حضورﷺ بحیثیت رحمۃ للعالمین

بلا شک و شبہ ہر نبی کو اپنی امت سےبےپناہ محبت ہوتی ہے جسکی وجہ سے انبیاء کرام علیہم السلام اپنی امت سے محبت شفقت اور رحمت والا معاملہ فرماتے ہیں انکی فکر ہوتی ہے کہ ہر امتی نیک اعمال کرکہ اللہ اور اللّٰہ کے رسول کے حکموں کے تابع ہو کرمتقی پرہیز گار بن جائے جہنم سے بچ کر جنت میں جانے والا بن جائے لیکن ان سب نبیوں سے بڑھ کر جو محبت شفقت اور رحمت اس امت کو ملی اسکی کوئی حد نہیں یہ رحمت تمام پر غالب ہے اور یہ محبت شفقت رحمت اللہ نے اپنے پیارے لاڈلے اور محبوب نبی حضور خاتم النبیین والمرسلین رحمۃ للعالمینﷺ کی صورت میں اس امت کو عنایت فرمائی حضور ﷺکی رحمت کے سائے میں تمام مخلوقات آئیں آپ وعظ فرماتے تو سامعین کا خیال فرماتے مسلسل نا فرماتے تاکہ لوگ تنگ نا ہوں تنہا نماز اداء فرماتے تو طویل جبکہ جماعت کرواتے تو مختصر حضرت ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللّٰہﷺ نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی جماعت کروائے تو اسے چاہیے مختصر کرے

کیونکہ اس میں بیمار کمزور اور بوڑھے ہوتے ہیں حضور ﷺنے اپنی امت پر مہربانی فرمائی جسکی وجہ سے پچاس کی بجائے پانچ نمازیں پڑھنی پڑتی ہیں پہلی امت میں انبیاء کرام علیہم السلام کو نا ماننے والوں پر عذاب آجاتا تھا لیکن آپ ﷺکو ناماننے والوں کے لئے بھی آپ نے دعا فرمائی جسکی وجہ سے یہ امت ہلاکت و بردباری سے بچ گئی آپ کو جب طائف میں لہو لہان کیاگیا اگر آپ اس وقت اجازت عنایت فرماتے تو ان لوگوں کو پہاڑ تلے دفن کردیا جاتا

لیکن آپکی رحمت ان کے ظلم پر غالب آئی آپ نے کفار کے جنگی قیدی بن کر آنے والوں سے بھی حسن سلوک کیا قیدیوں کو کھانا کھلایا جاتا ان سے نرم رویہ رکھا جاتا انکے حقوق کا خیال رکھا جاتا بدر کے موقع پر قیدیوں کی وجہ سے نبی رحمت بے قرار نظر آئے جب سب قیدیوں کو راحت کی یقین دہانی کرائی تب آپ کو بھی خوشی اور راحت محسوس ہوئی فتح مکہ موقع پر آپﷺ نے عام معافی کا اعلان کیا آپ رؤف الرحیم بھی ہیں رؤف اور رحیم دونوں مبالغہ کے صیغے ہیں رؤف صرف رحمت کے نہیں بلکہ دائم رحمت کے معنی میں آتا ہے

قرآن مجید نے بھی آپکو جہانوں کے لئے رحمت کہا ہے ارشاد باری تعالیٰ ہے اے نبی ﷺہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا آپ کے ہوتے ہوئے اگر کوئی مقروض دنیا سے رخصت ہوتا تو آپ بیت المال سے یا کسی کو حکم دیکر اسکا قرض اسکی نماز جنازہ سے قبل اداء فرماتے حضور رحمۃ للعالمین ساری ساری رات امت کے لئے رو رو کر دعائیں مانگتے آخری وقت میں بھی امت کی فکر روز محشر بھی حضور نبی اکرم شفیع اعظم ﷺسفارش فرمائیں گے آپ چھوٹے بچوں سےبھی شفقت سے پیش آتے اپنی سواری پر بٹھا لیتے غلاموں اور خادموں سے اچھا سلوک خود بھی فرماتے اور ترغیب بھی دیتے غلاموں اور باندیوں سے حسن سلوک کی تعلیم ارشاد فرماتے

آپﷺ نے غلام کو عبد کہنے سے منع فرمایا یہ بھی فرمایا کہ انکے اچھے نام رکھو اگر غلطی کریں تو بار بار درگزر کرو پھر انکو آزاد کرنے کی ترغیب دی جس سے غلامی کے دور کا خاتمہ ہوا حضرت انس بن مالکؓ فرماتے ہیں مجھے دس سال حضورﷺ کی خدمت میں گزارنے کا موقع ملا آپ نے نا مجھے کبھی آف تک کہا نا مجھے یہ فرمایا یہ ایسا کیوں کیا اور نا ہی یہ فرمایا کہ یہ کیوں نا کیا حضرت ابوذر غفاریؓ فرماتے ہیں رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا تمہارے غلام بھی تمہارے بھائی ہیں جنہیں اللہ نے تمہارے ماتحت کیا جو تم خود کھاتے ہو انہیں بھی کھلاؤ خود پہنتے ہو انہیں بھی پہناؤ انکی طاقت سے بڑھ کر انہیں مکلف نا بناؤ اگر کوئی کام ان کے ذمہ لگاتے ہو تو ساتھ انکی مدد بھی کرو آپ بیٹیوں کے لیے بھی رحمت بن کر آئے جب عرب کے معاشرے میں بیٹیوں کی پیدائش پر انکے چہرہ کا رنگ بدل جاتا جب بیٹیوں کی پیدائش پر عار محسوس کی جاتی جب بیٹیوں کی پیدائش پر وہ ناراض نظر آتے بعض بدبخت تو اپنی ننھی بیٹی کو اپنے ہاتھوں سے زندہ درگور کر دیتے

اس وقت اس معاشرے کے لئے آپ رحمت بن کر آئے آپﷺ نے نا صرف اس رسم کو اس ظلم وزیادتی کو سیاہ دور کو ختم کیا بلکہ آپ نے بیٹی کی پیدائش کو رحمت قرار دیا والدین کے لئے جنت میں جانے کا ذریعہ بتایا جہنم کی آگ سے بچنے کی ڈھال قرار دیا اور اس سے بھی بڑھ کر خوشخبری سنائی کہ جو اپنی بیٹیوں کی پرورش کرے گا

وہ جنت میں رسول اللّٰہ ﷺکے قریب ہوگا انکو وراثت میں حصہ کا حقدار بنایا اگر چہ عورت ماں ہو بیوی ہو بیٹی ہو یا بہن ہو اسلام میں اسکو وراثت میں حق ملے گا آپ کی رحمت کا ظہور بے زبان جانوروں پربھی ہوا آپ نے حکم فرمایا کہ جانوروں کی بیٹھ کو ممبر یا بیٹھنے کی جگہ نا بناؤ اللّٰہ نے انکو تمہاری آسان سواری بنایا ایک مرتبہ آپ ایک انصاری کے باغ میں تشریف فرما تھے کہ اونٹ نے آپ کو دیکھ کر بلبلانا شروع کردیا آپ نے اسکے مالک کو بلا کر فرمایا یہ اونٹ شکایت کررہا ہے اسکو بھوکا اور پیاسا نا رکھو آپ نے ارشاد فرمایا کہ جب جانور کو ذبح کرو تو تیز چھری کے ساتھ کرو تاکہ اسے کم سے کم تکلیف ہو اسی طرح ایک سفر میں آپ نے دیکھا کہ ایک چڑیاں کے بچوں کو صحابہ کرامؓ نے پکڑ لیا تو آپ نے فوراً انہیں آزاد کرنے کا حکم فرمایا ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ فرماتی ہیں حضور ﷺنے دو شب لوگوں کے ساتھ نماز پڑھی تیسری شب تشریف نہیں لے کر نہیں گئے پھر فرمایا میں اس وجہ سے نا آیا کہ کہیں تم پر یہ نماز فرض نا کردی جائے

اسی طرح مسواک کے متعلق فرماتے ہیں اگر مجھے اپنی امت پر مشقت کا خوف نا ہوتا تو میں ہر نماز کے وقت واجب کا حکم دیتا حضرت امی عائشہ صدیقہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللّٰہ ﷺکو جو عمل پسند ہوتا وہ بھی کبھی کبھار صرف اسلئے چھوڑ دیتے کہ لوگ اس کے معمولات میں مشقت میں نا پڑ جائیں یا فرض نا کردی جائے حضرت انسؓ فرماتے ہیں ایک مرتبہ میں حضور ﷺکے ساتھ تہجد کی نماز میں شامل ہو گیا آپ نے محسوس کیا کہ میں شامل ہو گیا تو آپ نے نماز مختصر کردی حضورﷺ کو کسی کو تکلیف میں دیکھ کر خوش نہیں ہوتے تھے

بلکہ آپ کو خوشی اس وقت ہوتی جب کوئی اسلام قبول کر لیتا اجہل نے کوہ صفاء کے قریب حضور نبی کریم رؤف الرحیمﷺ کو سخت تکلیف دی شان اقدس میں گستاخی کی آپﷺ کو پتھر مارا جب یہ خبر حضور ﷺکے چچا حضرت حمزہؓ کو پہنچی تو حضرت حمزہؓ نے ابوجہل کو سبق سیکھایا اور حضور ﷺکی خدمت میں حاضر ہو کر جب ماجرا بیان فرمایا تو آپﷺ نے فرمایا مجھے خوشی اس سے نہیں بلکہ آپ کے قبول اسلام سے ہو گی جسکی وجہ سے حضرت حمزہؓ فوراً اسلام لے آئے کسی نے کیا خوب کہا حضور آپ کا لہجہ لسان رحمت آپ کا اسوہ جہاں رحمت روز محشر آپ کی کملی سایہ رحمت حضور آپ سارے جہانوں کے لئے رحمت ﷺ