قمر محمود عبداللہ(بھاٹہ)
خطہ پوٹھوہار کے معروف صوفی شاعر محمد حنیف حنفی 6 جون 1952ء کو نمبردار کرمداد خان کے ہاں چنگا میرا (تحصیل گوجر خان) میں پیدا ہوئے۔ وہ ابتدائی عمر سے ہی تصوف و معرفت کی طرف مائل تھے۔ ان کا خاندانی تعلق خطہ پوٹھوہار کی معروف روحانی شخصیت حضرت میر کلاں بادشاہ رحمۃ اللّٰہ علیہ سے تھا۔ ہر سال ان کے عرس کے موقع پر حنفی صاحب کے گھر سے مزارِ اقدس پر چادر (ڈالی) لے جائی جاتی تھی۔ یوں صوفیاء سے جڑت اور محبت انہیں گھٹی میں ملی تھی۔ ان کے والد گرامی اور فقیر منش تایا کی روحانی وابستگی تھوہا شریف کے قادری سلسلہ سے بھی تھی۔ یہ آستانہ خطہ پوٹھوہار میں شعر و سخن اور سماع کے لیے ہمیشہ سے خصوصی شہرت رکھتا تھا، اسی لیے شعر و سخن سے وابستگی بھی انہیں بچپن سے ہی حاصل تھی۔
ایف اے تک تعلیم کی تکمیل کے بعد بسلسلہ روزگار وہ پہلے پاک آرمی میں گئے، لیکن یہ ملازمت ان کی فطرتی آزاد طبیعت کے موافق نہ تھی اور جلد ہی انہوں نے آرمی کی ملازمت کو خیرباد کہہ دیا۔ اس کے بعد بسلسلہ روزگار لیبیا روانہ ہوئے لیکن ان کی بے قرار روح کو وہاں بھی قرار نہ ملا۔ یہ ان کا عالمِ شباب تھا۔ صوفیانہ ریت، معرفت و طریقت اور شعر و سخن اس وقت ان کے ساتھ ساتھ ہمدم و ہم رکاب تھے اور وہ تصوف و شعر کو پہلو میں لیے رواں دواں تھے۔ اس سٹیج پر موسیقی اور سماع بھی ان کی طبع کے لیے مرغوب ہو گئی تھی۔
یہ اضطراب، عشق اور وارفتگی انہیں ستار اٹھائے لیبیا کے ریگستانوں سے قونیہ کے مرکزِ انوار پر لے گئی۔ وہاں میرِ کاروانِ عشق و مستی حضرت مولانا روم رحمۃ اللّٰہ علیہ کے روحانی فیوض و برکات سے مستفیض ہونے کا شرف حاصل ہوا۔ ادھر اپنے وطن میں حضرت میر کلاں رحمۃ اللّٰہ علیہ کے علاوہ حضرت سید میراں مشہدی رحمۃ اللّٰہ علیہ سے بھی ان کا روحانی تعلق استوار ہو چکا تھا۔ قونیہ سے واپسی پر ان کے ایک ہاتھ میں ستار اور دوسرے میں اشعار کا رجسٹر تھا، جو اختر امام رضوی کی راہنمائی میں “عرفان کے پھول” کے نام سے ان کے پہلے شعری مجموعے کی صورت میں 1984ء میں شائع ہوا تھا۔
شعراء اور تصوف سے ان کی گہری وابستگی کا سلسلہ تاحیات جاری رہا۔ انہوں نے اپنے روحانی مشاہدات و تصرفات پر اپنی تصنیف “میں کچھ نہیں” میں بہت کچھ بتا دیا تھا، جہاں سے قارئین بالتفصیل ان کے حالاتِ زندگی سے آگاہی حاصل کر سکتے ہیں۔
ان کے مطبوعہ کلام میں غنچۂ عشق، سچیاں گلاں، ڈونگھیاں سوچاں، دل دا شیشہ، عقل تے عشق، عشق دا سفر، روح دی سیر، فقر نی اکھ، حضور دا کرم، اندر دی کوک، روح دا رشتہ، شفاعت وغیرہ کے علاوہ نثر میں کافی کتب موجود تھیں جن میں ایک یادگار سفرنامہ بھی شامل تھا۔
حنیف حنفی صاحب کی شاعری معرفت و تصوف کے رموز سے پُر تھی۔ صوفیانہ تفکرات و تخیلات ان کے شعری لبادے میں منظر کشا ہوتے تھے۔ ان کے ابیات میں اخلاقی تعلیمات اور اصلاحِ معاشرہ کی تعلیمات کی جھلک بھی نمایاں تھی۔ حنفی صاحب کے کلام کو خطہ پوٹھوہار کے اکثر شعر خوانوں نے نہایت ذوق و شوق سے پڑھا تھا۔ وہ خود بھی موسیقی کے زیر و بم سے خوب آشنا تھے۔ قلم و قرطاس کے ساتھ ساتھ آلاتِ موسیقی (ستار، طبلہ اور ہارمونیم) کی ابتداء حنفی صاحب کے آستانے سے ہی چوہدری محمد اکرم گجر نے کی تھی۔ اس سلسلہ کے ابتدائی دو پروگرام حنفی صاحب کے دولت کدے پر منعقد ہوئے تھے۔ ماسٹر محمد یونس ہارمونیم نواز کی سنگت میں چوہدری اکرم نے کامیاب تجربے کا آغاز یہی سے کیا تھا۔ راقم الحروف نے بھی اپنے ادبی سفر کا آغاز حنفی صاحب کی راہنمائی میں ہی کیا تھا۔
*چایا بہار جو یوم الست روحاں، دینا سب نوں پیسی حساب اُسدا
کیتے قول و قرار نوں پھلدے نئیں جنھاں جنھاں نے سنیا خطاب اُسدا
لمحہ تے لمحہ جیہڑا اتھے گزر رہیا، دینا سب نوں اگے حساب اُسدا
حنفی جرم اپنے کابرہ دوس اوہنوں، نہ عذاب اوہدا نہ ثواب اُسدا
بڑا سوچناں سوچ نئیں کم کردی تیری نعت دا کراں آغاز کتھوں
دیندی زیب تشبیہ تمثیل وی نئیں لوڑاں لفظاں دے باجھ جواز کتھوں
ابو ذر غفاری ؓ سلیمان ؓ والا سکھاں چج کتھوں تے انداز کتھوں
*جو اویس ؓ بلال ؓ دے وچ حنفی پیدا ہوئے اوہ سوز و گداز کتھوں
جتھے قدم مبارک حضور ﷺ رکھے، خوش بخت کوئی ایسی زمین وی نئیں
امت واسطے بھرے جہان اندر، نبی ہویا کوئی ایڈا غمگین وی نئیں
کئی ہور کتاباں وی اتریاں جے، اتری کسے تے سورت یاسین وی نئیں
حنفی سوہنے جہاں دے وچ لکھاں، مدنی ماہی جیہاں ہک حسین وی نئیں**
وہ پنجاب بھر میں شعر و
سخن کی دنیا میں ایک بلند مقام رکھتے تھے اور کئی اعلیٰ ادبی ایوارڈز سے بھی نوازے جا چکے تھے۔ وہ خود بھی ایک علم دوست شخصیت تھے۔ گزشتہ کئی برس سے جون میں منعقد ہونے والے عرسِ حضرت میر کلاں بادشاہ نوشاہی قادری رحمۃ اللّٰہ علیہ کے موقع پر اپنے آستانے میں ایک عظیم علمی محفل کا انعقاد کرتے تھے۔ پنجاب بھر سے علماء، سکالرز اور شعرائے کرام مدعو ہوتے اور نظم و نثر میں تخلیقی کام کرنے والوں کو “میر کلاں ادبی ایوارڈ” سے نوازا جاتا تھا۔ یہ شعر و ادب کی بلا شبہ بڑی خدمت بھی تھی اور علم و فن کی خدمت کرنے والوں کی حوصلہ افزائی بھی۔
جناب حنیف حنفی 30 اگست 2026 کو خالق حقیقی سے جا ملے۔