پمز کی نرسری میں جلتے ننھے چراغ اور ریاستی بے حسی
اسلام آباد کے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کی نرسری میں ہونے والا المناک آتشزدگی کا واقعہ صرف چند معصوم جانوں کا ضیاع نہیں، بلکہ پورے نظامِ صحت، ہسپتال انتظامیہ، وفاقی وزارتِ صحت، اسلام آباد کی انتظامیہ اور متعلقہ شہری اداروں کے لیے ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب محض ایک تحقیقاتی کمیٹی، چند تعزیتی بیانات اور رسمی کارروائی سے نہیں دیا جا سکتا۔
26 اگست کی صبح پمز کے مادر و طفل صحت وارڈ کی نرسری میں آگ بھڑکی۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق وہاں نومولود بچے موجود تھے اور ایک بچے کو ڈاکٹر نے بچا لیا، جبکہ متعدد معصوم بچے جاں بحق ہوگئے۔ بعض رپورٹس میں آگ کی وجہ ایئر کنڈیشنر کے کمپریسر میں خرابی یا دھماکا بتائی گئی ہے،
تاہم حتمی وجہ ابھی تحقیق طلب ہے۔مگر اصل سوال یہ نہیں کہ کمپریسر پھٹا یا شارٹ سرکٹ ہوا۔ اصل سوال یہ ہے کہ ایک ایسے ہسپتال کی نرسری، جہاں نومولود بچے انکیوبیٹرز اور آکسیجن پر زندگی کی جنگ لڑ رہے ہوں، وہاں فائر سیفٹی کا نظام کتنا محفوظ تھا؟اگر ایک خراب ایئر کنڈیشنر، بجلی کا نقص یا کوئی معمولی تکنیکی خرابی چند منٹوں میں نرسری کو موت کے کمرے میں تبدیل کرسکتی ہے تو پھر سالانہ اربوں روپے کے سرکاری صحت کے نظام میں حفاظتی معائنوں، برقی نظام کی جانچ، فائر الارم، اسپرنکلر، ایمرجنسی ایگزٹ اور تربیت یافتہ عملے کا کیا کردار ہے؟
یہ بھی ایک سنگین سوال ہے کہ اگر آگ لگنے کے بعد ریسکیو اہلکاروں کو متاثرہ حصے تک پہنچنے کے لیے کھڑکی کے شیشے توڑ کر اندر داخل ہونا پڑا، تو کیا ہسپتال کا ایمرجنسی ایویکیوایشن پلان واقعی فعال تھا؟ رپورٹس کے مطابق ریسکیو کارروائی میں فائر بریگیڈ کی متعدد گاڑیاں اور ایمبولینسز شریک ہوئیں، جبکہ متاثرہ وارڈ تیسری منزل پر تھا۔
یہاں وفاقی وزیر صحت سے سوال بنتا ہے: کیا وزارتِ صحت نے پمز جیسے بڑے سرکاری ہسپتال کے فائر سیفٹی نظام کا حالیہ جامع آڈٹ کرایا تھا؟ اگر کرایا تھا تو اس کی رپورٹ کہاں ہے؟ اگر نہیں کرایا گیا تو اس غفلت کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟ہسپتال انتظامیہ سے سوال ہے کہ کیا نرسری میں نصب ایئر کنڈیشننگ اور برقی نظام کی بروقت مینٹیننس اور سیفٹی انسپیکشن ہوئی تھی؟
کیا فائر الارم اور ایمرجنسی رسپانس سسٹم مکمل طور پر فعال تھا؟ کیا عملے کو بچوں کو چند منٹوں میں محفوظ مقام پر منتقل کرنے کی باقاعدہ تربیت دی گئی تھی؟اسلام آباد کی انتظامیہ اور شہری اداروں سے بھی پوچھنا ہوگا کہ سرکاری ہسپتالوں کی عمارتوں، بجلی کے نظام، فائر سیفٹی اور ہنگامی راستوں کی نگرانی کا ذمہ دار کون ہے۔
سی ڈی اے سمیت متعلقہ اداروں کو یہ واضح کرنا ہوگا کہ عمارت اور حفاظتی تقاضوں کے حوالے سے کیا معائنہ کیا گیا تھا اور اس کی دستاویزی رپورٹ کہاں موجود ہے۔ہمیں ہر سانحے کے بعد ایک کمیٹی بنانے کی عادت پڑ چکی ہے۔ کمیٹی بنتی ہے، رپورٹ آتی ہے، چند افسران کو نوٹس ملتے ہیں اور پھر فائلیں الماریوں میں دفن ہوجاتی ہیں۔
اگر اس واقعے میں بھی یہی ہونا ہے تو پھر ان معصوم بچوں کی موت سے ہم نے کچھ نہیں سیکھا۔کرپشن کے الزامات بھی صرف سیاسی بیان بازی نہیں ہونے چاہئیں۔ اگر تحقیقات میں یہ ثابت ہوتا ہے کہ ناقص آلات خریدے گئے، مینٹیننس کے نام پر کاغذی کارروائی ہوئی، حفاظتی نظام کی جعلی تکمیل دکھائی گئی یا کسی افسر نے ذمہ داری پوری نہیں کی تو ایسے افراد کو صرف معطل نہیں بلکہ قانون کے مطابق جواب دہ بنایا جانا چاہیے۔
یہ بچے کسی افسر کے اعداد و شمار نہیں تھے۔ یہ کسی ماں کی گود، کسی باپ کی امید اور کسی خاندان کا مستقبل تھے۔ ریاست نے انہیں علاج کے لیے ہسپتال کی چار دیواری میں پہنچایا تھا؛ اگر وہیں ان کی زندگیاں محفوظ نہ رہ سکیں تو پھر عوام سرکاری صحت کے نظام پر اعتماد کیسے کریں؟
وزیراعظم نے فوری تحقیقات اور ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت کی ہے، جبکہ اسلام آباد انتظامیہ نے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی بھی قائم کی ہے۔ اب اصل امتحان یہ ہے کہ تحقیقات صرف ’’آگ کیسے لگی‘‘ تک محدود رہتی ہیں یا یہ بھی طے کرتی ہیں کہ آگ لگنے کے بعد اتنے معصوم بچوں کو بچانے کے لیے نظام کہاں ناکام ہوا؟
پمز میں جلنے والے یہ ننھے چراغ ہمیں ایک تلخ سبق دے گئے ہیں: ریاست کی اصل ذمہ داری صرف ہسپتال بنانا نہیں، بلکہ ان ہسپتالوں میں آنے والے ہر مریض کی زندگی کو محفوظ بنانا بھی ہے۔اب وقت ہے کہ تعزیتی بیانات سے آگے بڑھا جائے۔ ذمہ داروں کا تعین ہو، غفلت ثابت ہو تو سزا دی جائے،
پورے ملک کے سرکاری ہسپتالوں کا فائر سیفٹی آڈٹ کرایا جائے اور ایسی اصلاحات کی جائیں کہ آئندہ کسی ماں کو اپنے نومولود بچے کی لاش لینے کے لیے ہسپتال کے دروازے پر کھڑا نہ ہونا پڑے۔کیونکہ پمز کی نرسری میں صرف بچے نہیں جلے؛ اس سانحے نے ہمارے نظامِ صحت کی کارکردگی، نگرانی اور جواب دہی پر بھی ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ثبت کردیا ہے۔
راجہ طاہر محمود
03005242865