کسی بھی ریاست کی ترقی اور خوشحالی کو پرکھنا ہو تو اس کے محکموں کی مضبوطی اور کارکردگی کو دیکھا جاتا ہے کیونکہ محکمے ہی کسی ریاست کی ساکھ کو بحال رکھنے میں کردار ادا کرتے ہیں اگر کوئی محکمہ یا ادارہ اپنے فرائض کی بجاآوری میں ناکام رہتا ہے تو نقصان اس ادارے یا محکمے کا نہیں بلکہ عوام ریاست اور خود محکمے پر اس کا برا اثر ہوتا ہے۔مثال ہے کہ اگر پولیس اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کرتی تو اس کا اثر عدالتوں پر پڑے گا عدالتیں کمزور ہوں گی تو عوام متاثر ہوں گے۔اگر ایمانداری سے تجزیہ کریں تو ہمارے محکمے ہر طرح سے ناکام ہیں ان میں بیٹھے نااہل افسران واہلکار اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے سے قاصر ہیں ان میں زیادہ یا کم تنخواہوں کے ساتھ مراعات لینے والے سرکاری اہلکار کیا کررہے ہیں کیوں نہ ان کو گھر بھیج دیا جائے اور خرچ بچا کر لوگوں کی داد رسی پر خرچ کیا جائے کیونکہ ان محکموں کا ہونا یا نہ ہونا عوام کے لیے برابر ہے کوئی محکمہ ایسا نہیں جو اپنے فرائض کی ادائیگی کو احسن طور ادا کرتا نظر آئے۔سب سے زیادہ نااہل ا ور کرپٹ محکمہ پولیس کا ہے جس کا کام تنخواہوں کی وصولی اور عوام کی جیبوں پر ڈاکے مارنا ہی رہ گیا یہاں تک کہ ملک کی سلامتی اور ریاستی مفادات کو بھی نظر انداز کرکے ذاتی مفادات کے حصول کو ترجع دینا معمول ہے۔ پاکستان میں موجود افغان باشندوں کو واپس بجھوانا ریاست کی پالیسی ہے افغان باشندوں کو سرچ کرنا اور انہیں واپس بھجوانے کے عمل میں پولیس کا اہم کردار ہے لیکن کیا ہورہا ہے گوجرخان اور گرد ونواح میں موجود افغانیوں کی ایک بڑی تعداد اب بھی پولیس کی نظروں سے اوجھل ہے گوجرخان کے سینئر صحافی راجہ ضیاالحق مسلسل افغانیوں کی موجودگی اور پولیس کردار کی نشاندھی کررہے ہیں۔لیکن ان کے علاوہ باقی قلمکار خاموش ہیں۔راجہ ضیاالحق کی اس حوالے سے لکھی جانے والی تحریروں پر آنے والے کمنٹس میں لوگ نشاندھی کرتے ہیں کہ پولیس ریاستی پالیسی کو فالو کرنے کے بجائے اس مسلے میں بھی رشوت خوری میں مصروف ہے۔راجہ ضیاالحق اس حوالے سے قابل تعریف کردار ادا کررہے ہیں کیونکہ ہم نے انسانی ہمدردی کے تحت چالیس پینتالیس سال افغانیوں کو پالا یہ لوگ اپنی فطرت کے مطابق کیمپوں سے نکل کر پورے پاکستان میں پھیلے اور پھر ملک بھر میں جرائم پنپنے لگے۔ہیروئین‘ کلاشنکوف اور دیگر برائیاں ہمارے ہاں در آئیں لیکن سے زیادہ افسوسناک پہلو یہ رہا کہ یہ لوگ اس دھرتی کا احسان ماننے کے بجائے اس دھرتی پر بھی افغانی رہے وہ پاکستان کو برا بھلا کہنے اور مذہبی تہواروں پر عوامی پوائنٹس پر افغانی جھنڈے اٹھائے تفریح کے لیے آنے والی پاکستانی خواتین سے چھیڑ چھاڑ کرتے نظر آتے رہے۔چوری لوٹ مار اور نوسربازیاں ان کا شیوا رہا۔ان کی اکثریت ناجائز اسلحہ اور منشیات کے کاروبار سے جڑی رہی۔ معمولی تلخ کلامی پر مقامی لوگوں پر ہجوم کی صورت تشدد کے سینکڑوں واقعات رپورٹ ہوتے رہے۔ان کی نمک حرامی کا ثبوت انڈیا پاکستان میچوں میں بھی نظر آتی رہی پاکستانی جھنڈے جلانے اور پاوں تلے روندنے کی وڈیوز بنا کر اپ لوڈ کی جاتی رہیں۔بھارت کی حمایت اور پاکستان کی مخالفت ان کا خاصہ ہے جب یہ لوگ میرے وطن سے دشمنی کریں گے تو میں انہیں کیونکر پسند کروں گا۔جن لوگوں کو افغانیوں سے ہمدردری ہے وہ میرے نزدیک محب وطن نہیں۔گوجرخان اور بیول میں بے شمار افغانی اب بھی کاروبار کررہے ہیں جنہیں کچھ مقامی مفاد پرست لوگوں کی۔پشت پناہی حاصل ہے پولیس کو ملک سے وفاداری کا ثبوت دیتے ہوئے افغانیوں کو مکان دوکان دینے والوں اور انہیں تحفظ فراہم کرنے والے مقامی افراد کے خلاف بھی قانون کے مطابق کارروائی کرنا چاہیے یاد
رکھیں اپنی مٹی سے وفاداری حلالی خون کی نشانی ہوتی ہے پیسہ ضرورت ہے لیکن یہ ضرورت وطن کی قیمت پر پوری نہیں ہونا چاہیے۔راجہ ضیا ء الحق کو سلام کرتا ہوں کہ وہ گوجرخان میں اس مسلے پر قلم کے ذریعے جہاد میں مصروف ہیں۔عوام الناس کو بھی ان کا ساتھ دینا چاہیے۔ آواز،بلند کریں۔نشاندھی کریں‘ملک میں امن کے لیے ہمیں اپنا اپنا فرض ادا کرنا چاہیے
طالب حسین آرائیں