محمد شفیق اعوان
آج سرِ راہ ہماری ملاقات ’’بے غمؔ الہ آبادی‘‘ سے ہو گئی۔ ملاقات کیا ہوئی، یوں سمجھیے کہ چلتے پھرتے ادب نے ادب سے ہاتھ ملا لیا۔ دعا سلام کے بعد بے غمؔ صاحب نے نہایت عجلت کے انداز میں فرمایا: ’’حضور! صدر بازار کے قہوہ خانے میں احبابِ کرام منتظر ہیں۔ جلدی چلیں، ورنہ وہ انتظار کرتے کرتے ہمیں یاد کرنے کے بجائے کوسنا شروع کر دیں گے۔‘‘
ہم نے عرض کیا: ’’یہ تو واقعی خطرے کی گھنٹی ہے۔ دوست کا انتظار ایک حد تک محبت ہوتا ہے، اس کے بعد بے صبری، اور بے صبری کے بعد خالص تبصرہ!‘‘
سو ہم دونوں تیزی سے صدر بازار کے اُس مشہور قہوہ خانے کی طرف روانہ ہوئے جہاں قہوہ کم اور گفتگو زیادہ گرم ہوا کرتی ہے۔
وہاں پہنچے تو دیکھا کہ محفل پہلے ہی پوری آب و تاب سے سجی ہوئی ہے۔ بھارت سے تشریف لائے ہوئے ہمارے مہمان ’’مُلّا ابن العرب مکّی‘‘ تشریف فرما تھے۔ کراچی کے ’’لاغرؔ مراد آبادی‘‘ اپنی لاغری کے باوجود پورے قد کے ساتھ موجود تھے، ’’گستاخؔ مراد آبادی‘‘ حسبِ دستور گستاخی کے لیے ذہنی طور پر تیار بیٹھے تھے اور ’’علامہ ابن العجم الشرقیؔ‘‘ کے چہرے سے یوں لگتا تھا جیسے عربی، فارسی، اردو اور پنجابی—سب کی لغتیں ایک ہی دماغ میں کرائے پر رہ رہی ہوں۔
ہمیں دیکھتے ہی احباب نے خوش آمدید کہا۔ ہم بھی ایسے خوش ہوئے جیسے کسی شاعر کی کتاب کا دیباچہ کسی بڑے آدمی نے مفت میں لکھ دیا ہو۔
قہوے کا دَور چلا۔ پھر دوسرا چلا۔ پھر گفتگو کا ایسا دور چلا کہ قہوے والے کو شاید شک ہونے لگا کہ یہ حضرات پینے آئے ہیں یا مستقل قہوہ خانہ خریدنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
باتوں باتوں میں نئی کتابوں کا ذکر آیا، پرانی کتابوں پر تبصرہ ہوا، پرانے دوست یاد آئے اور بعض ایسے بھی یاد آئے جنہیں یاد کرنا ہی آدمی کی سب سے بڑی بھول ثابت ہوتا ہے۔
اسی دوران بے غمؔ الہ آبادی نے فرمایا: ’’آپ حضرات جانتے ہیں کہ میرے ایک قلمی اور ٹیلی فونک دوست ’فائرؔ کراکری‘ بھی ہیں۔‘‘
یہ نام سنتے ہی گستاخؔ مراد آبادی نے ایسے چونک کر دیکھا جیسے کسی خاموش اجلاس میں اچانک پٹاخہ پھوٹ گیا ہو۔
بولے: ’’بے غمؔ صاحب! آج کل فائرؔ کراکری کا ذکر کچھ کم سننے میں آ رہا ہے۔ معاملہ کیا ہے؟ کہیں فائرؔ صاحب کی بارود گیلی تو نہیں ہو گئی؟‘‘
بے غمؔ صاحب نے ٹھنڈی سانس بھری اور فرمایا: ’’بارود گیلی ہو یا خشک، مسئلہ یہ ہے کہ دھواں ہماری طرف بہت آیا ہے!‘‘
محفل چونک گئی۔ ہم سب نے قہوے کے کپ تھام لیے۔ کیونکہ تجربہ بتاتا ہے کہ جب کوئی شاعر ٹھنڈی سانس لے کر ’’ایک واقعہ ہے‘‘ کہے تو سمجھ لیجیے کہ اب یا تو کوئی شعر نکلے گا یا برسوں پرانا حساب!
بے غمؔ صاحب نے کہا: ’’دیکھیں، میں فائرؔ کراکری کا کلام کمپوز کرتا رہا، رسائل کو بھیجتا رہا، خط و کتابت کرتا رہا، واٹس ایپ پر کلام وصول کرتا رہا اور اسے ترتیب دیتا رہا۔ ان کا کلام مختلف جرائد میں شائع بھی ہوا۔ پھر ان کا نعتیہ مجموعہ آیا، میں نے اس پر تبصرہ لکھا، رسائل کو بھیجا، وہ شائع بھی ہوا۔ قطعات کی کتاب آئی، اس پر تاثراتی مضمون لکھا۔ شخصی نظموں کی کتاب آئی، اس پر بھی مضمون لکھا اور وہ کتاب میں شامل بھی ہوا۔‘‘
گستاخؔ مراد آبادی نے فوراً پوچھا:
’’اور اس کے بدلے میں آپ کو کیا ملا؟‘‘
بے غمؔ صاحب بولے: ’’صدمہ!‘‘
محفل میں قہقہہ گونجا۔
پھر فرمانے لگے: ’’میں نے سوچا، شاید ابھی حساب مکمل نہیں ہوا۔ کتابیں شائع ہو کر آئیں تو میں نے کہا: چند نسخے بھیج دیجیے تاکہ چند کتب خانوں میں رکھوا دوں۔ آگے سے جواب آیا: ’میری اپنی ضرورت پوری نہیں پڑتی۔‘‘‘
لاغرؔ مراد آبادی نے کہا: ’’یہ بھی خوب ہے! کتاب لکھی مصنف نے، مضمون لکھا آپ نے، تشہیر آپ نے کی، رسائل کو آپ نے بھیجا، اور جب کتاب مانگی تو معلوم ہوا کہ کتاب اتنی نایاب ہے کہ مصنف کے پاس بھی نہیں!‘‘
بے غمؔ صاحب بولے: ’’میں نے کہا، بھائی! آپ ہی کے فائدے کی بات ہے، نہ بھیجیں۔ مگر کتابیں آ گئیں۔ ساتھ ہی فرمان بھی آ گیا کہ ’آئندہ ایسا نہیں ہو گا، مجھے تنگ نہ کرنا، پریشان نہ کرنا۔‘‘‘
گستاخؔ مراد آبادی نے کہا: ’’یعنی کتاب بھی دے دی اور احسان بھی واپس لے لیا!‘‘
علامہ ابن العجم الشرقیؔ بولے: ’’یہ ادبی معیشت کا نیا اصول ہے۔ خدمت لینے کے لیے دوست چاہیے، شکریہ ادا کرنے کا وقت آئے تو آدمی خود کفیل ہو جاتا ہے!‘‘
بے غمؔ صاحب نے کہا: ’’میں نے بھی عرض کر دیا: اچھا جناب! میرا نمبر بلاک کر دیجیے۔ آئندہ نہ کلام بھیجیے، نہ فون کیجیے۔ آپ وہیں بیٹھے بیٹھے فائر کرتے رہیے۔ ہم نے بھی اپنا فائر بریگیڈ بند کر دیا!‘‘
یہ سنتے ہی قہوہ خانے میں ایسا قہقہہ بلند ہوا کہ ایک صاحب نے گھبرا کر اپنا کپ سنبھال لیا۔ شاید انہیں ڈر تھا کہ کہیں ہنستے ہنستے قہوہ بھی شاعری نہ کرنے لگے۔
ایک آنہ اور پوری دوستی کا حساب
بے غمؔ صاحب نے کہا: ’’اس سارے معاملے کی یاد مجھے ایک پرانی کہانی سے آتی ہے۔‘‘
ہم سب خاموش ہو گئے۔
کہنے لگے: ’’ایک بوڑھی عورت دکان پر گئی اور بولی: ’بھائی! ایک سیر چاول دے دو۔‘ دکاندار نے چاول تول کر کاغذ کے لفافے میں ڈالے۔ بڑھیا نے ایک آنہ دیا۔ دکاندار نے وہ آنہ اپنے خزانے میں ڈالنے کے بجائے چاولوں کے لفافے میں ہی رکھ دیا۔‘‘
’’بڑھیا گھر آئی۔ چاول پکانے کے لیے برتن میں ڈالے تو ساتھ ایک آنہ بھی نکل آیا۔ بڑھیا نے آنہ دیکھا اور بولی: ’خیر ہے، دکاندار کو پھر بھی کچھ نہ کچھ منافع تو ہوا ہو گا!‘‘‘
یہ کہہ کر بے غمؔ صاحب خاموش ہو گئے۔
گستاخؔ مراد آبادی نے کہا: ’’بڑھیا بڑی خوش گمان تھی! آج کل ہوتی تو کہتی: دکاندار نے چاول بھی واپس لے لیے، آنہ بھی واپس لے لیا اور اوپر سے کہہ دیا کہ آئندہ مجھے پریشان نہ کرنا!‘‘
محفل پھر ہنس پڑی۔ واقعی بعض تعلقات کا حساب بھی بڑا دلچسپ ہوتا ہے۔ آپ اپنا وقت دیں، محنت دیں، صلاحیت دیں، مشورہ دیں، کلام ترتیب دیں، مضمون لکھیں، کتاب کا تعارف کریں، رسائل کو بھیجیں—اور آخر میں اگر آپ نے شکریہ کی توقع کر لی تو سمجھ لیجیے کہ آپ نے ایک بہت بڑا جرم کر دیا!
ہماری ادبی دنیا میں بعض حضرات کا معاملہ ایسا ہے کہ وہ مدد کو اپنا بنیادی حق سمجھتے ہیں اور احسان ماننے کو آئین کے خلاف قرار دیتے ہیں۔
’’خاک ڈال، آگ لگا…‘‘
بے غمؔ صاحب نے فرمایا: ’’بہرحال، اب نام کاٹ دیا ہے۔ ایک کی کمی ہو گئی۔‘‘
یہ سنتے ہی گستاخؔ مراد آبادی نے کہا:’’بس پھر تو امیرؔ کا یہ شعر ہی کافی ہے:‘‘
؎ جو تجھے بھولے ہیں تو تجھ پہ بھی لازم ہے امیر
خاک ڈال، آگ لگا، نام نہ لے، یاد نہ کر
علامہ ابن العجم الشرقیؔ نے فوراً یعقوب آسی کا پنجابی میں جوابِ شکوہ پیش کر دیا:
؎ اُس نے تینوں دلوں بھلایا، تیرے تے وی لازم آیا
مِٹّی پا سُو، تیلی لا سُو، ناں نہ لے سُو، وِسّر جا سُو
بس پھر کیا تھا! اردو اور پنجابی نے مل کر ایسی تالیاں بجوائیں کہ قہوے والے نے شاید سمجھا آج کوئی ادبی جلسہ نہیں، انتخابی جلسہ ہو رہا ہے۔
چند شاعر ایک جگہ جمع ہوں اور مشاعرہ نہ ہو، یہ ویسی ہی بات ہے جیسے قہوہ خانہ ہو اور کوئی قہوہ نہ پیے۔
چنانچہ باقاعدہ مشاعرے کا آغاز ہو گیا۔
مُلّا ابن العرب مکّی نے علامہ اقبالؒ کے اشعار سنائے:
؎ کہتا ہوں وہی بات سمجھتا ہوں جسے حق
نہ ابلۂ مسجد ہوں، نہ تہذیب کا فرزند!
؎ اپنے بھی خفا مجھ سے ہیں، بیگانے بھی ناخوش
میں زہرِ ہلاہل کو کبھی کہہ نہ سکا قند!
شعر ختم ہوا تو کچھ دیر کے لیے محفل سنجیدہ ہو گئی۔ آخر اقبالؒ کا شعر تھا۔ بعض اشعار ایسے ہوتے ہیں کہ آدمی قہوہ پینا بھول جاتا ہے اور اپنے اعمال کا حساب شروع کر دیتا ہے۔
پھر لاغرؔ مراد آبادی نے محمد حلیمؔ انصاری کا قطعہ سنایا:
؎ ہوئے ساون میں اندھے یوں کہ ہریالی نہیں جاتی
بسی ہے پورے دل میں آدھی گھر والی نہیں جاتی
یوں اکثر سنڈے کو سالی ہمارے گھر تو آتی ہے
وہ آ کے لوٹ جاتی ہے، خشک سالی نہیں جاتی
قطعہ ختم ہوا تو بعض حضرات ہنسے، بعض نے مسکراہٹ چھپائی اور چند نے غالباً احتیاطاً اِدھر اُدھر دیکھ لیا کہ کہیں گھر سے کوئی مخبر تو موجود نہیں!
بے غمؔ الہ آبادی نے مولانا ظفرؔ علی خان کا شعر سنایا:
؎ خدا نے آج تک اُس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا
یہ شعر سن کر محفل کا مزاج پھر بدل گیا۔ معلوم ہوا کہ قوم کی اصلاح کے لیے صرف قہوے کی پیالی پر بیٹھ کر ملک کے تمام مسائل حل کرنا کافی نہیں، اپنی اصلاح بھی ضروری ہے۔
آخر میں بے غمؔ صاحب نے ہماری طرف رخ کیا اور کہا:
’’جناب! اب آپ بھی کوئی شعر سنا دیجیے۔‘‘
ہم نے سوچا، جب اتنے بڑے بڑے توپ خانے چل چکے ہیں تو ہم بھی اپنی جیب سے ایک شعر نکال ہی دیں۔
چنانچہ علامہ اقبالؒ کا یہ شعر سنایا:
؎ خبر نہیں کیا ہے نام اس کا، خدا فریبی کہ خود فریبی؟
عمل سے فارغ ہوا مسلماں، بنا کے تقدیر کا بہانہ
اب کے محفل میں واقعی خاموشی چھا گئی۔ شاید ہر شخص نے ایک لمحے کے لیے سوچا کہ ہم دوسروں کی خامیاں گنوانے میں تو بڑے ماہر ہیں، مگر جب اپنی باری آتی ہے تو فوراً تقدیر کا ایک بڑا سا پردہ تان دیتے ہیں۔
قہوے کی محفل کا آخری سبق
مشاعرہ جاری رہا۔ ہر شاعر نے اپنا کلام سنایا۔ کہیں محبت تھی، کہیں جدائی، کہیں قوم کا درد، کہیں معاشرے پر طنز، کہیں زمانے کی بے وفائی اور کہیں دوستوں کی وہ مہربانیاں جن سے آدمی دشمنوں کی کمی محسوس نہیں کرتا۔
آخر میں گستاخؔ مراد آبادی نے اپنی گستاخی کو نصیحت کے لباس میں پیش کرتے ہوئے کہا: ’’یاد رکھیے! جہاں آپ کی قدر نہ ہو، وہاں اپنی جوتی گھسنے کی ضرورت نہیں۔ جہاں ادب و احترام نہ ملے، وہاں بار بار جانا اپنی بے قدری کو دعوت دینا ہے۔ ابنُ الوقت، لالچی اور مطلب پرست لوگوں سے فاصلہ رکھنا ہی بہتر ہے۔‘‘
ہم نے سوچا، یہ بات صرف دوستوں پر ہی صادق نہیں آتی۔ زندگی کے ہر میدان میں ایسے لوگ مل جاتے ہیں جو آپ کے وقت کو مفت، آپ کی محنت کو معمولی اور اپنی ضرورت کو فوری سمجھتے ہیں۔
انہیں آپ کی ضرورت ہو تو فون کی گھنٹی مسلسل بجتی ہے۔
آپ کو ان کی ضرورت ہو تو جواب آتا ہے: ’’دیکھتے ہیں۔‘‘
اور یہ ’’دیکھتے ہیں‘‘ بعض اوقات ایسا وسیع سمندر ہوتا ہے جس کا کوئی کنارہ نہیں ملتا!
کچھ لوگ آپ کو اُس وقت تک بہت اچھا سمجھتے ہیں جب تک آپ اُن کے کام آ رہے ہوں۔ جس دن آپ نے ’’نہیں‘‘ کہہ دیا، آپ کی ساری خوبیاں اچانک غائب ہو جاتی ہیں اور آپ کی خامیوں کی فہرست تیار ہو جاتی ہے۔
اس لیے ضروری ہے کہ خلوص ضرور کیجیے، مگر خود کو خلوص کا مفت دفتر نہ بنائیے۔
مدد کیجیے، مگر اپنی عزّت بچا کر۔
دوستی کیجیے، مگر آنکھیں بند کر کے نہیں۔
لوگوں کے کام آئیے، مگر اپنے وقت اور محنت کی قیمت بھی پہچانیے۔
شکریہ کی بھیک نہ مانگیے، لیکن ناشکری کو دوستی کا نام بھی نہ دیجیے۔
اور اگر کوئی شخص آپ کے خلوص کو بار بار ’’تنگ کرنا‘‘ اور آپ کی بے لوث خدمت کو ’’پریشان کرنا‘‘ سمجھتا ہو تو پھر واقعی امیرؔ کے مشورے میں بڑی حکمت ہے:
؎ خاک ڈال، آگ لگا، نام نہ لے، یاد نہ کر
البتہ ہمارا مشورہ یہ ہے کہ آگ صرف محاورے میں لگائیے، حقیقت میں نہیں—کیونکہ فائرؔ کراکری صاحب کا نام آتے ہی غلط فہمی کا امکان ویسے بھی بڑھ جاتا ہے!
قہوے کا آخری گھونٹ لیا تو بے غمؔ الہ آبادی مسکراتے ہوئے بولے: ’’بھائی! آج کی محفل کا حساب کون دے گا؟‘‘
گستاخؔ مراد آبادی فوراً بولے: ’’حساب سب اپنا اپنا دیں گے۔ ہم وہ دکاندار نہیں جو ایک آنہ بھی چاولوں کے لفافے میں واپس رکھ دے!‘‘
اس پر ایسی ہنسی چھوٹی کہ قہوہ خانہ دیر تک گونجتا رہا۔
ہم رخصت ہوئے تو دل میں یہی خیال تھا کہ آج کی محفل میں صرف قہوہ نہیں پیا گیا، بلکہ دوستی، ادب، ناشکری، خودداری اور انسانی رویّوں کا ایک پورا ’’کشکول‘‘ ہمارے سامنے رکھ دیا گیا۔
زندگی کا سبق بھی شاید یہی ہے کہ خلوص ضرور بانٹیے، مگر وہاں نہیں جہاں لوگ آپ کے خلوص کو اپنا حق اور آپ کی خودداری کو گستاخی سمجھنے لگیں۔
آخرکار تعلقات بھی چاولوں کے لفافے جیسے ہوتے ہیں؛ اگر آپ بار بار اپنی محنت، وقت اور محبت اس میں ڈالتے رہیں اور دوسرا ہر مرتبہ آپ ہی کی چیز آپ کو واپس دے کر بھی اپنے منافع میں مطمئن رہے، تو پھر بہتر ہے کہ لفافہ بند کیجیے، ایک طرف رکھیے اور مسکراتے ہوئے کہیے: ’’خیر ہے، دکاندار کو پھر بھی کچھ نہ کچھ منافع تو ہوا ہو گا!‘‘