قوموں کی تاریخ میں بعض لمحے صرف واقعات نہیں رہتے بلکہ تفاخر، عزم اور قومی شعور کی ایسی علامت بن جاتے ہیں جو ہمیشہ کے لیے تاریخ کے سنہری اوراق میں محفوظ ہو جاتی ہیں۔ جب کوئی غیر معمولی کارکردگی، جرات یا قربانی منصۂ شہود پر آتی ہے تو وہ نسلوں کے حافظے کا حصہ بن جاتی ہے۔ بالخصوص عسکری تاریخ میں بعض کامیابیاں صرف معرکہ نہیں رہتیں بلکہ قومی وقار، دفاعی استقامت اور اجتماعی حوصلے کی علامت بن جاتی ہیں۔
یادوں کے دریچوں سے جھانکتے ہیں تو وہ لمحے آج بھی بارود کی گھن گرج کے ساتھ سنائی دیتے ہیں۔ فضا میں بے چینی تھی، سرحدوں پر کشیدگی تھی، اور پھر خبر آئی کہ بھارت نے حملہ کر دیا ہے۔ یہ سب پچھلے چند روز سے پہلگام کے سلسلے میں پیدا ہونے والی صورتحال کا نتیجہ تھا۔ وہی پہلگام، جو بعد ازاں بھارت کے لیے ایک ناسور بن گیا۔
پچھلے سال کی بات ہے جب مئی 2025 میں بھارت نے ایک مبینہ فالس فلیگ آپریشن کے تحت 26 بے گناہ جانوں کو خون میں نہلا دیا اور اس کا الزام پاکستان پر عائد کر دیا۔ اس کے بعد سوشل میڈیا، بین الاقوامی میڈیا اور سفارتی محاذ پر مودی حکومت نے ایک منظم بیانیہ تشکیل دینے کی بھرپور کوشش کی تاکہ پاکستان کو عالمی سطح پر مورد الزام ٹھہرایا جا سکے۔ الزام تراشی، میڈیا کا شور، سیاسی بیانات اور سفارتی کشیدگی لمحہ بہ لمحہ بڑھتی گئی۔ دنیا خاموش تماشائی بنی رہی جبکہ جنوبی ایشیا کے افق پر جنگ کے سیاہ بادل گہرے ہوتے چلے گئے۔
پھر سات مئی کی وہ رات آئی جب بھارت نے اسی واقعے کو جواز بنا کر “آپریشن سندور” کے نام پر پاکستان کے مختلف علاقوں کو نشانہ بنایا۔ بہاولپور، مریدکے، سیالکوٹ اور مظفرآباد کی فضائیں بارود کی بو سے بھر گئیں۔ مساجد اور مدارس کو دہشت گردی کے نام پر نشانہ بنایا گیا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب خطے نے محسوس کیا کہ معاملہ اب سفارتی بیانات سے کہیں آگے جا چکا ہے۔
پاکستان کے مختلف شہروں اور اہم مقامات کو جنگی بنیادوں پر نشانہ بنانا بظاہر محدود اور ٹارگٹڈ کارروائی کہا گیا، مگر حقیقت میں یہ دنیا کی ایک ایٹمی طاقت، ایک آزاد اور خودمختار ریاست کی سالمیت، آزادی اور قومی وقار پر براہ راست حملہ تھا۔ اس جارحیت نے پورے برصغیر کو ایک بار پھر جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا۔ کیونکہ ریاستیں صرف سرحدوں سے نہیں بلکہ اپنی خودمختاری، دفاعی وقار اور قومی غیرت سے پہچانی جاتی ہیں۔
جب نور خان ایئر بیس کو نشانہ بنایا گیا، جو دفاعی اعتبار سے نہایت اہمیت کا حامل تھا، تو یہی وہ لمحہ تھا جب افواج پاکستان نے وطن کے دفاع کے لیے “ڈو اینڈ ڈائی” کا فیصلہ کیا۔ یہی وہ وقت تھا جب پاکستانی قیادت اور عسکری کمان نے خاموشی توڑتے ہوئے بھرپور جوابی کارروائی کا فیصلہ کیا۔ یہی لمحہ تاریخ کا فیصلہ کن موڑ ثابت ہوا۔ سپریم کمانڈ کی جانب سے “آپریشن بنیان المرصوص” کا اعلان کیا گیا، اور اس کے بعد جو کچھ ہوا، وہ جنوبی ایشیا کی عسکری تاریخ کے سنہری ابواب میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
فضاؤں میں ایک ہولناک معرکہ برپا ہوا۔ مختلف رپورٹس کے مطابق 180 بھارتی جنگی طیارے اور صرف 42 پاکستانی شاہین آمنے سامنے تھے۔ ایک طرف جدید رافیل، SCALP میزائل اور مغربی ٹیکنالوجی تھی، جبکہ دوسری طرف جذبۂ ایمانی، غیر معمولی حکمت عملی، بہترین کمانڈ اینڈ کنٹرول اور شاہینوں کا ناقابل تسخیر حوصلہ تھا۔
اسی جنگ میں پاکستان کی بروقت فیصلہ سازی، ایمرجنسی مینجمنٹ اور جدید دفاعی نظام، خصوصاً Saab Erieye AWACS نے پوری جنگ کا نقشہ بدل کر رکھ دیا۔ پھر دنیا نے دیکھا کہ کس طرح پاکستان نے حیرت انگیز رفتار، نظم اور دقت کے ساتھ بھارتی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ چندی گڑھ ویپن ڈپو، سری نگر ایئر بیس، اڑی، ادھم پور، راجستھان اور S-400 سسٹمز تک لرز اٹھے۔ یہ صرف حملے نہ تھے بلکہ ایک واضح پیغام تھا کہ پاکستان اپنے دفاع، آزادی اور وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
“آپریشن بنیان المرصوص” کے تحت پاکستان نے ایسا جواب دیا جس نے جنگی توازن بدل کر رکھ دیا۔ چینی ساختہ J-10C طیاروں اور PL-15 میزائلوں نے بھارتی فضائی برتری کے غرور کو ریزہ ریزہ کر دیا۔ دنیا حیران رہ گئی جب بھارت کے پانچ جدید جنگی طیارے زمین بوس ہوئے، جن میں رافیل بھی شامل تھا۔ رافیل کا گرنا محض ایک طیارے کی تباہی نہ تھا بلکہ مغرور بھارت کے غرور کا سقوط تھا۔ یہ اس تصور کی شکست بھی تھی کہ صرف مہنگے ہتھیار جنگ جیت سکتے ہیں۔
اسی لمحے دنیا نے محسوس کیا کہ جنوبی ایشیا میں یہ جنگ صرف دو ملکوں کا تصادم نہیں بلکہ عالمی طاقتوں کے مفادات، ٹیکنالوجی اور اسٹریٹیجک توازن کی جنگ بھی ہے۔ رافیل کے ملبے کے ساتھ صرف بھارتی وقار ہی نہیں گرا بلکہ مغربی عسکری برتری کے کئی دعوے بھی زمین بوس ہو گئے۔
پھر اچانک عالمی برادری کو ہوش آیا اور سفارت کاری تیز کی گئی۔ فریقین کی ایٹمی صلاحیتوں اور ممکنہ جنگی پھیلاؤ کے خوف نے پوری دنیا کو تشویش میں مبتلا کر دیا۔ بالآخر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے “مکمل اور فوری سیز فائر” کا اعلان کیا۔
یہ جنگ صرف سرحدوں پر نہیں لڑی گئی بلکہ سوشل میڈیا، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز، نفسیاتی محاذ اور اطلاعاتی یلغار میں بھی جاری رہی۔ جھوٹ، پروپیگنڈا، جذبات و چیخ وپکار اور ہیجان کے اس دور میں پاکستان نے نہ صرف عسکری میدان بلکہ بیانیے کی جنگ میں بھی اپنی قوت منوائی۔ آئی ایس پی آر کی گیارہ مئی کی پریس بریفنگ آج بھی بازگشت کی طرح سنائی دیتی ہے جب واضح الفاظ میں کہا گیا، “ہم نے کسی سویلین علاقے کو نشانہ نہیں بنایا۔ نہ ہمارا مذہب اس کی اجازت دیتا ہے اور نہ ہماری اخلاقیات۔”
یہی دانشمندانہ قیادت تھی جس نے نہ صرف الفاظ بلکہ عملی اقدامات میں بھی انتہائی نپے تلے انداز میں دانش کا مظاہرہ کیا اور کامیاب دفاع کو یقینی بنایا۔ یوں جنگ تو رک گئی، مگر اس روشن کامیابی کے اثرات آج بھی ہمارے سینوں پر تمغوں کی مانند جگمگا رہے ہیں۔
مجھے واصف علی واصف کے زریں الفاظ یاد آتے ہیں: “جیت ہمیشہ شکار اور ہار شکاری کی”، کیونکہ شکار کے لیے یہ زندگی اور موت کا سوال ہوتا ہے جبکہ شکاری کے لیے یہ محض زبان کی لذت ہوتی ہے۔”
پاکستان کے لیے یہ جنگ اپنی بقا، آزادی اور وقار کی جنگ تھی۔
ہمارے لیے یہ صرف جنگ نہ تھی، یہ “ہونا یا نہ ہونا” تھا۔
جبکہ بھارت خطے کی تھانیداری کے زعم میں میدان میں اترا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ جذبے نے وسائل کو شکست دی اور عزم نے غرور کو خاک میں ملا دیا۔
تاریخ گواہ ہے کہ تعداد، وسائل اور اسلحہ ہمیشہ فتح کی ضمانت نہیں ہوتے۔ بدر کے میدان میں 313 نے بھی یہی سبق دیا تھا کہ جب ایمان، حکمت اور مقصد یکجا ہو جائیں تو تاریخ کا رخ بدل جاتا ہے۔ سنا تھا جنگ میں صرف ہتھیار نہیں بلکہ فیصلے دشمن کو زیر کرتے ہیں، اور ہماری جری و بہادر افواج نے اسے ممکن کر دکھایا۔
آج، ایک سال بعد، جب ہم اس معرکے کو یاد کرتے ہیں تو کئی سوال اب بھی جواب کے منتظر ہیں۔
کیا پہلگام حملے کے اصل ذمہ دار سامنے آئے؟
کیا جنگ کسی مسئلے کا حل بنی؟
اگر اس سانحے کی شفاف تحقیقات ہوتیں، اگر مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی جاتی، اگر جنگی جنون کے بجائے تدبر اور دانش کا راستہ اختیار کیا جاتا، تو شاید کروڑوں انسانوں کی زندگیاں خوف اور بے یقینی کے سائے سے محفوظ رہتیں اور اصل مجرم دنیا کے سامنے بے نقاب ہو جاتے۔ مگر افسوس کہ جنگ کے شور میں سب سے اہم سوالات دب کر رہ گئے۔ پھر بھی اس پوری داستان کا ایک روشن پہلو کو ہمیشہ زندہ رہے گا کہ قوم دفاع سے ہے اور دفاع قوم سے۔ دونوں کا باہمت، یک آواز اور یکجا ہونا ہی اصل فتح ہے۔
یہی اتحاد ہوتا ہے کہ جوان دشمن کے سامنے سینہ تان کر کھڑا ہو جاتا ہے اور پوری قوم کی نگاہیں آسمان کی طرف اٹھ جاتی ہیں۔ ہاتھ اپنے محافظوں کی سلامتی، سربلندی اور فتح کے لیے دعا میں بلند ہو جاتے ہیں، اور قوم “بنیان المرصوص” بن جاتی ہے۔
آج ہم افواج پاکستان، چوکس قیادت، اور پاک فضائیہ کے ان دلیر شاہینوں کو سلام پیش کرتے ہیں جنہوں نے اپنے عزم، مہارت اور قربانی سے وطن کے وقار کو سربلند رکھا۔ یہ فتح صرف میدان جنگ کی کامیابی نہیں بلکہ قوم کے اعصاب، تاریخ کے اوراق اور نسلوں کے حافظے میں ثبت ہو جانے والی ایک روشن داستان ہے۔
ملک کی معروف شاعرہ ریحانہ قمر کا یہ شعر آج بھی ہمارے بہادروں کو خراج تحسین پیش کرتا محسوس ہوتا ہے
؎
پھول کو شور مچاتے کبھی دیکھا ہے قمر
تم ہو خوشبو تو بتانے کی ضرورت کیا ہے
پاکستان زندہ باد
افواج پاکستان پائندہ باد
اللہ تعالیٰ ہمارے وطن عزیز پاکستان کو ہمیشہ امن، استحکام اور سربلندی عطا فرمائے، ہماری افواج کو اپنی حفظ و امان میں رکھے، شہداء کے درجات بلند فرمائے اور ہمیں ہر آزمائش میں اتحاد، بصیرت اور استقامت کے ساتھ سرخرو فرمائے۔ آمین۔