
زندگی بھی عجیب حقیقت ہے۔ انسان اپنے اردگرد کے لوگوں کے ساتھ برسوں کے تعلقات بناتا ہے، محبتیں بانٹتا ہے، خوشیوں اور غموں میں شریک ہوتا ہے، ایک دوسرے کے دکھ درد سنتا ہے، مگر پھر اچانک ایک دن خبر ملتی ہے کہ کوئی ایسا شخص جس کے ساتھ کل ہی ملاقات ہوئی تھی، جس سے ابھی بہت سی باتیں کرنا باقی تھیں، وہ اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملا ہے۔ دل ماننے کو تیار نہیں ہوتا، آنکھیں نم ہو جاتی ہیں اور انسان بے اختیار کہہ اٹھتا ہے: انا للہ وانا الیہ راجعون۔
ہمارے دیرینہ دوست، تحریک کے ساتھی اور اپنے حلقہ احباب میں ہر دل عزیز شخصیت محمد اشفاق مانگٹ بھی کچھ عرصہ علالت میں رہنے کے بعد اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ ان کی وفات کی خبر نے دل کو گہرا صدمہ پہنچایا۔ ایسا محسوس ہوا جیسے زندگی کے سفر میں ایک اور شناسا چہرہ، ایک اور محبت بھرا تعلق اور ایک اور خوبصورت باب اچانک بند ہو گیا ہو۔دو ماہ قبل ہمارے بہت ہی پیارے دوست ناصر محمود قادر بھی اچانک ہارٹ اٹیک کے باعث داعی اجل کو لبیک کہا گیے تھے ابھی ان کی وفات کا صدمہ باقی تھا کہ اشفاق مانگٹ صاحب بھی رخصت ہو گئے ۔
اشفاق مانگٹ کے ساتھ میرا تعلق دو دہائیوں پر محیط تھا۔ یہ صرف رسمی شناسائی نہیں بلکہ محبت، اعتماد اور برادرانہ تعلق کا رشتہ تھا۔ ان سے وقتاً فوقتاً ملاقاتیں ہوتی رہیں، مختلف معاملات پر گفتگو ہوتی، کبھی سنجیدہ موضوعات زیر بحث آتے اور کبھی اپنے مخصوص انداز میں گپ شپ کا سلسلہ چلتا۔ ان کی شخصیت میں محبت، خلوص، اخلاق اور مہمان نوازی نمایاں تھی۔ وہ کم گو ضرور تھے لیکن جب بات کرتے تو صاف اور دو ٹوک انداز میں اپنی بات کہنے کے قائل تھے۔
اشفاق مانگٹ کا تعلق جماعت اسلامی سے تھا اور وہ اس کے رکن بھی رہے۔ جمعیت کے پلیٹ فارم سے بھی وابستہ رہے۔ جماعت اسلامی کے بعض پروگراموں اور اجتماعات میں شاید وہ بہت زیادہ نظر نہ آتے ہوں، لیکن رفاہی اور فلاحی کاموں میں ان کی دلچسپی ہمیشہ نمایاں رہی۔ خصوصاً الخدمت فاؤنڈیشن اور الحمراء گروپ کے محمد ارشد عرف اچھی بھائی کی سرپرستی میں شہر اور بیرون شہر صاف پانی کے منصوبوں واٹر پلانٹ لگائے اس شعبہ میں انہوں نے کئی سال تک بھرپور کردار ادا کیا۔
فیصل آباد شہر کے مختلف علاقوں میں آج بھی صاف پانی کے ان منصوبوں پر ان کے نام کی تختیاں ان کی خدمت کی گواہی دیتی نظر آتی ہیں۔ یہ دنیا سے رخصت ہونے والے انسان کے لیے اس سے بڑا اعزاز اور کیا ہو سکتا ہے کہ اس کے جانے کے بعد بھی لوگوں کی پیاس بجھانے والا کوئی منصوبہ اس کی خدمت کی یاد دلاتا رہے۔ صدقۂ جاریہ کے ایسے کام انسان کے لیے دنیا سے رخصتی کے بعد بھی خیر کا ذریعہ بنے رہتے ہیں۔
اشفاق مانگٹ کئی برسوں سے الحمرا گروپ کے فنانس منیجر کے طور پر بھی اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہے تھے۔ الحمرا کے چیف ایگزیکٹو محمد ارشد عرف اچھی بھائی کے بااعتماد ساتھیوں میں ان کا شمار ہوتا تھا۔ وہ اپنے کام سے مخلص، ذمہ دار اور معاملات کو سمجھنے والے انسان تھے۔ برسوں تک ایک ادارے کے مالی معاملات کو ذمہ داری سے دیکھنا ان کی پیشہ ورانہ صلاحیت اور اعتماد کی علامت تھا۔ان کی شخصیت کا ایک خوبصورت پہلو یہ بھی تھا کہ وہ اپنے گھر میں درسِ قرآن اور درود و سلام کی محافل کا اہتمام کرتے تھے۔ دین سے وابستگی ان کی زندگی کا حصہ تھی، تاہم وہ اپنی طبیعت میں سادگی اور بے تکلفی رکھتے تھے۔
جماعت اسلامی کے بعض معاملات پر انہیں اپنے تحفظات بھی ہوتے تھے۔ لیکن ان کی ایک خوبی یہ تھی کہ جو بات دل میں ہوتی، اسے دل میں رکھنے کے بجائے مناسب انداز میں بیان کر دیتے۔ وہ صاف گو انسان تھے اور منہ پر بات کرنے کے قائل تھے۔ اختلاف کو ذاتی دشمنی بنانے کے بجائے اپنی رائے کا اظہار کرنا ان کی طبیعت کا حصہ تھا۔
میرے ساتھ ان کا تعلق ہمیشہ برادرانہ رہا۔ وہ اپنے ذاتی نوعیت کے کئی معاملات بھی میرے ساتھ شیئر کرتے تھے۔ اعتماد کا یہ رشتہ کسی بھی دوستی کی اصل بنیاد ہوتا ہے۔ میرا ادارہ نکاح آسان موومنٹ جو پندرہ سال سے رشتوں کے حوالے سے کام کر رہا ہے، اس حوالے سے بھی ان کے ساتھ رابطہ رہتا تھا۔ وہ اس کام کے ساتھ تعاون کرتے اور حوصلہ افزائی کرتے تھے۔
یہ میرے لیے بھی ایک خوشی اور اعزاز کی بات ہے کہ ان کے بڑے بیٹے کا رشتہ کروانے کا اعزاز ہمارے ادارے کو حاصل ہوا۔ اس موقع پر اشفاق مانگٹ بہت خوش تھے۔ ان کے الفاظ آج بھی یاد آتے ہیں کہ جو کام کئی لوگ نہ کر سکے، وہ آپ نے کر دکھایا ہے۔ کسی کے گھر میں رشتہ جوڑنے اور دو خاندانوں کو نکاح کے بندھن میں باندھنے سے بڑھ کر شاید کوئی سماجی خدمت نہیں۔
اللہ تعالیٰ نے اشفاق مانگٹ کو اپنے مخصوص حلقہ احباب میں عزت، توقیر اور وقار عطا کر رکھا تھا۔ وہ دوستوں میں بیٹھتے تو خوب گپ شپ کرتے، لیکن مجموعی طور پر کم گو اور اپنے کام سے کام رکھنے والے انسان تھے۔ انہیں شہرت کی طلب نہیں تھی۔ وہ خاموشی سے کام کرنے اور اپنے حصے کا کردار ادا کرنے پر یقین رکھتے تھے۔
آج ان کی وفات کے بعد سب سے زیادہ احساس اس بات کا ہو رہا ہے کہ ابھی ان کے کرنے کے بہت سے کام باقی تھے۔ ابھی انہیں اپنے بچوں کے سروں پر شفقت کا ہاتھ رکھنا تھا۔ ابھی گھر والوں کو ان کی ضرورت تھی۔ ان کی ایک ہی بیٹی ہے، جس سے انہیں بے پناہ محبت تھی۔ باپ اور بیٹی کا رشتہ دنیا کے خوبصورت ترین رشتوں میں سے ایک ہے۔ اس بچی کو ابھی اپنے باپ کی شفقت، محبت، رہنمائی اور سایۂ عاطفت کی بہت ضرورت تھی، لیکن موت کے سامنے انسان بے بس ہے۔یہ اللہ تعالیٰ کے فیصلے ہیں۔ وہ جس بندے کو جب چاہے اپنے پاس بلا لے۔ انسان منصوبے بناتا رہ جاتا ہے، خواہشیں باقی رہ جاتی ہیں، ذمہ داریاں ادھوری رہ جاتی ہیں اور پھر ایک حکم آتا ہے کہ اب دنیا کا سفر ختم ہوا۔
اشفاق مانگٹ کے ساتھ بہت سی یادیں وابستہ ہیں۔ ان کی شخصیت کے بہت سے پہلو ایسے ہیں جن پر بہت کچھ لکھا جا سکتا ہے۔ ان کے ساتھ ہونے والی ملاقاتیں، گفتگو، خوش مزاجی، دوستوں کے ساتھ بیٹھک، رفاہی کاموں کا جذبہ، صاف پانی کے منصوبوں کے لیے ان کی کوششیں اور لوگوں کے ساتھ ان کا برادرانہ رویہ بہت یاد آتا ہے ۔
آج جب وہ ہمارے درمیان موجود نہیں تو ان کے لیے ہمارے پاس سب سے قیمتی تحفہ دعا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ان کی مغفرت کے لیے دعا کریں، ان کے ایصالِ ثواب کے لیے نیکی کے کام کریں، صدقہ کریں، قرآن خوانی کریں اور ان کے رفاہی جذبے کو آگے بڑھانے کی کوشش کریں۔
دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے پیارے دوست، بھائی اور مخلص ساتھی محمد اشفاق مانگٹ صاحب کی کامل مغفرت فرمائے، ان کی لغزشوں سے درگزر فرمائے، قبر کو نور سے بھر دے، انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ان کے رفاہی و دینی کاموں کو ان کے لیے صدقۂ جاریہ بنا دے۔
اللہ تعالیٰ ان کے پسماندگان، بیٹوں، بیٹی اور تمام اہل خانہ کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ بالخصوص جماعت اسلامی پاکستان کے انٹرنیشنل بزنس فورم کے صدر محترم مشتاق احمد مانگٹ صاحب کو اپنے چھوٹے بھائی کی جدائی کا صدمہ برداشت کرنے کی ہمت عطا فرمائے۔
ہم اشفاق مانگٹ کے خاندان کے غم میں برابر کے شریک ہیں اور دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں یہ عظیم صدمہ برداشت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین