عوامی مسائل نظر انداز‘ اراکین اسمبلی خاموش

جانداروں میں انسان ہی ایسا جاندار ہے جو خواب دیکھتا ہے اور پھر اس خواب کی جزاءوسزا پاتا ہے۔انسانوں میں جو انسان سب سے زیادہ پرمایہ اور دراز سایہ خواب دیکھتے اور دیکھاتے ہیں۔وہ حکیم فلسفی اور شاعر کہلاتے ہیں۔لیکن ان سے بڑھ کر ہمارے سیاسی رہنماءہیں جو انتہائی دلکش خواب دیکھانے کے ھنر آشنا ہیں۔الیکشن کے دوران ہماری سیاسی جماعتوں کے مرکزی کردار کیا مقامی سیاست دان بھی اس قدر سہانے خواب دیکھاتے ہیں کہ ہم سمجھتے ہیں کہ جن مسیحاو¿ں کی ہمیں تلاش تھی وہ مل چکے۔لیکن افسوس کہ موقع گزرتے ہی نہ فتح یاب ملتے ہیں نہ شکست خورد ہی ہاتھ آتے ہیں۔تاوقت کہ نیا الیکشن آجائے۔

الیکشن کے بعد ہم۔اپنے مسائل کی گھنٹڑیاں اپنے سروں پر ا±ٹھائے ان کی تلاش،میں سرگرداں رہتے ہیں پاکستان بھر کی طرح بیول کے باسی بھی ہر بار مسیحائی کے دعوے داروں کے ہاتھوں گھاو¿ کھاتے چلے آرہے ہیں لیکن اگلے الیکشن کی آمد کے ساتھ ہی ہم۔مسیحاو¿ں کے دیکھائے گذشتہ خوابوں کی تعیبر نہ ملنے کو بھول کر نئے خواب پر بخلیں بجاتے ان کے بینرز وپوسٹر لگاتے نظر آتے ہیں حلقہ پی پی آٹھ سے 1985 سے لے 2004 تک سب سے زیادہ کامیابیاں میں۔ لیگ کے ٹکٹ ہولڈر کے حصے میں آئیں۔2013 میں پنجاب اسمبلی میں ہماری نمائندگی کرنے والے منتخب ایم پی اے کا تعلق بیول سے تھا 2018 اور 2024 میں تحریک انصاف کے کامیاب ٹکٹ ہولڈر کا تعلق بھی بیول سے ہے۔

لیکن افسوس کہ بیول کے مقامی ایم۔پی ایز بھی اپنے علاقے کے لیے کوئی میگا پروجیکٹ نہ لاسکے۔اسکولز کی خستہ حال عمارتوں۔اور اساتذہ کمی پر ہی توجہ نہیں دی گئی2013 سے 2026 تک کی مدت میں بیول کی عوام کو کیا ملا۔کیا بیول میں قائم۔سرکاری اسکولز کی عمارتوں خستہ حالی کے حوالے سے یا اسکولز میں اساتذہ کی کمی پر ایوان کے فلور پر کسی کو بات کرتے سنا گیا؟ 2018 کے الیکشن میں کامیاب ایم۔پی کی جانب سے بی ایچ یو کو ٹونٹی فور آور کے لیے اپ گریڈ کروایا گیا جو یقیناً عوامی بھلائی کے لیے اچھا اقدام تھا لیکن یہ اقدات محض نمود ونمائش کی کوشش ثابت ہوا کیونکہ موصوف ایوننگ و نآئٹ شفٹوں کے لیے اسٹاف منظور نہ کروا سکے

بلکہ ان کے پورے دور میں بی ایچ یو میں ڈاکٹر تک تعینات نہ ہوسکا جس کی میں نے ان سے ملاقات کے دوران متعدد بار نشاندھی بھی کی سو یہ کارنامہ بھی تماشہ ثابت ہوا اس وقت موجودہ ایم۔پی اے کا تعلق تحریک انصاف سے ہے جو اپوزیشن جماعت ہونے کے ناطے اس وقت زیر عتاب بھی ہے

اس لیے اس وقت ایم۔پی اے سے کسی منصوبہ کی توقع نہیں کی جاسکتی اور نہ ہی حکومت تحریک انصاف کے کسی ممبر کو کوئی فنڈز یا کوئی ترقیاتی منصوبہ دے گی کیونکہ ہمارا سیاسی کلچر ہی ایسا ہے۔فنڈ یا منصوبہ ملے یا نہ ملے اسمبلی کے فلور پر آواز توا±ٹھائی جا سکتی ہے۔لیکن ہمارے ایم۔پی اے اس صلاحیت سے بھی محروم۔ہیں اس وقت مسلم لیگ پاور میں ہے مرکز اور صوبے میں حکمرانی ہے۔لیکن یہاں کے لیگی ٹکٹ ہولڈر اپنے لوگوں کے لیے کچھ نہ کرسکے۔اور نہ اس لیے کوشش کررہے ہیں۔۔سموٹ گوجرخان روڑ بنایا گیا اور بلے بلے بھی کروائی گئی

لیکن سڑک کے دونوں اطراف کالر بنانے کی جانب توجہ نہیں دی گئی۔جس سے سٹرک کی ٹوٹ- پھوٹ کا خدشہ موجود ہے۔مٹی کے بھربھرے ایک ٹیلے پر گیارہ ہزار وولٹ کے نصب پول کی خطرناک صورتحال بھی ان کے ضمیر نہ جھنجھوڑ سکی۔بہت پہلے کچھ مقامی لوگوں کی جہدوجہد کے باعث کچھ سرکاری اراضی واگذار کروائی گئی جس میں کچھ زمین گراونڈ کے لیے دی گئی جس کو پراپر گراونڈ کی شکل دینے کے لیے کوئی قدم نہیں ا±ٹھایا گیا۔اس وقت صوبے میں مسلم لیگ کی حکمرانی ہے الیکشن میں شکست کھانے کے باوجود ٹکٹ ھولڈر کا اثر ورسوخ تو موجود ہے لیکن مجال ہے

کہ وہ عوام کے مسائل کے حل کے لیے کچھ کرتے دیکھائی دیں۔۔۔کیا یہ رہنماءاسکول میں اساتذہ کی کمی۔نوجوانوں کے لیے گراونڈ کی چاردیواری۔و صفائی ستھرائی کے کام کروانے کی طاقت نہیں رکھتے اگر ہمارے یہ سیاسی رہنماءہمارے مسائل پر بول نہیں سکتے اور اپنی حکومت میں اپنے شہر کی بہتری کے کوئی منصوبہ نہیں لا سکتے تو سیاست سے کنارہ کشی کرتے ہوئے عوام کی جان چھوڑ کیوں نہیں دیتے یہ لوگ شادیوں۔اور جنازوں میں شرکت کر کے سمجھتے ہیں کہ انہوں نے عوام کو جیت لیا ہے لیگی رہنمائ2018 اور 2024 میں اسی لیے عبرتناک شکست سے دوچار ہوئے

کہ یہ لوگ ذاتی مفادات کی جنگ میں عوامی مفادات کو پس پشت ڈال چکے تھے۔اس وقت ایماندارانہ تجریہ کیا جائے تو مسلم۔لیگ گوجرخان کی سیاست سے مکمل طور فارغ ہوچکی ہے۔جس میں1985سے 1997 تک کے الیکشن میں۔مسلسل کامیاب ہونے والے ایم۔پی۔اے اور 2013 کے الیکشن میں کامیاب ایم پی اے کی باہمی چپقلش اور ذاتی مفاد کی لڑائی کا بہت عمل دخل ہے۔سب کچھ سمجھ کر جو نہ سمجھے وقت اسے سمجھتا ہے۔اور وقت نے گوجرخان مسلم لیگ کو بھی خوب سمجھا ہے۔کہ انکی داستان بھی نہیں داستانوں میں۔