تحصیل کہوٹہ کے گاؤں دوبیرن خورد سے تعلق رکھنے والے، ایک معزز سادات فیملی کے چشم و چراغ فخر عباس اکبر ایڈووکیٹ ہائی کورٹ اُن شخصیات میں شامل ہیں جن کی زندگی محنت، جدوجہد اور ہمہ جہت صلاحیتوں کی عملی تصویر ہے ان کی شخصیت میں علم، دلیل، وقار اور عوامی شعور ایک خوبصورت امتزاج کی صورت نظر آتا ہے تعلیمی زندگی کے آغاز ہی سے فخر عباس اکبر میں نمایاں صلاحیتیں دکھائی دینے لگیں اسکول اور کالج کے دور میں تقریری مقابلوں میں شوق سے حصہ لینا اور دو مرتبہ تحصیل کہوٹہ کی سطح پر ونر رہنا ان کی فکری پختگی اور اظہارِ خیال کی قدرتی صلاحیت کا ثبوت ہے

یہی نہیں، وہ اپنے کالج کے زمانے میں ہاکی کے بہترین کھلاڑی بھی رہے، جو ان کی ہمہ جہت شخصیت اور متوازن طرزِ زندگی کی عکاسی کرتا ہے انہوں نے مکمل تعلیم سرکاری اسکولز اور کالجز سے حاصل کی، جو ان کے عوامی پس منظر اور زمینی حقائق سے جڑے رہنے کی وجہ بھی ہے اعلیٰ تعلیم کے طور پر انہوں نے ایم اے سیاسیات اور ایل ایل بی کی ڈگریاں حاصل کیں، جس نے ان کے فکری اور قانونی شعور کو مزید جِلا بخشی سیاست اور قانون کا یہ امتزاج آج ان کی گفتگو، دلائل اور تجزیوں میں واضح طور پر جھلکتا ہے
قانونی میدان میں قدم رکھنے سے قبل وہ خیبر پختونخوا میں ایک انٹرنیشنل ادارے کے آفیسر کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں، جہاں انہیں انتظامی امور، پالیسی میکنگ اور ادارہ جاتی نظم و نسق کا قیمتی تجربہ حاصل ہوا یہی تجربہ بعد ازاں ان کی وکالت میں ایک مضبوط حوالہ بن کر سامنے آیا فخر عباس اکبر نے کہوٹہ بار سے وکالت کا آغاز کیا اور اپنی محنت و قابلیت کے بل بوتے پر جلد ہی نمایاں مقام حاصل کیا وہ 2013 سے ڈسٹرکٹ بار راولپنڈی کے ممبر ہیں جبکہ 2015 سے ہائی کورٹ بار کے لائف ممبر کے طور پر خدمات سرانجام دے رہے ہیں
عملی وکالت میں انہیں کریمنل، سول، ٹیکس اور ایف آئی اے کے مقدمات میں خاصا تجربہ حاصل ہے ان کی پیشہ ورانہ سرگرمیاں صرف ایک شہر یا ایک عدالت تک محدود نہیں رہیں۔ وہ ہائی کورٹ لاہور، ہائی کورٹ پشاور، ہائی کورٹ ایبٹ آباد، ہائی کورٹ اسلام آباد، ہائی کورٹ راولپنڈی سمیت اسپیشل ٹریبونلز میں مختلف نوعیت کے مقدمات کی پیروی کر چکے ہیں مستقبل قریب میں سپریم کورٹ آف پاکستان کا لائسنس حاصل کرنے کی توقع ہے، جو ان کے قانونی سفر کا ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگا مزید برآں، وہ مستقبل میں لاء کی فیلڈ میں اسپیشلائزیشن کرنے کا واضح ارادہ رکھتے ہیں قانونی خدمات کے ساتھ ساتھ فخر عباس اکبر عوامی آگاہی کو بھی اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں
اسی مقصد کے تحت وہ پبلک اورینس کے لیے اپنا یوٹیوب چینل چلا رہے ہیں، جہاں عام آدمی کو قانون، آئینی حقوق اور قانونی مسائل کے بارے میں سادہ اور مدلل انداز میں آگاہ کیا جاتا ہے اسلام آباد میں ان کی رجسٹرڈ لاء فرم“فخر عباس اکبر لاء ہاؤس”فعال انداز میں کام کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ وہ مختلف قومی و بین الاقوامی اداروں کے ساتھ بطور لیگل ایڈوائزر وابستہ رہے ہیں یا ہیں، جن میں مشہور جنرل پٹرولیم، منسٹری آف لاء آزاد کشمیر، منسٹری آف لاء پاکستان اور MAC چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس فرم بطور لیگل کنسلٹنٹ شامل ہیں
یہ اعتماد ان کی پیشہ ورانہ قابلیت اور دیانت داری کا کھلا ثبوت ہےسیاسی شعور کے حوالے سے بھی فخر عباس اکبر ایک متوازن اور سنجیدہ سوچ کے حامل ہیں وہ سیاست پر مدلل، مہذب اور اصولی انداز میں اپنا موقف رکھتے ہیں اور ذاتی مفاد کے بجائے قانون، آئین اور عوامی مفاد کو ترجیح دیتے ہیں بلاشبہ، فخر عباس اکبر ایڈووکیٹ ہائی کورٹ ایک ایسی ہمہ جہت شخصیت ہیں جو علم، کردار اور خدمت کو اپنی پہچان بنائے ہوئے ہیں تحصیل کہوٹہ سے لے کر اعلیٰ عدالتی فورمز تک ان کا سفر اس بات کی دلیل ہے کہ محنت، لگن اور اصول پسندی انسان کو کہاں سے کہاں پہنچا سکتی ہے۔ ایسے لوگ نہ صرف وکالت بلکہ پورے معاشرے کے لیے باعثِ فخر ہوتے ہیں۔
طاہر عباس نقوی