ماما! بابا کو چھوڑو اور ہمارے پاس واپس آ جاؤ ۔کتنا دُکھ بھرا پیغام ہے۔
یتیم خانے کے صحن میں نیم کا ایک بوڑھا درخت کھڑا تھا۔ اس کی شاخیں دور تک پھیلی ہوئی تھیں، جیسے وہ برسوں سے اپنے سائے میں پلنے والے بچوں کو بانہوں میں لیے ہوئے ہو۔ صبح کی دھوپ ابھی نرم تھی۔ شبنم کے چند قطرے پتّوں پر ٹھہرے ہوئے تھے اور پرندے اپنی اپنی زبان میں زندگی کا ترانہ گا رہے تھے۔
صحن کے ایک کونے میں سدرہ بیٹھی اپنی کتاب کے اوراق اُلٹ رہی تھی، مگر اس کی نظریں الفاظ پر نہیں تھیں۔ سامنے فرمان ایک ٹوٹی ہوئی گیند کو بار بار دیوار سے ٹکرا رہا تھا۔
گیند دیوار سے ٹکراتی۔ ’’دَھپ!‘‘ اور واپس آتی۔ فرمان اسے پکڑ لیتا۔
پھر وہی حرکت۔ ’’دَھپ!‘‘
سدرہ نے کتاب بند کر دی۔
’’فرمان!‘‘ ’’ہوں؟‘‘
’’کبھی سوچا ہے، یہ گیند ہر بار واپس کیوں آ جاتی ہے؟‘‘
فرمان نے گیند کو غور سے دیکھا۔
’’کیونکہ دیوار اسے واپس پھینک دیتی ہے۔‘‘
سدرہ ہلکا سا مسکرائی۔ ’’کاش انسان بھی ایسے ہی ہوتے۔‘‘
فرمان نے حیرت سے پوچھا: ’’کیا مطلب؟‘‘
سدرہ نے آہستہ سے کہا: ’’ہمیں بھی کوئی واپس بلا لیتا…‘‘
فرمان کے ہاتھ سے گیند چھوٹ کر زمین پر جا گری۔ دونوں کچھ دیر خاموش رہے۔ یہ خاموشی معمولی نہیں تھی۔ اس میں کئی سالوں کی جدائی، انتظار، سوال اور ادھوری دعائیں دفن تھیں۔
سدرہ اور فرمان سگے بہن بھائی تھے۔ دونوں اتنے چھوٹے تھے کہ جب ان کے والد جیل گئے تو انہیں یہ بھی معلوم نہ تھا کہ جیل کیا ہوتی ہے، قید کیا ہوتی ہے اور جدائی کس بلا کا نام ہے۔
انہیں صرف اتنا یاد تھا کہ ایک دن گھر میں بہت سے اجنبی لوگ آئے تھے۔ ماں رو رہی تھی۔ باپ کے چہرے پر عجیب سی سنجیدگی تھی۔ فرمان نے باپ کی انگلی پکڑنے کی کوشش کی تھی اور سدرہ ماں کے دوپٹے سے لپٹ گئی تھی۔
پھر دروازہ بند ہوا۔ اور باپ چلا گیا۔
ایسے گیا کہ پھر لوٹ کر نہ آیا۔
وقت گزرتا گیا۔ ماں نے بھی حالات کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے۔ تنہائی، غربت اور معاشرتی دباؤ نے اسے دوسری شادی پر مجبور کر دیا۔ نیا گھر بنا تو پشاور کا راستہ کھل گیا، مگر اس گھر میں سدرہ اور فرمان کے لیے جگہ نہ تھی۔
بچے کچھ عرصہ نانی کے گھر رہے۔
نانی نے انہیں اپنے سینے سے لگا لیا۔
’’میری جان! تم میرے پاس رہو گے۔‘‘
وہ کہتی۔
سدرہ نانی کی گود میں سر رکھ کر پوچھتی: ’’نانو! ماما ہمیں لینے کب آئیں گی؟‘‘
نانی مسکرا دیتی۔ ’’جلد آئیں گی۔‘‘
بچے سو جاتے۔
نانی کی آنکھیں جاگتی رہتیں۔ وہ جانتی تھی کہ ’’جلد‘‘ کبھی کبھی بہت طویل ہو جاتا ہے۔ ایک سال گزر گیا۔ پھر ایک دن نانی کے چہرے پر وہ تھکن اتر آئی جو عمر سے نہیں، حالات سے آتی ہے۔
بیٹی کا گھر آباد تھا، داماد بچوں کو قبول کرنے پر آمادہ نہ تھا، اور نانی خود بڑھاپے کی دہلیز پر کھڑی تھی۔
اس نے ایک رات دونوں بچوں کو اپنے پاس بٹھایا۔
’’سدرہ بیٹی!‘‘ ’’جی نانو۔‘‘
’’فرمان!‘‘ ’’جی۔‘‘
نانی کی آواز بھرّا گئی۔ ’’اگر میں تمہیں ایسی جگہ لے جاؤں جہاں تمہیں کھانا، کپڑے، پڑھائی اور رہنے کو اچھا گھر ملے تو؟‘‘
فرمان نے فوراً پوچھا: ’’ماما بھی وہاں ہوں گی؟‘‘
نانی کے ہونٹ کانپے۔ ’’نہیں بیٹا…‘‘
سدرہ نے نانی کا ہاتھ پکڑ لیا۔ ’’پھر ہم نہیں جائیں گے۔‘‘
نانی نے چہرہ دوسری طرف کر لیا۔
آنکھوں سے آنسو نکلے تو اس نے جلدی سے دوپٹے کے پلو سے پونچھ لیے۔ ’’بیٹی! کبھی کبھی انسان اپنے بچوں کے لیے بھی ایسے فیصلے کرتا ہے جو اس کا دل قبول نہیں کرتا۔‘‘
اگلے دن نانی دونوں بچوں کو پولیس کے اُس مرکز میں لے گئی جہاں بے گھر، یتیم اور بے آسرا بچوں کی کفالت کی جاتی تھی۔
دروازے پر پہنچ کر فرمان نے نانی کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑ لیا۔ ’’نانو! ہم واپس کب جائیں گے؟‘‘
نانی نے جواب دینے کے بجائے اسے سینے سے لگا لیا۔ سدرہ نے دیکھا، نانی رو رہی تھی۔
اس دن پہلی مرتبہ اسے سمجھ آیا کہ بڑے لوگ جب ’’اللّہ حافظ‘‘ کہتے ہیں تو کبھی کبھی اس کا مطلب بہت لمبی جدائی بھی ہوتا ہے۔
سال گزرتے گئے۔ سدرہ بڑی ہوتی گئی۔ فرمان بھی۔
مرکز ہی ان کا گھر بن گیا۔
یہاں ان کے لیے بستر تھا، کھانا تھا، کتابیں تھیں، کپڑے تھے، کھیل کا میدان تھا، اساتذہ تھے اور شفقت کرنے والے لوگ بھی تھے۔
وہ دونوں پڑھتے، کھیلتے، ہنستے اور ایک دوسرے کا سہارا بنتے رہے۔
ایک دن فرمان بیمار پڑ گیا۔ سدرہ ساری رات اس کے پاس بیٹھی رہی۔
’’بھائی! پانی پی لو۔‘‘ ’’نہیں۔‘‘
’’دوائی کھا لو۔‘‘ ’’نہیں۔‘‘
’’اچھا، ماما آ جائیں گی تو شکایت کر دوں گی۔‘‘
فرمان نے فوراً آنکھیں کھول دیں۔ ’’واقعی؟‘‘
سدرہ نے مسکرا کر کہا: ’’ہاں! کہوں گی فرمان دوائی نہیں کھاتا۔‘‘
فرمان نے منہ بنا کر کہا: ’’ماما کو مت بتانا۔‘‘
دونوں ہنس پڑے۔ مگر ہنسی کے پیچھے ایک سوال پھر جاگ اٹھا: ماما کب آئیں گی؟
ایک دن مرکز کے دفتر میں فون آیا۔
’’سدرہ! تمہاری ماما کا فون ہے۔‘‘
سدرہ کا دل زور سے دھڑکا۔ وہ دوڑتی ہوئی فون تک پہنچی۔
’’السلام علیکم ماما!‘‘ دوسری طرف چند لمحے خاموشی رہی۔ پھر ایک مدھم سی آواز آئی: ’’وعلیکم السلام، بیٹی… کیسی ہو؟‘‘ ’’میں ٹھیک ہوں ماما! فرمان بھی ٹھیک ہے۔ آپ کب آئیں گی؟‘‘ خاموشی۔
’’ماما؟‘‘ ’’بیٹی… حالات ٹھیک نہیں ہیں۔‘‘
’’آپ ہمیں اپنے پاس کیوں نہیں رکھتیں؟‘‘ پھر خاموشی۔ سدرہ کی آواز بھرا گئی۔ ’’ماما! کیا ہم آپ کے بچے نہیں ہیں؟‘‘
دوسری طرف شاید آنسو تھے۔
’’ہو… بہت ہو۔‘‘ ’’تو پھر آ جائیں۔‘‘
’’میں کوشش کر رہی ہوں۔‘‘
’’کب؟‘‘ ’’جب موقع ملا…‘‘
’’ماما! آپ نے پچھلی بار بھی یہی کہا تھا۔‘‘ ماں کے پاس شاید اس سوال کا کوئی جواب نہیں تھا۔
فون بند ہو گیا۔
سدرہ کچھ دیر موبائل کو دیکھتی رہی۔ فرمان نے پوچھا: ’’ماما کیا کہہ رہی تھیں؟‘‘
سدرہ نے آنکھیں پونچھیں۔ ’’کہہ رہی تھیں، موقع ملا تو واپس آ جائیں گی۔‘‘
فرمان نے معصومیت سے پوچھا: ’’موقع کیا ہوتا ہے؟‘‘
سدرہ نے اپنے چھوٹے بھائی کو دیکھا۔ وہ جواب دینا چاہتی تھی، مگر الفاظ ساتھ نہیں دے رہے تھے۔
آخر بولی: ’’موقع شاید وہ دروازہ ہوتا ہے جو ہمارے لیے ابھی تک نہیں کھلا۔‘‘
فرمان نے فوراً کہا: ’’تو ہم دروازہ کھٹکھٹائیں گے۔‘‘
سدرہ نے اسے سینے سے لگا لیا۔ ’’ہاں، ہم کھٹکھٹاتے رہیں گے۔‘‘
کچھ عرصے بعد ماں انہیں پشاور لے گئی۔چند دن بچوں نے محسوس کیا جیسے برسوں کی پیاس ایک دم بجھ گئی ہو۔
ماما کے ہاتھ کا کھانا۔ ماما کی آواز ماما کے پاس سونا۔ ماما کے کپڑوں کی خوشبو۔ سدرہ رات کو ماں کے قریب لیٹ کر دیر تک اسے دیکھتی رہتی۔
’’ماما!‘‘ ’’ہاں بیٹی؟‘‘ ’’آپ ہمیں چھوڑ کر تو نہیں جائیں گی؟‘‘
ماں نے جواب دینے کے بجائے اسے سینے سے لگا لیا۔ ’’نہیں…‘‘
لیکن اگلی صبح حالات نے پھر دروازہ کھٹکھٹایا۔
شوہر نے صاف کہہ دیا: ’’بچوں کو واپس چھوڑ آؤ۔ یہاں ان کا کیا کام؟‘‘
یہ جملہ سدرہ نے سن لیا۔ اس کے ننھے دل میں کچھ ٹوٹا۔
فرمان نے بھی سن لیا۔ وہ خاموشی سے سدرہ کے پاس آ کر بیٹھ گیا۔
’’باجی… کیا ہم واقعی یہاں کے نہیں ہیں؟‘‘ سدرہ نے اس کا ہاتھ تھام لیا۔
’’ہم جہاں ہوں، ایک دوسرے کے ہیں۔‘‘
ماں انہیں دوبارہ نانی کے پاس چھوڑ گئی۔ اور نانی…وہی بوڑھی نانی…
جس نے ایک بار دل پر پتھر رکھ کر انہیں مرکز پہنچایا تھا، دوبارہ انہیں وہیں لے آئی۔
دروازے پر پہنچ کر سدرہ نے نانی سے کہا: ’’نانو! ماما ہمیں لینے آئیں گی نا؟‘‘
نانی نے نظریں چرا لیں۔ ’’ان شاء اللّہ۔‘‘
فرمان نے پوچھا: ’’کب؟‘‘
نانی کے پاس پھر کوئی جواب نہ تھا۔
کچھ دن بعد سدرہ مرکز کے صحن میں بیٹھی تھی۔ فرمان اس کے پاس آ کر بیٹھ گیا۔
’’باجی!‘‘ ’’ہوں؟‘‘
’’اگر ماما دوبارہ فون کریں تو اُن سے کہنا ہمیں لینے آ جائیں۔‘‘
سدرہ نے سر ہلایا۔ ’’ضرور۔‘‘
فرمان نے کچھ سوچ کر کہا: ’’اور اگر ماما کہیں کہ وہ نہیں آ سکتیں؟‘‘
سدرہ نے گہری سانس لی۔ ’’تو ہم اللّہ سے کہیں گے کہ ماما کو ہمارے پاس بھیج دے۔‘‘
فرمان نے آسمان کی طرف دیکھا۔
’’اللّہ سنتا ہے؟‘‘ ”ہاں۔‘‘ ’’سب کی؟‘‘
’’سب کی۔‘‘ ’’تو پھر ہماری بھی سنے گا؟‘‘
سدرہ نے آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا: ’’ضرور سنے گا۔‘‘
اُسی رات سدرہ نے اپنی ڈائری کھولی۔ اس نے لکھا: ’’پیارے اللّہ!
میں آپ سے بہت بڑی چیز نہیں مانگتی۔ مجھے نہ کھلونے چاہییں، نہ نئے کپڑے، نہ بہت بڑا گھر۔ بس میری ماما کو واپس کر دیں۔
اگر یہ ممکن نہیں تو میرے دل کو اتنا مضبوط کر دیں کہ میں ماما کے بغیر بھی انہیں برا نہ سمجھوں۔ اور میرے بھائی فرمان کو ہمیشہ میرے پاس رکھنا۔ ہم دونوں ایک دوسرے کا گھر ہیں۔ ہم دونوں ایک دوسرے کی چھت ہیں۔ ہم دونوں ایک دوسرے کی ماما ہیں، ایک دوسرے کے بابا ہیں۔ بس ہمیں ایک دوسرے سے جدا نہ کرنا۔ آمین۔‘‘
اس نے ڈائری بند کی۔
فرمان سو رہا تھا۔
سدرہ نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا۔
باہر نیم کا درخت ہوا کے ساتھ سرسرایا۔ ایسا محسوس ہوا جیسے کوئی بہت دُور بیٹھا انہیں دُعائیں دے رہا ہو۔
کئی دن بعد پھر فون آیا۔ ’’سدرہ! تمہاری ماما ہیں۔‘‘
سدرہ دوڑتی ہوئی آئی۔ ’’ماما!‘‘
’’بیٹی!‘‘
’’ماما، آپ کب آئیں گی؟‘‘ دوسری طرف خاموشی تھی۔ سدرہ نے اس بار اصرار نہیں کیا۔ صرف اتنا کہا: ’’ماما! اگر آپ نہیں آ سکتیں تو کوئی بات نہیں… بس ہمیں بھولنا مت۔‘‘
ماں کی آواز رندھ گئی۔ ’’میں تمہیں کیسے بھول سکتی ہوں؟‘‘
سدرہ نے آہستہ سے کہا: ’’تو پھر کبھی ہمیں یہ محسوس نہ ہونے دینا کہ ہم آپ کے لیے بوجھ تھے۔‘‘
دوسری طرف شاید کسی کا دل ٹوٹ گیا تھا۔
ماں نے کہا: ’’نہیں بیٹی… تم بوجھ نہیں تھے۔ حالات بوجھ بن گئے تھے۔‘‘
سدرہ کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ اس نے فون فرمان کو دے دیا۔
فرمان نے چند لمحے خاموش رہ کر کہا: ’’ماما! بابا کو چھوڑو اور ہمارے پاس واپس آ جاؤ۔‘‘
یہ جملہ سن کر سدرہ نے آنکھیں بند کر لیں۔ فون کے دوسری طرف ایک ماں تھی۔ اِدھر دو بچے تھے۔
درمیان میں برسوں کی جدائی تھی۔
اور ان سب کے اوپر ایک آسمان تھا، جس کے بارے میں دونوں بچے یقین رکھتے تھے کہ وہاں ایک ایسا رب موجود ہے جو یتیم کی آہ بھی سنتا ہے اور ماں کے آنسو بھی دیکھتا ہے۔
فرمان نے پھر کہا: ’’ماما! ہم آپ سے کچھ نہیں مانگیں گے۔ بس آپ آ جاؤ۔‘‘
فون پر سسکی سنائی دی۔ پھر رابطہ منقطع ہو گیا۔
سدرہ نے فرمان کو اپنے سینے سے لگا لیا۔ ’’باجی! ماما آئیں گی؟‘‘
سدرہ نے اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے کہا: ’’پتا نہیں…‘‘
پھر آسمان کی طرف دیکھ کر بولی:
’’لیکن اللہ ضرور آئے گا… ہماری مدد کرنے۔‘‘
اگلی صبح نیم کے درخت پر ایک نئی کونپل پھوٹی تھی۔ سدرہ نے اسے دیکھا تو مسکرا دی۔
اس نے فرمان کا ہاتھ پکڑا۔ دونوں اسکول جانے کے لیے چل پڑے۔
ان کے پاس اپنا گھر نہیں تھا، مگر ایک دوسرے کا ہاتھ تھا۔ ان کے پاس ماں کی مستقل آغوش نہیں تھی، مگر ماں کی یاد تھی۔ ان کے پاس باپ کی موجودگی نہیں تھی، مگر اس محبت کی ایک دھندلی سی یاد تھی جو بچپن کے کسی بہت دُور زمانے میں انہیں نصیب ہوئی تھی۔
اور سب سے بڑھ کر… ان کے پاس ایک دوسرے کا ساتھ تھا۔
کبھی کبھی زندگی انسان سے بہت کچھ چھین لیتی ہے، مگر اگر وہ دل میں اُمید کا ایک چراغ بچا لے تو اندھیری رات بھی ہمیشہ نہیں رہتی۔
سدرہ نے جاتے جاتے نیم کے درخت کی طرف دیکھا۔
’’فرمان!‘‘ ’’جی باجی؟‘‘
’’دیکھو، درخت پر نئی کونپل آئی ہے۔‘‘
فرمان نے مسکرا کر کہا: ’’تو کیا ہوا؟‘‘
سدرہ نے کہا: ’’اس کا مطلب ہے کہ درخت نے ابھی جینا نہیں چھوڑا۔‘‘
فرمان نے بہن کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑ لیا۔ ’’ہم بھی نہیں چھوڑیں گے۔‘‘
اور دونوں بہن بھائی ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے آگے بڑھ گئے۔
پیچھے یتیم خانے کی عمارت تھی۔ سامنے زندگی کا ایک لمبا راستہ۔اور کہیں بہت دُور، اُمید کے افق پر،شاید ایک ماں کی واپسی کا انتظار۔
اختتامیہ:
کسی بچے کو صرف روٹی، کپڑا اور مکان نہیں چاہیے؛ اسے اپنے ہونے کا یقین بھی چاہیے۔ یتیمی صرف باپ کے نہ ہونے کا نام نہیں، کبھی کبھی ماں کے ہوتے ہوئے ماں کی آغوش سے محرومی بھی بچے کے دل میں ایک ایسا خلا پیدا کر دیتی ہے جسے دنیا کی آسائشیں پُر نہیں کر سکتیں۔ ایسے بچوں کو خیرات سے زیادہ محبت، تحفظ، تعلیم، علاج، عزّت اور مستقل رفاقت کی ضرورت ہوتی ہے۔
اللّہ تعالٰی سدرہ اور فرمان جیسے تمام بے آسرا بچوں کا حامی و ناصر ہو، ان کے دلوں کی ویرانی کو اُمید سے، ان کے مستقبل کو روشنی سے اور ان کی زندگی کو خوشیوں سے بھر دے۔ آمین ثم آمین۔
*محمد شفیق اعوان ،ناظم امن لاٸبریری ،محلہ منشیاں ،گاٶں و ڈاک خانہ شمس آباد ،تحصيل حضرو ،ضلع أٹک پوسٹ کوڈ 43490 موبائل نمبر 03085040024