انجینئر بخت سید یوسفزئی
دنیا بھر میں کروڑوں لوگ اپنے دن کا آغاز ایک کپ کافی سے کرتے ہیں۔ کسی کے لیے کافی صبح کی سستی دور کرنے کا ذریعہ ہے تو کسی کے لیے کام کے دوران تازگی اور توجہ برقرار رکھنے کا ساتھی۔ کچھ لوگ اسے ذائقے کی وجہ سے پسند کرتے ہیں، کچھ اس کی خوشبو کے دیوانے ہیں، جبکہ کئی افراد کے لیے کافی روزمرہ زندگی کا ایک لازمی حصہ بن چکی ہے۔ لیکن کیا ہم نے کبھی سوچا ہے کہ ہماری پسندیدہ کافی آخر دنیا تک پہنچی کیسے اور اسے پینے کے بعد ہمارے جسم میں کیا تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں؟
کافی کی تاریخ صدیوں پرانی ہے اور اس کے آغاز کے بارے میں ایک مشہور روایت ایتھوپیا کے ایک چرواہے سے منسوب کی جاتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ایک چرواہے نے دیکھا کہ اس کی بکریاں ایک خاص قسم کے سرخ پھل کھانے کے بعد غیر معمولی طور پر چست اور متحرک ہو جاتی ہیں۔ اس نے ان پھلوں کے بارے میں مقامی مذہبی شخص کو بتایا، جس نے ان کے اثرات کو محسوس کیا۔ اگرچہ یہ قصہ تاریخی طور پر مکمل طور پر ثابت نہیں، لیکن کافی کی ابتدائی تاریخ میں ایتھوپیا کو اہم مقام حاصل ہے۔
ایتھوپیا سے کافی کے بیج جزیرۂ عرب تک پہنچے اور یمن میں ان کی باقاعدہ کاشت شروع ہوئی۔ پندرہویں صدی کے دوران یمن میں کافی ایک معروف مشروب بن چکی تھی۔ یمنی شہر موکا کافی کی تجارت کا ایک اہم مرکز بن گیا، اور اسی وجہ سے دنیا کے مختلف حصوں میں کافی کے ذائقے اور تجارت کے ساتھ ’’موکا‘‘ کا نام بھی مشہور ہوا۔
بعد ازاں کافی عرب دنیا سے نکل کر مشرق وسطیٰ کے دوسرے علاقوں، شمالی افریقہ اور پھر یورپ تک پہنچی۔ سترہویں صدی تک یورپ کے کئی بڑے شہروں میں کافی ہاؤسز قائم ہو چکے تھے۔ یہ مقامات صرف کافی پینے کے لیے نہیں ہوتے تھے بلکہ لوگ وہاں بیٹھ کر گفتگو، کاروباری معاملات، سیاست اور علمی مباحث بھی کرتے تھے۔ یوں کافی آہستہ آہستہ ایک مشروب سے بڑھ کر سماجی زندگی کا حصہ بن گئی۔
آج برازیل، ویتنام، کولمبیا، انڈونیشیا، ایتھوپیا اور دیگر ممالک کافی پیدا کرنے والے بڑے ممالک میں شمار ہوتے ہیں۔ کافی دراصل ایک درخت کے پھل کے اندر موجود بیج سے حاصل ہوتی ہے۔ ان بیجوں کو خشک کرنے، بھوننے اور پیسنے کے بعد مختلف طریقوں سے مشروب تیار کیا جاتا ہے۔ بیج کو جتنا زیادہ بھونا جائے، اس کے ذائقے، خوشبو اور کیمیائی خصوصیات میں اتنی ہی تبدیلی آتی ہے۔
کافی میں سب سے زیادہ زیرِ بحث جزو کیفین ہے۔ کیفین ایک قدرتی محرک مادہ ہے جو دماغ اور اعصابی نظام کو متحرک کرتا ہے۔ جب ہم کافی پیتے ہیں تو کیفین خون میں جذب ہو کر دماغ تک پہنچتی ہے اور وہاں ایڈینوسین نامی ایک کیمیائی مادے کے اثر کو عارضی طور پر روکتی ہے۔ ایڈینوسین وہ مادہ ہے جو وقت گزرنے کے ساتھ ہمیں تھکن اور نیند کا احساس دلاتا ہے۔
اسی وجہ سے کافی پینے کے کچھ دیر بعد انسان خود کو زیادہ بیدار، چست اور متوجہ محسوس کر سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ طلبہ، ڈرائیور، دفتری ملازمین اور رات دیر تک کام کرنے والے افراد اکثر کافی کو توانائی اور توجہ کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ تاہم کافی حقیقی معنوں میں جسم کی توانائی پیدا نہیں کرتی بلکہ تھکن کے احساس کو کچھ وقت کے لیے کم محسوس کروا سکتی ہے۔
کیفین کا اثر ہر شخص پر یکساں نہیں ہوتا۔ کچھ لوگ ایک کپ کافی کے بعد بھی معمول کے مطابق رہتے ہیں، جبکہ بعض افراد کو تھوڑی مقدار سے ہی دل کی دھڑکن تیز محسوس ہونے لگتی ہے یا بے چینی پیدا ہو سکتی ہے۔ اس فرق کی ایک وجہ جسم میں کیفین کے میٹابولزم کی رفتار ہے، جو جینیاتی عوامل، عمر، بعض ادویات اور دیگر عوامل سے متاثر ہو سکتی ہے۔
کافی کا ایک اہم ممکنہ فائدہ اس میں موجود اینٹی آکسیڈنٹس ہیں۔ کافی میں مختلف نباتاتی مرکبات پائے جاتے ہیں جو جسم میں آکسیڈیٹو اسٹریس سے نمٹنے میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ معتدل مقدار میں کافی کے استعمال کو بعض تحقیقی مطالعات میں صحت کے کئی پہلوؤں کے ساتھ مثبت تعلق کے طور پر دیکھا گیا ہے۔
کئی بڑے مطالعات میں معتدل کافی نوشی اور بعض بیماریوں کے کم خطرے کے درمیان تعلق بھی دیکھا گیا ہے۔ ان میں ٹائپ 2 ذیابیطس، جگر کی بعض بیماریوں اور کچھ اعصابی امراض شامل ہیں۔ تاہم یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ کسی مشاہداتی تحقیق میں تعلق سامنے آنا اس بات کا قطعی ثبوت نہیں کہ کافی ہی بیماری سے بچاتی ہے۔ انسان کی مجموعی غذا، ورزش، وزن، نیند اور طرزِ زندگی بھی صحت پر گہرا اثر ڈالتے ہیں۔
کافی کا اثر جسمانی کارکردگی پر بھی پڑ سکتا ہے۔ کیفین دماغ کو متحرک کرنے کے ساتھ بعض افراد میں جسمانی سرگرمی کے دوران تھکن کے احساس کو کم کر سکتی ہے۔ اسی لیے ورزش کرنے والے بعض افراد ورزش سے پہلے محدود مقدار میں کیفین استعمال کرتے ہیں۔ تاہم زیادہ کافی پینا بہتر کارکردگی کی ضمانت نہیں اور ہر شخص کی برداشت مختلف ہوتی ہے۔
دوسری طرف کافی کے کچھ منفی اثرات بھی ہیں۔ اگر کوئی شخص ضرورت سے زیادہ کیفین استعمال کرے تو بے چینی، ہاتھوں میں کپکپاہٹ، معدے میں بے آرامی، دل کی دھڑکن محسوس ہونا اور نیند میں خلل جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ کچھ افراد میں یہ اثرات نسبتاً کم مقدار میں بھی ظاہر ہو سکتے ہیں۔
کافی کے استعمال کا وقت بھی اہم ہے۔ کیفین کا اثر کئی گھنٹوں تک جسم میں رہ سکتا ہے، اس لیے اگر کوئی شخص شام یا رات دیر سے کافی پیتا ہے تو اس کی نیند متاثر ہو سکتی ہے۔ نیند کی کمی خود اگلے دن تھکن، چڑچڑاپن اور توجہ میں کمی کا سبب بن سکتی ہے، جس کے بعد انسان دوبارہ زیادہ کافی پینے لگتا ہے۔ یوں ایک ایسا چکر بن سکتا ہے جس میں کافی عارضی طور پر تھکن کم کرتی ہے مگر نیند کے معیار کو متاثر کرکے اگلے دن مزید تھکن پیدا کر دیتی ہے۔
کافی کے ساتھ ایک اور مسئلہ اس میں شامل کی جانے والی چیزیں ہیں۔ سادہ بلیک کافی میں کیلوریز نسبتاً کم ہوتی ہیں، لیکن اگر اس میں بہت زیادہ چینی، کریم، سیرپ یا میٹھا دودھ شامل کیا جائے تو ایک کپ کافی کیلوریز اور شکر کا خاصا ذریعہ بن سکتی ہے۔ اس لیے صحت کے نقطۂ نظر سے کافی کے ساتھ کیا شامل کیا جا رہا ہے، یہ بھی کافی اہم ہے۔
کچھ لوگوں کو یہ شکایت ہوتی ہے کہ کافی پینے سے معدے میں تیزابیت یا جلن بڑھ جاتی ہے۔ یہ اثر ہر شخص میں نہیں ہوتا، لیکن حساس افراد میں کافی یا کیفین معدے کی تکلیف کو بڑھا سکتی ہے۔ ایسے افراد کے لیے مقدار کم کرنا، کھانے کے بعد کافی پینا یا کیفین سے پاک کافی آزمانا مفید ہو سکتا ہے۔
کافی کے بارے میں یہ تصور بھی عام ہے کہ یہ جسم کو شدید طور پر پانی کی کمی کا شکار کر دیتی ہے۔ حقیقت اس سے زیادہ پیچیدہ ہے۔ کیفین میں ہلکا پیشاب آور اثر ہو سکتا ہے، لیکن معمول کی مقدار میں کافی پینے سے حاصل ہونے والا سیال بھی مجموعی طور پر جسم کے پانی میں شامل ہوتا ہے۔ اس لیے عام حالات میں مناسب مقدار میں کافی کو پانی کا مکمل متبادل تو نہیں سمجھنا چاہیے، لیکن اسے محض پانی کی شدید کمی کا سبب قرار دینا بھی درست نہیں۔
کافی چھوڑنے کی کوشش کرنے والے افراد کو ایک اور دلچسپ حقیقت کا سامنا ہوتا ہے۔ اگر کوئی شخص روزانہ کافی یا کیفین کی زیادہ مقدار استعمال کرتا رہا ہو اور اچانک اسے بند کر دے تو سر درد، تھکن، چڑچڑاپن، توجہ میں کمی اور غنودگی جیسی علامات ظاہر ہو سکتی ہیں۔ یہ عموماً کیفین کی عادت بن جانے کے باعث ہوتی ہیں اور اکثر کچھ دنوں میں کم ہو جاتی ہیں۔
صحت مند بالغ افراد کے لیے کیفین کی روزانہ محفوظ مقدار عموماً تقریباً 400 ملی گرام تک بتائی جاتی ہے، لیکن یہ ہر شخص کے لیے یکساں مناسب مقدار نہیں۔ کافی کے ایک کپ میں کیفین کی مقدار اس کی قسم، سائز، بنانے کے طریقے اور برانڈ کے لحاظ سے کافی مختلف ہو سکتی ہے۔ اس لیے صرف یہ کہنا کہ ’’میں روزانہ دو یا تین کپ کافی پیتا ہوں‘‘ کافی نہیں؛ کپ کا حجم اور کافی کی طاقت بھی اہم ہے۔
حاملہ خواتین، کیفین کے لیے حساس افراد، دل کی بعض بیماریوں یا اضطراب سے متاثر افراد اور وہ لوگ جو مخصوص ادویات استعمال کرتے ہیں، انہیں کیفین کی مقدار کے بارے میں اپنے ڈاکٹر یا صحت کے ماہر سے مشورہ کرنا چاہیے۔ بچوں اور کم عمر افراد کے لیے بھی کیفین کا استعمال بالغوں جیسا معمول نہیں سمجھا جاتا۔
کافی کے بارے میں سب سے متوازن بات یہی ہے کہ اسے نہ تو ہر بیماری کا علاج سمجھا جائے اور نہ ہی ہر شخص کے لیے نقصان دہ مشروب قرار دیا جائے۔ اس کے فوائد اور نقصانات مقدار، فرد کی صحت، کافی کی قسم اور استعمال کے وقت پر منحصر ہوتے ہیں۔ اگر کسی شخص کو کافی سے نیند خراب نہیں ہوتی، بے چینی نہیں ہوتی اور وہ اسے بہت زیادہ چینی یا کیلوریز کے ساتھ استعمال نہیں کرتا تو معتدل مقدار میں کافی اس کی روزمرہ غذا کا حصہ ہو سکتی ہے۔
کافی کی اصل کہانی ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ دنیا کے مقبول ترین مشروبات میں سے ایک کا سفر ایک قدیم روایت سے شروع ہو کر آج عالمی صنعت تک پہنچ چکا ہے۔ ایتھوپیا کے پہاڑی علاقوں سے یمن، عرب دنیا، یورپ اور پھر پوری دنیا تک پہنچنے والی کافی نے انسانی معاشرت، تجارت اور روزمرہ زندگی پر گہرا اثر ڈالا ہے۔ اگلی بار جب آپ کافی کا کپ ہاتھ میں لیں تو صرف اس کی خوشبو اور ذائقے سے لطف اندوز نہ ہوں بلکہ یہ بھی یاد رکھیں کہ اس چھوٹے سے کپ کے پیچھے صدیوں پر محیط ایک دلچسپ تاریخ اور انسانی جسم کے اندر ہونے والے پیچیدہ حیاتیاتی عمل کی پوری کہانی چھپی ہے۔