
ایک مہذب اور پرامن معاشرہ وہی ہوتا ہے جہاں انسانوں کی جان، مال، صحت اور عزت کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔ اسی مقصد کے لیے ضروری ہے کہ ماحول کو صاف ستھرا رکھا جائے، بیماریوں سے بچاو¿ کے موثر انتظامات کیے جائیں اور ایسے تمام اسباب پر قابو پایا جائے جو انسانی زندگی کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔آوارہ جانوروں، خصوصاً ک±تّوں کی بے قابو افزائش اور گلی محلّوں میں موجودگی بعض اوقات حادثات، خوف اور بیماریوں کا سبب بن سکتی ہے بلکہ بنتی رہتی ہے، جو انسان کتّوں کے کاٹنے سے زخمی ہوتے ہیں،انہیں بروقت ویکسین بھی نہیں ملتی،جو جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔
اس مسئلے کا حل یہ ہے کہ متعلقہ ادارے انسانی اور سائنسی طریقوں سے ان کی آبادی کو قابو میں رکھیں، ویکسینیشن کریں، اور محفوظ پناہ گاہوں کا انتظام کریں۔ جو لوگ پالتو کتّے رکھتے ہیں، ان پر لازم ہے کہ وہ اپنے جانوروں کو ویکسین لگوائیں، انہیں باندھ کر میں رکھیں، صفائی کا خیال رکھیں، اور ان کی گندگی عوامی مقامات پر نہ چھوڑیں۔اسی طرح دیگر خطرناک یا زہریلے جانور، جیسے سانپ، بچھو یا درندہ صفت جنگلی جانور اگر آبادی میں داخل ہو جائیں تو متعلقہ محکموں کو فوری طور پر محفوظ انداز میں کارروائی کرنی چاہیے
تاکہ شہری محفوظ رہیں۔ مقصد یہ ہونا چاہیے کہ انسانی آبادی کو خطرات سے بچایا جائے اور ماحول میں نظم و ضبط قائم رکھا جائے۔ہمیں چاہیے کہ غلط اور نقصان دہ مشاغل کے بجائے ایسے شوق اپنائیں جو خود ہمارے لیے بھی فائدہ مند ہوں اور دوسروں کے لیے بھی۔ معاشرے میں خیر، بھلائی، ہمدردی اور خدمت کا جذبہ فروغ دینا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ بھوکوں کو کھانا دینا، پیاسوں کو پانی پہنچانا، بیماروں کی مدد کرنا، اور کمزور افراد کا سہارا بننا حقیقی انسانیت ہے۔ جو ہر انسان کی ذمہ داری ہے۔زیریلے اور موذی درندوں کو پالنے کی ذمہ داری انسان پر نہیں ہے۔نشہ، گندگی، بیماری اور خوف پھیلانے کے بجائے ہمیں امن، سلامتی اور فلاح کے علمبردار بننا چاہیے۔ ایک اچھا شہری وہ ہے جو دوسروں کے حقوق کا احترام کرے، انسانی جان کی قدر کرے، اور معاشرے کو بہتر بنانے میں اپنا کردار ادا کرے۔
آئیے ہم سب عہد کریں کہ ہم صفائی، نظم، رحم دلی، قانون پسندی اور انسانی خدمت کو فروغ دیں گے، تاکہ ہمارا معاشرہ امن، صحت اور خوش حالی کا گہوارہ بن سکے۔”حکومت پنجاب کا احسن قدم پنجاب حکومت نے شہری اور دیہاتی ایریا میں گھروں ڈیروں اور گلی محلوں میں پالتو کتے رکھنے پہ رجسٹریشن فارم جاری کر دیا پالتو کتا رکھنے والوں کو کتے کا مکمل ریکارڈ فارم فل کر کے لائیو سٹاک آفس یا یونین کونسل دفاتر میں جمع کروانا ہو گا۔رجسٹریشن فارم میں گھر یا ڈیرے کے مالک کا نام کتے کی نسل یا دیگر معلومات کے بارے میں دریافت کیا گیا ہے
تمام معلومات فارم میں درج کرنی ہونگی اور باقاعدگی سے لائیو سٹاک کے اداروں سے ان کی ویکسین بھی کروانی ہو گی۔عوام کی حفاظت کے لیے اپنے پالتو کتے کو باندھ کر رکھنا اور عوامی مقامات پہ اسے گھومانے کی اجازت بھی نہیں ہو گی پنجاب حکومت کی بتائی گئی تمام ہدایات کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کیے جانے کا بھی عندیہ دیا گیا ہے پنجاب حکومت کی جانب سے یہ تمام اقدامات عوام الناس اور گلی محلوں میں کھیلتے بچوں کی حفاظت کے لیے کیے گئے ہیں۔