اسلام آباد (شبیرسہام سے) غوری ٹاؤن فیز فور اسلام آباد میں واقع ریہیب سنٹر میں زیر علاج 45 سالہ شخص کی ایک ہفتہ پرانی تشدد زدہ لاش زیر تعمیر مسجد کی چھت سے برآمد ہوئی، پولیس تھانہ کورال نے ایک ماہ کی تاخیر سے مقدمہ درج کیا، ملزمان تاحال گرفتار نہ ہوسکے، سنسنی خیز انکشافات، مائنڈ کیئر رہیب سنٹر میں دو ماہ سے زیر علاج 45 سالہ شخص تین بچوں کا باپ راشد علی کو وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد گلے میں پھندہ ڈال کر موت کی نیند سلا دیا گیا۔ مقتول کی لاش مائنڈ کیئر ریہیب سنٹر واقع غوری ٹاؤن فیز فور بی اسلام آباد سے ملحقہ زیر تعمیر مسجد کی چھت سے برآمد ہوئی ۔
لاش ایک ہفتہ پرانی تھی۔ کری روڈ راولپنڈی کے رہائشی 45 سالہ راشد علی کو 5 اگست 2025ء کو مائنڈ کیئر رہیب سنٹر واقع غوری ٹاؤن اسلام آباد میں علاج معالجے کے لئے داخل کروایا گیا۔ 12 اکتوبر کو دن ایک بجے مائنڈ کیئر سنٹر کے مالک ملک طاہر نے ورثاء کو فون کرکے بتایاکہ راشد علی سنٹر سے بھاگ گیا ہے۔ ورثاء فوری طور پر سنٹر گئے اور بعد ازاں تلاش کرتے رہے۔ ایک ہفتہ بعد 19 اکتوبر کو سنٹر کے مالک نے ورثاء کو دوبارہ فون کیا کہ سنٹر سے ملحقہ زیر تعمیر مسجد کی چھت سے ایک لاش ملی ہے۔ آکر شناخت کریں۔ ورثاء جب مائنڈ کیئر رہیب سنٹر پہنچے تو پولیس وہاں موجود تھی۔ پولیس نے ورثاء سے کہاکہ مسجد کی چھت سے ایک شخص کی لاش ملی ہے۔ جو پولی کلینک ہسپتال منتقل کر دی گئی ہے۔ وہاں جاکر لاش کی شناخت کریں۔ ورثاء نے پولی کلینک جاکر دیکھا تو لاش ان کے بیٹے ارشد علی کی تھی۔
بعد ازاں پولیس نے پوسٹ مارٹم کے بعد لاش ورثاء کے حوالے کر دی۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق مقتول کو پھندہ دیکر موت کے گھاٹ اتارا گیا تھا۔ جسم کے مختلف حصّوں چہرے، ہاتھ پاؤں، چھاتی اور پیٹ پر زخم کے واضح نشانات موجود تھے اور لاش بھی تقریباً ایک ہفتہ پرانی تھی۔ مقتول کے ورثاء نے رہیب سنٹر کے مالک کو نامزد کرکے قتل کی دفعہ کے تحت قانونی کارروائی کے لئے تھانہ کورال پولیس کو درخواست دی لیکن ایس ایچ او تھانہ کورال مہراللہ ورثاء کو تھانے کے چکر لگواتا رہا اور انہیں کئی کئی گھنٹے تھانے میں انتظار کروا کر ملاقات کئے بغیر ہی غائب ہو جاتا۔ یوں پولیس نے مبینہ طور پر ملزمان کے ساتھ سازباز کرکے ایک ماہ تک واقعہ کا مقدمہ تک درج نہ کیا۔ ورثاء صبح شام تھانے کے چکر لگاتے رہے۔ بالآخر ایک ماہ کی تاخیر سے ایس پی سواں زون کی مداخلت پر واقعہ کا مقدمہ درج ہوا۔ لیکن اس کے بعد پولیس پھر سے ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھی ہے۔
ریہیب سنٹر کے مالکان کو جنہیں ایف آئی آر میں نامزد کیا گیا ہے انہیں گرفتار کرنا تو دور کی بات تفتیشی آفیسر نوید نے مدعی مقدمہ کا نمبر ہی بلاک کر دیا تاکہ وہ فون ہی نہ کرسکے۔ قابل ذکر امر یہ ہے کہ گزشتہ سال جنوری 2024ء میں بھی اسی رہیب سنٹر میں قاسم نامی ایک نوجوان کی بھی لاش برآمد ہوئی تھی۔ اس کیس کو بھی پولیس نے مبینہ ملی بھگت سے خودکشی ظاہر کرکے دبا دیا تھا۔ مقتول راشد علی کے ورثاء نے وزیر داخلہ، آئی جی اسلام آباد، ڈی آئی جی آپریشنز اور ایس ایس پی آپریشنز سے نوٹس لینے اور انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔
Discover more from pindipost.pk
Subscribe to get the latest posts sent to your email.