موت کا کنواں: رنوترہ کی خاموش چیخ

ہمارے گاؤں رنوترہ کا وہ پرانا کنواں، جو کبھی زندگی اور سہولت کی علامت سمجھا جاتا تھا، آج ایک ایسے خاموش قاتل میں بدل چکا ہے جو آئے دن قیمتی انسانی جانیں نگل رہا ہے؛ یہ محض ایک کنواں نہیں بلکہ ایک ایسا اندھا گڑھا ہے جہاں کئی نوجوان، عورتیں اور بچے اپنی زندگیاں ہار چکے ہیں، کچھ حادثاتی طور پر اس میں گر کر جاں بحق ہوئے تو کچھ گھریلو جھگڑوں، مالی پریشانیوں یا ذہنی دباؤ کے باعث خودکشی جیسے انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور ہو گئے، حتیٰ کہ ہمارے اپنے بچے بھی اب والدین کی معمولی ڈانٹ پر اس کنویں میں چھلانگ لگانے کی دھمکیاں دے کر انہیں بلیک میل کرتے ہیں، جو نہایت تشویشناک اور خطرناک رجحان ہے؛

حال ہی میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جب پاکستان کے عظیم ادارے پاکستان آرمی سے تعلق رکھنے والا ایک نوجوان حادثاتی طور پر اسی کنویں میں گر کر اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا، یہ سانحہ صرف ایک خاندان کا نہیں بلکہ پورے گاؤں کے ضمیر پر ایک سوالیہ نشان ہے کہ آخر یہ سلسلہ کب تک جاری رہے گا؟ افسوس کی بات یہ ہے کہ ایسے کئی واقعات پہلے بھی رونما ہو چکے ہیں مگر ہم نے بحیثیت معاشرہ سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا،

ہر واقعہ کے بعد وقتی افسوس تو کیا جاتا ہے مگر کوئی مستقل حل تلاش نہیں کیا جاتا؛ یہ کنواں اب صرف ایک جسمانی خطرہ نہیں رہا بلکہ ایک نفسیاتی دباؤ کی علامت بھی بن چکا ہے جہاں مایوسی اور بے بسی کے شکار افراد اپنی زندگی کا خاتمہ آسان سمجھنے لگتے ہیں اور بچے اسے بطور دھمکی استعمال کرنے لگے ہیں، جو ہمارے معاشرتی اور تربیتی نظام کے لیے لمحۂ فکریہ ہے، مزید یہ کہ کھلا اور غیر محفوظ کنواں حادثات کو بھی دعوت دیتا ہے، خاص طور پر کم عمر بچوں اور خواتین کے لیے؛ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ آج کے دور میں اس کنویں کی عملی افادیت تقریباً ختم ہو چکی ہے

کیونکہ ہر گھر میں بورنگ اور صاف پانی کی سہولت موجود ہے، اس کے باوجود اس خطرناک کنویں کا برقرار رہنا سمجھ سے بالاتر ہے، لہٰذا وقت کا تقاضا ہے کہ گاؤں رنوترہ کے معززین، بزرگ اور ذمہ دار افراد فوری طور پر اس مسئلے کا سنجیدگی سے نوٹس لیں، باہمی مشاورت سے اس کنویں کو مکمل طور پر مٹی سے بھرنے یا مضبوطی کے ساتھ سیل کرنے کا فیصلہ کریں اور ساتھ ہی گاؤں میں آگاہی مہم چلائی جائے تاکہ نوجوانوں اور بچوں کو اس خطرناک رجحان سے دور رکھا جا سکے، کیونکہ یہ صرف ایک کنویں کو بند کرنے کا معاملہ نہیں بلکہ اپنی آنے والی نسلوں کی حفاظت، اپنے گھروں کے سکون اور پورے معاشرے کے مستقبل کو محفوظ بنانے کا سوال ہے، اور اگر ہم نے آج بھی غفلت کا مظاہرہ کیا تو کل شاید پچھتانے کے سوا کچھ باقی نہ رہے۔