کے بیٹے دانش نے بابر کے ہمراہ محمد عارف کے گھر میں موجود اس کی اہلیہ 32سالہ ازران بی بی اور 3سالہ بیٹے محمد عثمان کو شدید زخمی کر دیا جس سے اس کی اہلیہ موقع پر دم توڑ گئی اسی دوران رب نواز نے اپنے بیٹے محمد اکرم کے ہمراہ اندھا

دھند فائرنگ کر کے 55 سالہ نثار بی بی اور 45 سالہ مسماۃ سلیم اختر کو گولیوں سے چھلنی کر دیا جبکہ رب نواز کے بھائی محمد اشرف نے عابد، عاقب، طاہر، جاوید اقبال اور قیصر کے ہمراہ اس کے بھائی اظہر عباس کے گھر داخل ہو کر اندھا دھند فائرنگ کر دی جس سے صبیحہ بی بی، سدرہ بی بی، انزلہ بی بی، عابدہ شاہین اور بچی ایمان فاطمہ موقع پر جاں بحق ہو گئے جبکہ فائرنگ سے محمد عثمان، نور فاطمہ، محمد ابراہیم اور محمد علی زخمی ہوگئے ایف

آئی آر کے مطابق محمد ریاض، سلیم، حمزہ، تاج، اور محمد عارف سمیت 10 نامعلوم مسلح افراد بھی اس واقعے میں شامل تھے کلاشنکوفوں اور جدید اسلحہ سے لیس ملزمان نے متاثرہ گھروں کا محاصرہ کئے رکھا اور اندھا دھند فائرنگ کر کے پورے گاؤں میں شدید خوف وہراس پھیلایا ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج راولپنڈی راجہ فیصل رشید نے مقدمہ کا ٹرائل مکمل ہونے پر 30 اپریل 2024 کو سنائے گئے فیصلے میں مقدمہ کے مرکزی ملزم ملک رب نواز کو اس کے بھائی محمد اشرف، بیٹے دانش نواز اور قریبی عزیز محمد عاقب کو جرم ثابت ہونے پر 5،5 مرتبہ سزائے موت اور دوسرے بیٹے اکرم نواز کو 5 مرتبہ عمر قید کی سزا سنائی تھی جبکہ تیسرے بیٹے عابد نواز کے علاوہ ان کے قریبی عزیزوں طاہر محمود، حمزہ، محمد سلیم، قیصر، وسیم بابر اور جاوید

اقبال پر مشتمل 7 ملزمان کو شک کا فائدہ دے کر بری کر دیا تھا اور سردار وسیم نامی ملزم کودوران تفتیش پہلے ہی پولیس نے بے گناہ قرار دے دیا تھا جبکہ مقدمہ میں نامزد تاج نامی ملزم دوران ٹرائل 18 اپریل 2024 کو انتقال کر گیا تھا  یاد رہے کہ خون کی یہ ہولی دونوں گروپوں میں سابقہ دشمنی اور وقوعہ سے 4 روز قبل مرکزی ملزم ملک رب نواز کی اہلیہ کے قتل کا نتیجہ تھا جس کا بدلہ لینے کے لئے ملک رب نواز گروپ نے مخالفین کی 5خواتین اور4 بچوں کو ابدی نیند سلا دیا تھا