کراچی(پنڈی پوسٹ نیوز) سندھ ہائیکورٹ نے کے الیکٹرک کی مبینہ غیر قانونی لوڈشیڈنگ اور قوانین کی خلاف ورزی سے متعلق آئینی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔درخواست گزار سیدہ ماریہ رضا نے موقف اختیار کیا کہ پابندی سے بجلی کے بل ادا کرنے والے صارفین کو بھی غیر قانونی لوڈشیڈنگ کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ درخواست گزار کا تعلق حاجی لیموں گوٹھ، گلشن اقبال بلاک 3 سے ہے۔
درخواست میں کہا گیا کہ لیاری ایکسپریس وے سے متصل قائداعظم کالونی اور عظیم گوٹھ کے کروڑوں روپے کے واجبات ادا نہیں کیے گئے، تاہم کے الیکٹرک کے عملے نے نادہندہ علاقوں کے مکینوں کو بھی حاجی لیموں گوٹھ کے پی ایم ٹی سے کنکشن فراہم کیے۔درخواست گزار کے مطابق نادہندگان کی جانب سے کنڈے لگانے کے باعث ان کے علاقے کی کیٹیگری تبدیل کر دی گئی، جو کے الیکٹرک ڈسٹری بیوشن رولز 2005 اور نیپرا قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔
درخواست میں استدعا کی گئی کہ نیپرا ایکٹ کے سیکشن 40(2) کے تحت کے الیکٹرک پر سخت اور روزانہ کی بنیاد پر جرمانہ عائد کیا جائے، جبکہ عدالت کے الیکٹرک کو بلاجواز، امتیازی اور غیر قانونی لوڈشیڈنگ سے فوری طور پر روکے۔
درخواست گزار نے مزید موقف اختیار کیا کہ کے الیکٹرک حکام عدالتی اور ریگولیٹری احکامات پر عمل درآمد سے انکاری ہیں۔دوسری جانب کے الیکٹرک کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ نیپرا درخواست گزار کے حق میں پہلے ہی حکم امتناع جاری کر چکی ہے، اس لیے درخواست قابل سماعت نہیں۔ عدالت نے دلائل مکمل ہونے کے بعد درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔