برطانیہ میں امیگریشن مافیا کا نیا ہتھکنڈا: ہم جنس پرستی کا جھوٹا دعویٰ کر کے پناہ لینے کا حربہ عام ہوگیا

انجینئر بخت سید یوسفزئی –
(بریڈفورڈ، انگلینڈ)

برطانیہ میں ایک خفیہ مگر نہایت تشویشناک رجحان بے نقاب ہوا ہے، جہاں بعض قانونی مشیر، ایجنٹس اور غیر رجسٹرڈ افراد ایک منظم نیٹ ورک کے تحت مہاجرین کو جعلی کہانیاں تیار کرنے اور خود کو ہم جنس پرست ظاہر کرنے کی تربیت دے رہے ہیں تاکہ وہ پناہ حاصل کر سکیں۔ ایک حالیہ تحقیق نے اس پورے مکروہ کاروبار کی پرتیں کھول کر رکھ دی ہیں، جس میں انکشاف ہوا کہ ہزاروں پاؤنڈ کے عوض نہ صرف لوگوں کو جھوٹا بیانیہ دیا جاتا ہے بلکہ انہیں مکمل “پیکیج” فراہم کیا جاتا ہے جس میں ہر پہلو کو باریک بینی سے تیار کیا جاتا ہے۔

یہ معاملہ اس وقت مزید سنگین اور خطرناک شکل اختیار کر لیتا ہے جب یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان افراد کو باقاعدہ ذہنی اور عملی تربیت دی جاتی ہے کہ وہ انٹرویو کے دوران کس انداز میں گفتگو کریں، کون سے جذبات ظاہر کریں، اور کس طرح حکام کو قائل کریں کہ وہ واقعی اپنی جنسی شناخت کی بنیاد پر خطرے میں ہیں۔ اس مقصد کے لیے جعلی تصاویر، سفارشاتی خطوط، سوشل ایونٹس میں شرکت کے ثبوت اور حتیٰ کہ میڈیکل رپورٹس تک ترتیب دی جاتی ہیں تاکہ کیس کو ناقابلِ تردید بنایا جا سکے۔

برطانیہ کے پناہ کا نظام بنیادی طور پر ان افراد کے تحفظ کے لیے تشکیل دیا گیا ہے جو اپنے ممالک میں ظلم، جبر، یا جان کے خطرے کے باعث واپس نہیں جا سکتے۔ خاص طور پر ایسے ممالک جہاں ہم جنس پرستی غیر قانونی ہے، وہاں کے شہری اس بنیاد پر پناہ کے اہل ہو سکتے ہیں۔ تاہم اس انسانی ہمدردی پر مبنی نظام کا اس قدر بے دریغ اور منظم انداز میں غلط استعمال ایک نہایت سنگین اور تشویشناک مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔


تحقیقات سے یہ بات بھی سامنے آئی کہ اس دھندے میں شامل زیادہ تر افراد وہ ہوتے ہیں جن کے ویزے ختم ہونے کے قریب ہوتے ہیں یا ختم ہو چکے ہوتے ہیں۔ جب ان کے پاس قانونی طور پر قیام بڑھانے کا کوئی راستہ باقی نہیں رہتا تو وہ اس جعلی اور غیر قانونی طریقے کو اختیار کرنے پر مجبور یا آمادہ ہو جاتے ہیں، جسے انہیں ایک “آسان راستہ” بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔

ان میں سے کئی افراد کو یہ یقین دہانی بھی کروائی جاتی ہے کہ پناہ کی درخواست مسترد ہونے کے امکانات نہایت کم ہیں، جس سے ان کے اندر اعتماد پیدا کیا جاتا ہے اور وہ اس غیر قانونی عمل میں شامل ہونے کے لیے آمادہ ہو جاتے ہیں۔ اس کے بدلے میں ان سے ہزاروں پاؤنڈ کی خطیر رقم وصول کی جاتی ہے، جو بعض اوقات ان کی زندگی بھر کی جمع پونجی ہوتی ہے۔

مزید حیران کن اور افسوسناک پہلو یہ ہے کہ کچھ افراد کو ڈاکٹروں کے پاس جا کر خود کو ذہنی دباؤ، ڈپریشن یا دیگر نفسیاتی مسائل کا شکار ظاہر کرنے کی ہدایت دی جاتی ہے تاکہ وہ میڈیکل ثبوت حاصل کر سکیں۔ بعض کیسز میں تو افراد نے جھوٹ بول کر خود کو ایچ آئی وی جیسے سنگین مرض میں مبتلا ظاہر کیا، تاکہ ان کی کہانی کو مزید مضبوط اور قابلِ یقین بنایا جا سکے۔

تحقیقات میں شامل ایک خاتون مشیر نے دعویٰ کیا کہ وہ کئی برسوں سے اس طرح کے کیسز میں لوگوں کی مدد کر رہی ہیں اور انہیں اس عمل کا مکمل تجربہ حاصل ہے۔ انہوں نے یہاں تک کہا کہ وہ کسی ایسے شخص کا انتظام بھی کر سکتی ہیں جو درخواست دہندہ کے ساتھ جعلی تعلق کا دعویٰ کرے اور اس کے حق میں بیان دے، تاکہ کیس مزید مضبوط ہو جائے۔

اس پورے عمل میں بعض کمیونٹی تنظیموں کا بھی استعمال کیا جا رہا ہے، جہاں لوگوں کو بظاہر رکنیت دی جاتی ہے اور پھر ان کی جانب سے سفارشاتی خطوط جاری کیے جاتے ہیں۔ یہ خطوط بعد میں پناہ کی درخواست میں ایک مضبوط ثبوت کے طور پر پیش کیے جاتے ہیں، جس سے حکام کو گمراہ کیا جا سکے۔

ایک موقع پر درجنوں افراد ایک ایسے اجتماع میں شریک ہوئے جہاں حیران کن طور پر کئی افراد نے خود اعتراف کیا کہ وہ حقیقت میں ہم جنس پرست نہیں ہیں بلکہ صرف پناہ حاصل کرنے کے لیے یہ ڈرامہ کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اب ایک عام اور معروف طریقہ بن چکا ہے جسے بہت سے لوگ اختیار کر رہے ہیں۔

یہ صورتحال نہ صرف قانون کی صریح خلاف ورزی ہے بلکہ اس کے گہرے اور منفی اثرات ان حقیقی افراد پر بھی پڑ رہے ہیں جو واقعی اپنی جان کے خطرے کے باعث پناہ کے مستحق ہوتے ہیں۔ جعلی کیسز کی بڑھتی ہوئی تعداد کی وجہ سے اصل متاثرین کی درخواستوں پر بھی شک کیا جانے لگتا ہے، جو ایک انتہائی افسوسناک حقیقت ہے۔

قانونی ماہرین کے مطابق اس طرح کی سرگرمیاں واضح طور پر دھوکہ دہی، فراڈ اور نظام کے غلط استعمال کے زمرے میں آتی ہیں۔ ایسے افراد نہ صرف خود کو قانونی خطرات میں ڈالتے ہیں بلکہ پورے امیگریشن نظام کی ساکھ کو بھی شدید نقصان پہنچاتے ہیں۔

تحقیقات کے دوران یہ بھی سامنے آیا کہ کچھ وکلاء یا قانونی مشیر براہ راست اس دھندے میں شامل ہونے کے بجائے غیر رجسٹرڈ افراد کے ذریعے یہ کام کرواتے ہیں تاکہ وہ خود کو قانونی گرفت سے بچا سکیں اور اپنی ذمہ داری سے انکار کر سکیں۔

یہ غیر رجسٹرڈ مشیر عموماً گھروں، نجی کمروں یا غیر رسمی مقامات پر ملاقاتیں کرتے ہیں، جہاں وہ درخواست دہندگان کو مکمل منصوبہ فراہم کرتے ہیں۔ اس منصوبے میں کہانی، کردار، ثبوت، اور انٹرویو کی تیاری سمیت ہر پہلو شامل ہوتا ہے۔

ان افراد کو باقاعدہ یہ بھی سکھایا جاتا ہے کہ انٹرویو کے دوران کس قسم کے سوالات پوچھے جا سکتے ہیں اور ان کے کیا جوابات دینے ہیں۔ اس طرح ایک مکمل اور مربوط کہانی تیار کی جاتی ہے جسے وہ اعتماد کے ساتھ پیش کر سکیں۔

کچھ کیسز میں درخواست دہندگان کو ہم جنس پرستوں کے کلبوں، تقریبات اور اجتماعات میں جانے کا مشورہ دیا جاتا ہے تاکہ وہاں کی تصاویر، ویڈیوز اور ٹکٹ بطور ثبوت پیش کیے جا سکیں اور ان کے دعوے کو تقویت ملے۔

یہ معاملہ اس وقت مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جاتا ہے جب ایسے افراد بعد میں اپنے خاندان کے دیگر افراد کو بھی اسی بنیاد پر ملک میں بلانے کی کوشش کرتے ہیں۔ بعض کو یہ بھی مشورہ دیا گیا کہ وہ اپنی بیوی کو بھی جعلی طور پر ہم جنس پرست ظاہر کریں تاکہ وہ بھی پناہ حاصل کر سکے۔

اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ پناہ کی درخواستوں میں ایک نمایاں حصہ ایسے افراد پر مشتمل ہے جو پہلے سے برطانیہ میں موجود ہوتے ہیں اور ان کے ویزے ختم ہو چکے ہوتے ہیں، جو اس مسئلے کی سنگینی کو مزید واضح کرتا ہے۔

کچھ افراد نے اعتراف کیا کہ انہوں نے وکلاء یا مشیروں کے مشورے پر یہ راستہ اختیار کیا، لیکن بعد میں انہیں شدید مالی، ذہنی اور قانونی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، اور بعض کو اپنے کیسز پر ہزاروں پاؤنڈ خرچ کرنے پڑے۔

ایک شخص نے بتایا کہ اس نے کئی سال اس عمل میں گزارے، مختلف تقریبات میں شرکت کی، جعلی ثبوت اکٹھے کیے، اور مسلسل دباؤ میں زندگی گزاری، لیکن آخرکار اسے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا اور اسے ملک چھوڑنا پڑا۔

اس نے یہ بھی انکشاف کیا کہ اس کے کچھ جاننے والے اسی طریقے سے کامیاب ہو گئے اور اب وہ اپنے خاندان کے ساتھ برطانیہ میں رہ رہے ہیں، جو اس نظام کے استحصال کی ایک واضح مثال ہے۔

یہ صورتحال حکام کے لیے ایک بڑا اور پیچیدہ چیلنج بن چکی ہے، کیونکہ ایسے کیسز کی حقیقت جانچنا انتہائی مشکل ہوتا ہے، خاص طور پر جب معاملہ ذاتی شناخت اور نجی زندگی سے متعلق ہو۔

حکام کا کہنا ہے کہ جو بھی شخص اس نظام کا غلط استعمال کرتے ہوئے پایا گیا، اس کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی، جس میں جرمانے، قید اور ملک بدری جیسے اقدامات شامل ہو سکتے ہیں۔
یہ معاملہ نہ صرف قانونی بلکہ اخلاقی لحاظ سے بھی انتہائی حساس اور پیچیدہ ہے، کیونکہ اس سے ان لوگوں کے حقوق متاثر ہوتے ہیں جو واقعی ظلم و ستم کا شکار ہیں اور پناہ کے حقیقی حقدار ہیں.

لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسے عناصر کے خلاف مؤثر اور سخت کارروائی کی جائے، نظام کو مزید شفاف اور مضبوط بنایا جائے، اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ صرف مستحق افراد ہی اس انسانی ہمدردی پر مبنی نظام سے فائدہ اٹھا سکیں۔