کراچی (نمائندہ پنڈی پوسٹ)سابق وزیراعظم اور عوام پاکستان پارٹی (اے پی پی) کے سربراہ شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ گل پلازا کا سانحہ سب کے سامنے آگیا، کراچی میں ہزاروں ایسی عمارتیں موجود ہیں۔کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کراچی میں مزید جو عمارتیں موجود ہیں ان کے لیے بھی اقدامات کیے جائیں۔شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ یہاں پر روایتی انداز میں تفتیش ہوئی، اس سانحہ سے ہمیں سبق سیکھنا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی تمام ذمے داری ہے، آپ کو اس معاملہ کو طے کرنا ہے اور دیکھنا ہے کہ آئندہ ایسا نہ ہو، واقعے کے بعد حکومت کا ایک ادارہ معاملے کا تجزیہ کرتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ معلوم ہو رہا ہے کہ حکومت کی جانب سے ورثاء کے لیے کوئی اقدامات نہیں کیے جا رہے۔
صرف قراردادیں پاس کرنے سے معاملات طے نہیں ہوتے ہیں۔شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ 18ویں ترمیم میں عجلت سے کام لیا گیا تھا، جب آپ سب کی رائے شامل نہیں کرتے تو معاملات حل نہیں ہوتے۔ عوام کے نمائندوں کے گوشواروں تک عوام کو رسائی نہیں، عوام سے اتنا ڈر ہے تو سیاست چھوڑ دیں۔انہوں نے کہا کہ اسمبلی میں بات ہوئی ہے کہ کراچی کو وفاق کے حوالے کردیا جائے، وفاق کا کام نہیں شہر چلائے، صوبے کو پیسے ملتے ہیں، کراچی کو شکایت رہتی ہے مسائل حل نہیں ہوتے ہیں، جوکہ صحیح ہے۔سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ کراچی میں سڑکوں اور پانی کا نظام ٹھیک نہیں، کراچی میں پہلے گھروں پر پانی ملتا تھا اب ٹینکرز کے ذریعے ملتا ہے، کونسا ایسا بڑا شہر ہے جہاں پانی ٹینکرز کے ذریعے دیا جاتا ہے؟
ان کا کہنا تھا کہ ہر قسم کا مافیا پانی میں ملوث ہے، معاملات کو بہتر کیا جائے، بجائے اس کے کہ ترمیم سے کراچی کو وفاق کے حوالے کیا جائے، اندھیرے میں ترامیم نہیں ہوتیں، عوام کے سامنے رکھنا پڑتا ہے۔ بہت کم ایسے نمائندے ہوں گے جو اپنے اخراجات کو آمدن سے ثابت کر سکیں گے۔سابق وزیر اعظم نے کہا کہ اخراجات زیادہ اور ٹیکس کم دیتے ہیں، قومی اسمبلی نے قانون پاس کر کے اسپیکر کو اختیارات دیے، جس ملک میں الیکشن چوری ہوتے ہوں وہاں یہی ہوتا ہے جو ہو رہاہے۔شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ غزہ پیس بورڈ پر حکومت نے عجلت سے کام لیا ہے، ہماری ہمدردی فلسطین کے ساتھ ہے۔