کی ترقی جو مُسلمان نے فرنگی بن کر

محمد شفیق اعوان


اَسَدؔ مُلتانی مرحوم نے کیا خوب کہا تھا:
؎کی ترقی جو مُسلمان نے فرنگی بن کر
وہ فرنگی کی ترقی ہے، مُسلمان کی نہیں
یہ دو مصرعے بظاہر مختصر ہیں، مگر اپنے اندر ایک پورا فکری جہان سموئے ہوئے ہیں۔ شاعر نے ترقی کے اُس تصوّر پر سوالیہ نشان لگایا ہے جس میں مسلمان اپنی اصل شناخت، اپنی تہذیبی اقدار، اپنے دینی تصورات اور اپنے اخلاقی اصولوں کو پسِ پشت ڈال کر مغرب کی ظاہری چمک دمک کو ترقی کا معیار سمجھ لیتا ہے۔ شاعر کا مقصود یہ نہیں کہ مسلمان علم، سائنس، طب، صنعت، ٹیکنالوجی یا جدید وسائل سے دُور رہے؛ بلکہ اصل تنبیہ یہ ہے کہ علم اور وسائل دوسروں سے لیے جا سکتے ہیں، مگر زندگی کا مقصد، نظریۂ حیات اور اخلاقی معیار اندھی تقلید سے نہیں لیے جا سکتے۔ ان کی اچھی بات قرآن اور احادیث مبارکہ کی کسوٹی پر پرکھی جاٸے گی۔جو اس معیار پر پوری اتری وہ ہماری گم شدہ میراث ہے۔
اسلام نے کبھی علم اور ترقی کی مخالفت نہیں کی۔ قرآنِ مجید میں اللّہ نے بار بار انسان کو غوروفکر، تدبر، مشاہدہ اور تحقیق کی دعوت دی ہے۔ مسلمانوں نے جب قرآن کے اس پیغام کو اپنی زندگی کا حصّہ بنایا تو وہ علم و حکمت کے میدان میں دُنیا کے رہنما بن گئے۔ طب، ریاضی، فلکیات، بصریات، جغرافیہ، فلسفہ اور دیگر علوم میں مسلمانوں کی خدمات تاریخ کا روشن باب ہیں۔ اس لیے یہ کہنا درست نہیں کہ اسلام ترقی کے راستے میں رکاوٹ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام ترقی کو اخلاق، عدل اور انسانیت کے تابع کرتا ہے۔بلکہ دِینِ اسلام ہی ترقی یافتہ نظام ہے۔
مسئلہ اُس وقت پیدا ہوتا ہے جب مسلمان ترقی کے نام پر ، غیروں کی تہذیب و تمدن کی نقالی شروع کر دیتا ہے۔ وہ لباس سے لے کر زبان تک، تعلیم سے لے کر معاشرت تک، معیشت سے لے کر سیاست تک، حتیٰ کہ خوشی اور غم کے پیمانوں تک دوسروں کا محتاج ہو جاتا ہے۔ پھر اسے اپنی تہذیب دقیانوسی اور دوسروں کی تہذیب جدید دکھائی دینے لگتی ہے۔ یہی وہ ذہنی غلامی ہے جس پر اَسَدؔ مُلتانی کا شعر ایک زوردار تازیانہ ہے۔
ترقی یا اندھی تقلید؟
ترقی اور اندھی تقلید میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ ترقی یہ ہے کہ انسان اپنے اصولوں پر قائم رہتے ہوئے نئے علوم، نئے ذرائع اور نئے تجربات سے فائدہ اٹھائے۔ اندھی تقلید یہ ہے کہ وہ محض اس لیے کسی قوم کے طور طریقے اختیار کر لے کہ وہ قوم طاقتور، مال دار یا ترقی یافتہ سمجھی جاتی ہے۔
مسلمان اگر جدید سائنس پڑھتا ہے، نئی ٹیکنالوجی استعمال کرتا ہے، صنعت قائم کرتا ہے، جدید طب سے فائدہ اٹھاتا ہے، جدید ذرائع ابلاغ کو بروئے کار لاتا ہے تو یہ فرنگی بننا نہیں؛ بلکہ علم و حکمت سے فائدہ اٹھانا ہے۔ لیکن اگر وہ ان وسائل کے ساتھ ساتھ مادّہ پرستی، خدا اور مذہببے زاری، بے حیائی، خاندانی انتشار، خود غرضی، الحاد، اخلاقی بے راہ روی اور روحانی بے مقصدیت کو بھی ترقی سمجھ کر قبول کر لے تو پھر شاعر کا اعتراض بالکل بجا ہے۔
دِینِ اسلام کا مطالبہ یہ ہے کہ انسان دنیا کو مسخّر کرے، مگر دنیا کا غلام نہ بنے؛ علم حاصل کرے، مگر علم کو اخلاق سے جدا نہ کرے؛ دولت کمائے، مگر دولت کو معبود نہ بنا لے؛ طاقت حاصل کرے، مگر ظلم و زیادتی اور ناانصافی کے لیے استعمال نہ کرے۔
قرآن مجید کا اصول: تبدیلی اندر سے آتی ہے۔ قرآن مجید میں اللّہ تعالٰی کا ارشاد اسی حقیقت کی طرف رہنمائی کرتا  ہے:
ترجمہ: ”ہر شخص کے آگے اور پیچھے اس (اللّٰہ )کے مقرر کیے ہوئے نگراں لگے ہوئے ہیں جو اللّٰہ کے حکم سے اس کی دیکھ بھال کر رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اللّٰہ کسی قوم کے حال کو نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنے اوصاف کو نہیں بدل دیتی۔ اور جب اللّٰہ کسی قوم کی شامت لانے کا فیصلہ کر لے تو پھر وہ کسی کے ٹالے نہیں ٹل سکتی ،نہ اللّٰہ کے مقابلے میں ایسی قوم کا کوئی حامی و مددگار ہو سکتا ہے” (سورۃ الرعد آیت 11 )، تفہیم القرآن جلد 2، ادارہ ترجمان القرآن پرائیویٹ لمیٹڈ لاہور، اشاعت اپریل 1982ء، صفحہ 448، 449 
مولانا ظفرٓ  علی خانؒ  نے اس حکم کی کتنی خوبصورت ترجمانی کی ہے:
؎خدا نے آج تک اُس قوم کی حالت نہیں بدلی 
نہ ہو جِس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا
یہ آیت مسلمانوں کے لیے ایک عظیم اصول پیش کرتی ہے۔ قوموں کی ترقی محض سڑکیں، عمارتیں، کارخانے، مشینیں اور بلند و بالا عمارات بنانے سے نہیں ہوتی۔ حقیقی ترقی اُس وقت شروع ہوتی ہے جب انسان کے اندر ایمان، کردار، محنت، دیانت، نظم و ضبط، علم، احساسِ ذمہ داری، اعلی اخلاق اور اجتماعی شعور پیدا ہو۔
اگر عمارتیں بُلند ہوں مگر کردار پست ہوں، اگر بازار آباد ہوں مگر ضمیر ویران ہوں، اگر دولت کے انبار ہوں مگر عدل نہ ہو، اگر علم بہت ہو مگر اخلاق نہ ہوں، تو ایسی ترقی کا انجام انسان کو انسان سے دُور کر دیتا ہے۔
مغرب سے علم لو، مگر اپنی روح نہ بیچو۔ علامہ اقبالؔ نے اسی حقیقت کو نہایت جامع انداز میں بیان کیا:
؎اپنی مِلّت پر قياس اقوامِ مغرب سے نہ کر
خاص ہے ترکيب ميں، قومِ رسولِ ہاشمیؐ
ان کی جمعيت کا ہے ملک و نسب پر انحصار
قوتِ مذہب سے مستحکم ہے جمعيت تیری
دامنِ ديں ہاتھ سے چھوٹا تو جمعيت کہاں
اور جمعيت ہوئی رخصت تو مِلّت بھی گٸی!
ُُکُلیاتِ اقبال اُردُو از علامہ محمد اقبالؒ ،غ ع ،اشاعت فروری 1973ء،
صفحہ 248
اقبالؔ کا پیغام یہ ہے کہ مسلمان اپنی اجتماعی زندگی کا معیار صرف دوسری قوموں کو بنا کر نہ دیکھے۔ مسلم معاشرے کی بنیاد محض نسل، قوم قبیلہ، زبان، جغرافیہ، علاقہ یا وطن پر نہیں بلکہ عقیدہ توحید و رسالت، اخلاق، اخوت اور دینِ اسلام پر قائم ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اقبالؔ نے مغربی تہذیب کی ہر چیز کو رد نہیں کیا، بلکہ اُس کی روحانی کمزوری اور مادّی غلبے پر تنقید کی۔ ان کے نزدیک مغرب کی علمی اور سائنسی کامیابیاں قابلِ مطالعہ ہیں، مگر اُس تہذیب کا مادّہ پرستانہ فلسفہ قابلِ تقلید نہیں۔
اقبالؔ اور مشینی تہذیب
علامہ اقبالؔ نے مغربی تہذیب کے مادّی پہلو پر تنقید کرتے ہوئے اپنی نظم “لینن” میں فرمایا:
؎ظاہر میں تجارت ہے، حقیقت میں جُوا ہے
سود ایک کا لاکھوں کے لیے مرگِ مفاجات! 
یہ عِلم، یہ حِکمت، یہ تدبّر، یہ حکومت !
پیتے ہیں لہُو، دیتے ہیں تعلیمِ مساوات!
بیکاری و عُریانی و مَے خواری و افلاس
کیا کم ہیں فرنگی مدنیّت کی فتوحات؟
ایضاً صفحہ 399، 400 
یہاں اقبالؔ مشین کے خلاف نہیں، مشین کی حکومت کے خلاف ہیں۔ مشین انسان کی خدمت کرے تو نعمت ہے؛ انسان مشین کا پرزہ بن جائے تو زحمت ہے۔ سائنس انسان کے لیے ہو تو رحمت ہے؛ انسان سائنس اور مادّی مفاد کا غلام بن جائے تو یہی ترقی تباہی کا ذریعہ بن سکتی ہے۔
آج کا انسان بظاہر پہلے سے زیادہ طاقتور ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا وہ پہلے سے زیادہ مطمئن بھی ہے؟ اس کے پاس رابطے کے بے شمار ذرائع ہیں، مگر دلوں کے درمیان فاصلے بڑھ رہے ہیں۔ اس کے پاس معلومات کے خزانے ہیں، مگر حکمت و داناٸی کم ہوتی جا رہی ہے۔ اس کے پاس وقت بچانے والی مشینیں ہیں، مگر وقت کی قدر و قیمت کم ہوتی جا رہی ہے۔
ہم مسلمانوں کا ماضی شاندار ہے،اس پر فخر کر سکتے ہیں، لیکن ہم کو اس ترقی کے سفر جاری رکھنا ہے۔ صرف زبانی کلامی نہیں۔علامہ نے خوب کہا ہے:
؎تھے تو آ با وہ تمہارے ہی، مگر تم کیا ہو؟
ہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظر فردا ہو!
ایضاً صفحہ 201 
ایک اور موقع پر علامہ نے فرمایا ہے:
؎خبر نہیں کیا ہے نام اس کا، خدا فریبی کہ خُود فریبی؟
عمل سے فارغ ہُوا مسلماں بنا کے تقدیر کا بہانہ
ایضاً صفحہ 687
اکبرؔ الہ آبادی کا طنزیہ آئینہ
اکبرؔ الہ آبادی نے برصغیر میں مغربی تہذیب کی اندھی تقلید کے خلاف طنز کا ایسا آئینہ دکھایا جس میں آج کا معاشرہ بھی اپنا چہرہ دیکھ سکتا ہے۔ اکبرٓ الہ آبادی کہتے ہیں:
؎تعلیم جو دی جاتی ہے ہمیں وہ کیا ہے فقط بازاری ہے
جو عقل سکھائی جاتی ہے وہ کیا ہے، فقط سرکاری ہے
اور:
؎رنگ چہرے کا تو کالج نے بھی رکھا قائم
رنگِ مذہب میں مگر باپ سے بیٹا نہ ملا
اکبرؔ کی تنقید تعلیم کے خلاف نہیں، ایسی تعلیم کے خلاف ہے جو انسان کو اپنی تہذیبی جڑوں سے کاٹ دے۔ تعلیم اگر انسان کو صرف روزگار کے قابل بنائے مگر اسے اچھا انسان  اور اچھا مسلمان نہ بنائے تو وہ تعلیم ادھوری ہے۔ اگر کالج انسان کو زبان تو دے مگر تہذیبو اخلاق نہ دے، عقل تو دے مگر کردار نہ دے، ہنر تو دے مگر مقصدِ زندگی نہ دے تو اس کے نتائج پر غور کرنا ضروری ہے۔
اسی طنزیہ انداز میں اکبرؔ کہتے ہیں:
؎یوں قتل سے بچوں کے وہ بدنام نہ ہوتا
افسوس کہ فرعون کو کالج کی نہ سوجھی
یہ شعر دراصل اُس تعلیمی نظام پر طنز ہے جو جسمانی قتل کے بجائے ذہنی و تہذیبی غلامی پیدا کرے۔ البتہ اس شعر کو سمجھتے ہوئے یہ بات ملحوظ رہنی چاہیے کہ تعلیم بذاتِ خود مسئلہ نہیں؛ مسئلہ ایسی تعلیم ہے جو انسان کو اپنی شناخت اور اخلاقی ذمہ داری سے بیگانہ کر دے۔
مسلمان کی حقیقی ترقی کیا ہے؟
مسلمان کی ترقی یہ ہے کہ وہ ایمان میں مضبوط، علم میں بلند، کردار میں پاکیزہ، عمل میں پُرعزم، معاشرے میں مفید اور دنیا کے لیے باعثِ خیر بھلاٸی بنے۔
وہ جدید طب پڑھے مگر مریض کو محض ایک “کیس” نہ سمجھے۔ وہ جدید معیشت سمجھے مگر حرام و حلال کی تمیز نہ کھوئے۔ وہ جدید سیاست پڑھے مگر سیاست کو خدمت کے بجائے اقتدار کا کھیل نہ بنائے۔ وہ جدید سائنس پڑھے مگر خالقِ کائنات کو بھول نہ جائے۔ وہ جدید ذرائع ابلاغ استعمال کرے مگر اپنی آنکھ، زبان اور وقت کی حفاظت کرے۔ وہ دنیا کی ترقی سے فائدہ اٹھائے مگر اپنی آخرت کو دنیا کے قدموں میں قربان نہ کرے۔
یہی متوازن ترقی ہے۔
قرآنِ مجید میں اللّہ تعالٰی نے اہلِ ایمان کی دُعا بھی یہی سکھائی:
﴿رَبَّنَآ ءَاتِنَا فِي ٱلدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي ٱلْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ ٱلنَّارِ﴾
ترجمہ:” اور کوئی کہتا ہے کہ اے ہمارے رب ہمیں دنیا میں بھی بھلائی دے اور آخرت میں بھی بھلائی، اور آگ کے عذاب سے ہمیں بچا ۔“ (سورۃ البقرہ آیت 201 )
ترجمہ قرآن مجید مع مختصر حواشی از مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی، ادارہ ترجمان القرآن پرائیویٹ لمیٹڈ لاہور اشاعت مارچ 1998ء، صفحہ 97 
ہم مسلمانوں کو یہ دُعا بار بار کرنی چاہیے: “اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی عطا فرما اور آخرت میں بھی بھلائی، اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔” ہمہیں اپنے اندر اور باہر سے دورنگی اور منافقت ختم کرنی چاہیے۔اللّہ اور اللّہ کے رسول محمدﷺ کو منافقت سخت ناپسند ہے۔
دِینِ اسلام دنیا کو چھوڑنے کا نہیں بلکہ دنیا کو درست طریقے سے استعمال کرنے کا دین ہے۔یہ دین انسان کی فطرت کے مطابق ہے۔علم حاصل کرو، مگر علم کو مقصد بناؤ
مسلمانوں کے زوال کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ ہم نے علم کو عمل سے جدا کر دیا۔ کبھی ہم ماضی کی عظمت پر فخر کرتے ہیں اور کبھی مغرب کی موجودہ ترقی کو دیکھ کر احساسِ کمتری میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ دونوں رویے نقصان دہ ہیں۔ ہم مسلمانوں کو اپنے قول و فعل کے تضاد کو ختم کرنا چاہیے۔
مسلمان کو نہ اپنے ماضی کے قصّے سنا کر مطمئن ہونا چاہیے اور نہ دوسروں کی نقالی کرکے خود کو ترقی یافتہ سمجھنا چاہیے۔ اسے اپنا مستقبل خود تعمیر کرنا چاہیے۔ علامہ محمد اقبالؒ نے کہا ہے:
؎عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنّم بھی
یہ  خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے
ایضاً صفحہ 274 
محمد رسول اللّہ ﷺ نے فرمایا:
“طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِيضَةٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ”
ترجمہ: “علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔” سنن ابن ماجہ
مسلمان کے لیے علم محض معاشی ترقی کا ذریعہ نہیں بلکہ اپنی ذمہ داری سمجھنے اور اللّہ کی معرفت حاصل کرنے کا وسیلہ بھی ہے۔
ترقی کا اسلامی معیار
اسلامی تصوّرِ ترقی میں چند بنیادی عناصر نمایاں ہیں:
ایمان انسان کو مقصد دیتا ہے۔ علم اسے بصیرت دیتا ہے۔ اخلاق اسے انسان بناتے ہیں۔ محنت اسے قوت دیتی ہے۔ عدل معاشرے کو مضبوط کرتا ہے۔ خود داری اسے ذہنی غلامی سے بچاتی ہے۔ اجتہاد اسے جمود سے نکالتا ہے۔ تقویٰ اسے طاقت کے غلط استعمال سے روکتا ہے۔ اگر ان میں سے صرف مادّی ترقی باقی رہ جائے اور باقی سب کچھ ختم ہو جائے تو انسان کے پاس سہولتیں تو بہت ہوں گی، مگر سکون کم ہوگا۔
اللّہ تعالٰی فرماتا ہے:
ترجمہ:” دل شکستہ نہ ہو، غم نہ کرو، تم ہی غالب رہو گے اگر تم مومن ہو۔ “(سورۃ آل عمران آیت 139 ) ،  ایضاً صفحہ 187
یہ سربلندی محض سیاسی یا عسکری غلبے کا نام نہیں؛ اس میں فکر کی آزادی، کردار کی بلندی، علم کی قوت، اخلاق کی پاکیزگی اور حق پر استقامت بھی شامل ہے۔
ہمیں کیا کرنا چاہیے؟
آج مسلمان کو دوسروں سے مرعوب ہونے کے بجائے اپنے اندر جھانکنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں یہ سوال کرنا چاہیے کہ ہم نے علم کیوں چھوڑا؟ تحقیق کیوں چھوڑی؟ کتاب سے رشتہ کیوں توڑا؟ محنت سے جی کیوں چرایا؟ وقت کی قدر کیوں ختم کی؟ دیانت، امانت، نظم و ضبط اور اجتماعی ذمہ داری کیوں کمزور ہوئی ہے؟ اگر ہم ان سوالات کا جواب تلاش کر لیں تو ترقی کا راستہ بھی مل جائے گا۔
ہمیں مغرب سے سائنس سیکھنی چاہیے، سائنس پرستی نہیں; ٹیکنالوجی لینی چاہیے، تہذیبی و فکری غلامی نہیں؛ نظم و ضبط اپنانا چاہیے، اپنی شناخت، اپنی نہیں چھوڑنی چاہیے؛ تحقیق سیکھنی چاہیے، اندھی تقلید نہیں؛
قانون کی پابندی کرنی چاہیے، مگر عدل کا اسلامی تصوّر نہیں بھولنا چاہیے۔
یعنی جو چیز مفید ہے، اسے حکمت اور داناٸی کے ساتھ اختیار کرو؛ جو چیز ہماری اخلاقی اور دینی بنیادوں کو کھوکھلا کرتی ہے، اس سے بچو۔
اَسَدؔ مُلتانی کے شعر کا اصل پیغام
اب دوبارہ اَسَدؔ مُلتانی کے شعر کی طرف آئیے:
؎کی ترقی جو مُسلمان نے فرنگی بن کر
وہ فرنگی کی ترقی ہے، مُسلمان کی نہیں
شاعر ہمیں ایک بنیادی سوال دے کر رخصت ہوتا ہے: کیا ہم ترقی کر رہے ہیں یا صرف کسی اور کی نقل کر رہے ہیں؟
اگر مسلمان اپنی زبان، لباس یا ٹیکنالوجی بدل لے تو لازماً وہ فرنگی نہیں بن جاتا؛ لیکن اگر وہ اپنی سوچ، مقصدِ زندگی، اخلاقی معیار اور تہذیبی شناخت بھی دوسروں کے حوالے کر دے تو پھر اس کی ترقی ظاہری ترقی تو ہو سکتی ہے، حقیقی ترقی نہیں۔
علامہ اقبالؔ نے خودی کی تعمیر کا راستہ دکھاتے ہوئے کہا:
؎خودی کو کر بُلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے !
ایضاً صفحہ 347 
یہ خودی غرور نہیں؛ اپنی حقیقت، اپنی ذمہ داری اور اپنے مقصدِ حیات کا شعور ہے۔
اختتامیہ
قومیں دوسروں کے لباس پہن کر بڑی نہیں ہوتیں؛ اپنے کردار سے بڑی ہوتی ہیں۔ قومیں دوسروں کی زبان بول کر زندہ نہیں رہتیں؛ اپنی فکر پیدا کرکے زندہ رہتی ہیں۔ قومیں صرف بلند عمارتوں سے ترقی یافتہ نہیں بنتیں؛ بلند کردار، مضبوط ادارے، زندہ ضمیر اور علم دوست نسلیں انہیں ترقی یافتہ بناتی ہیں۔
مسلمان کو فرنگی بننے کی ضرورت نہیں؛ اسے صرف قانونی مسلمان سے بڑھ کر حقیقی مسلمان بننے کی ضرورت ہے۔ اسی میں دنیا و آخرت کی کامیابی ہے۔
مسلمان قرآن مجید سے اپنا رشتہ مضبوط کرے، سیرتِ رسول محمد ﷺ سے کردار حاصل کرے، اقبالؔ سے خودی اور عمل کا سبق لے، اکبرؔ کے طنز میں چھپی ہوئی تنبیہ کو سمجھے، جدید علوم میں مہارت حاصل کرے، سائنس و ٹیکنالوجی میں آگے بڑھے، صنعت و تجارت میں خود کفیل ہو، مگر اپنی روح کو ابلیس کے بازار میں فروخت نہ کرے۔
ترقی وہ نہیں جو انسان کو اپنی پہچان سے محروم کر دے؛ ترقی وہ ہے جو انسان کو علم دے، کردار دے، خود اعتمادی دے، دوسروں کے لیے نفع بخش بنائے اور اسے اپنے خالق، مالک اور رب کے قریب لے جائے۔
اسی لیے آج کے مسلمان کے لیے اصل پیغام یہ ہے: مغرب سے آگے بڑھو، مگر مغرب کی نقالی کرکے نہیں؛
علم حاصل کرو، مگر ایمان کھو کر نہیں؛ دنیا بناؤ، مگر آخرت برباد کرکے نہیں؛ ترقی کرو، مگر اپنی شناخت مٹا کر نہیں۔
تب ہماری ترقی کسی کی نقل نہیں ہوگی؛ وہ ہماری اپنی ترقی ہوگی، ہمارے ایمان، ہمارے علم، ہماری محنت اور ہماری تہذیبی خود آگاہی کی ترقی ہوگی۔اسی میں مسلمان کی فلاح ہے۔