عالمی یوم مزدور

تو قادر و عادل ہے مگر تیرے جہاں میں
ہیں تلخ بہت بندہ مزدور کے اوقات (اقبال)
یکم مئی کا دن ہر سال آتا ہے۔ اور ہر سال اس دن ہمارے سکول، کالج، سرکاری دفاتر، ادارے، مارکیٹیں اور دکانیں بند ہوتی ہیں۔ اور یہ نعرہ بھی لگایا جاتا ہے کہ یہ محنت کشوں کا دن ہے۔ معماروں کا دن ہے۔ مزدوروں کا دن ہے۔ مزدور اس دن فیکٹریوں، ملوں کو بند کر کے جلوسوں کی شکل میں نکل آتے ہیں۔ پرامن جلوس بھی ہوتے ہیں، نعرے بازی اور ہنگامے بھی۔ سرخ جھنڈے لہرا کر قراردادیں پیش کی جاتی ہیں۔ اس دن کو منانا مزدور اپنا حق سمجھتا ہے۔

یکم مئی کی تاریخی حیثیت:
انیسویں صدی کے نصف میں روس میں مزدوروں سے روزانہ انیس بیس گھنٹے کام لیا جاتا تھا۔ اور معاوضہ اتنا بھی نہیں دیا جاتا تھا کہ وہ اور ان کے بیوی بچے دو وقت پیٹ بھر کے اچھا کھانا کھا سکیں۔ وہ ہاتھ جو فصلیں اگاتے تھے ان کے بچے اچھے کھانے کو ترستے تھے۔ وہ ہاتھ جو کھڈیوں اور فیکٹریوں میں ہزاروں اور لاکھوں گز کپڑا بنتے ان کی عورتیں جسم چھپانے کو ترستی۔ فیکٹری کے کسی حصہ میں آگ بھڑک اٹھتی تو کئی مزدور جل کر راکھ ہو جاتے سرمایہ دار یہ کہتے ہوئے نظر انداز کر دیتا کہ کام کے دوران حادثات ہو سکتے ہیں۔ مزدوری کرتے وقت مر کھپ جانا ہی کام کا حصہ ہے۔ انہیں مزدوروں کی وجہ سے خام مال تیار شدہ مصنوعات میں تبدیل ہو رہا تھا۔ سرمایہ دار اپنی عیاریوں سے غریب کا خون چوس رہے تھے۔ 
اوقاتِ کار کا کوئی تعین نہ تھا۔ امریکہ میں بھی مزدور سولہ سولہ گھنٹے کام کرتا تھا۔ امریکہ اور روس کی متمدن تہذیب کا یہ حال تھا کہ وہاں ہل چلانے والے بیل کی طرح مزدور کو مشین چلانے والا ترقی یافتہ جانور سمجھا جاتا تھا۔ فیکٹریوں میں کام کرنے والے غلام سمجھے جاتے تھے۔ جب مزدور پر ظلم حد سے تجاوز کر گیا تو پھر 1884ءمیں سب سے پہلی آواز نیویارک میں اٹھائی گئی لیکن باقاعدہ تحریک چلانے کا سہرا امریکہ کے مزدوروں کو جاتا ہے۔ شکاگو کی ہائی مارکیٹ سکوائر پر مزدوروں کو گولیاں ماری گئی جس میں کئی مزدور ہلاک ہو گئے مگر ان کا خون رائے گاں نہیں گیا۔1890ءسے باقاعدہ یومِ مزدور منانے کا سلسلہ شروع ہوا جو آگے چل کر بین الاقوامی احتجاج کا دن بن گیا۔ اور یکم مئی کو یومِ مزدور کے طور پر منایا جانے لگا۔ آج اگر ہم 8، 8 گھنٹے کام کر رہے ہیں تو یہ شکاگو کے ان عظیم مزدوروں کی بدولت ہے جنہوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے ہمیں جنگل کے قانون سے آزاد کرایا۔ مگر افسوس آج دعوے تو ہر جگہ کیے جاتے ہیں، ہر ادارے میں مزدور تنظیمیں تو موجود ہیں لیکن حقیقت میں مزدور سے مالک تک ہر شخص چور ہو چکا ہے نہ مزدور پورے طریقے سے اپنے فرائض منصبی ادا کر رہا ہے کہ مالک پورے طریقے سے اس کے حقوق ادا کر رہا ہے اس کشمکش کا نقصان ہمارے اداروں کو بھگتنا پڑتا ہے۔ آج مزدور اور مالک کے اندر وہ پرانا سوز ختم ہو گیا ہے کام کی وہ لگن ختم ہو گئی ہے۔

دمِ طوف کرمک شمع نے کہا کہ وہ اثر کہن
نہ تیری حکایتِ سوز میں نہ میری حدیثِ گزار میں

حدیث میں آتا ہے کہ مزدور کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے اس کا حق ادا کر دیا جائے مگر دیکھنا یہ بھی ہے کہ مزدور پہلے اپنا پسینہ نکال بھی رہا ہے یعنی اس محنت سے کام کر بھی رہا ہے کہ نہیں یقیناً نہیں۔دفتری کام ہو یا کوئی بھی جسمانی کام اس کام کی صلاحیت اور طاقت ہونی چاہیے۔ دوسرا مزدور کا مالک کے مفادات کا امین ہونا چاہیے۔ جو کام اسے سونپا جائے اسے وہ امانت اور دیانت سے کرنے والا ہو۔ اگر مزدور اپنے کام کو نیک نیتی سے نہیں کرتا تو ہو سکتا ہے دنیا میں تو وہ مالک کی آنکھوں میں دھول جھونک دے لیکن آخرت میں وہ اللہ کے ہاں جواب دہ ہو گا کیونکہ حدیث نبوی ﷺ ہے:''تم میں سے ہر کوئی نگران اور مسﺅل ہے۔ اور ہر ایک سے اس کی مسﺅلیت کے بارے میں پوچھا جائے گا''آج کا دن منانے کا مقصد مزدور کی عزتِ نفس کا خیال رکھنا مزدور کو اچھا کھانا دینا اچھا کپڑا دینا۔ نیز اس سے بڑھ کر اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے اس کی مزدوری دینا۔ مزدور کو وہ کام کرنے کے لیے کہا جائے جس کی وہ طاقت رکھتا ہے۔ آج کا دن منانے کا مقصد ہمیں اپنے حقوق کے ساتھ اپنی ذمہ داریوں کا بھی تعین ہونا چاہیے۔

سبق پھر پڑھ صداقت کا عدالت کا شجاعت کا
لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا