سابق چیئرمین تحریک انصاف کو قانونی معاون فراہمی میں رکاوٹ پر سپریٹنڈنٹ کو قانونی مراسلہ جاری

اولپنڈی توشہ خانہ، القادر ٹرسٹ اور جی ایچ کیو حملہ کیس سمیت مختلف مقدمات میں سزا یافتہ قیدی اور انڈر ٹرائل حوالاتی کی حیثیت سے اڈیالہ جیل میں پابند سلاسل تحریک انصاف کے سابق چیئرمین کے وکیل نے سابق چیئرمین تک رسائی یا پاور آف اٹارنی سمیت قانونی دستاویزات پر ان کے دستخط نہ کروانے اور مبینہ طور پر مسلسل تاخیری حربے استعمال کرنے پر جیل سپرنٹنڈنٹ کو قانونی مراسلہ بھجوا دیا ہے مراسلہ میں سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرنے کے لئے مقررہ معیاد کے خاتمے کے حوالے کے ساتھ میڈیکل

اور دیگر مقدمات کی پیروی میں رکاوٹ کو بنیاد بناتے ہوئے خبردار کیا گیا ہے کہ اگر 24 گھنٹے میں مطلوبہ دستاویزات پر سابق چیئرمین کے دستخط اور انگوٹھے نہ لگوائے گئے تو قانونی چارہ جوئی کی جائے گی سابق چیئرمین کے وکیل خالد یوسف چوہدری کی جانب سے سینٹرل جیل اڈیالہ کے سپرنٹنڈنٹ کو بھیجے گئے قانونی مراسلہ میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ وہ نیب اور ایف آئی کی خصوصی عدالت سے فیصلہ شدہ مقدمات کے علاوہ دیگر معاملات میں سابق چیئرمین کے مجاز وکیل ہیں اور کیس سے متعلق تمام قانونی معاملات، سزا کے خلاف اپیل سمیت تمام امور کے ذمہ دار ہیں

اس کیس میں سزا یافتہ سابق چیئرمین کی ہائی کورٹ سے اپیل کے اخراج کے بعد سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرنے کے لئے پاور آف اٹارنی کی ضرورت ہے پاور آف اٹارنی پر سابق چیئرمین کے دستخطوں کے لئے میں ذاتی طور پر گزشتہ ماہ 27 مارچ اور رواں ماہ 2 اپریل کو جیل آیا جب میں جیل کے گیٹ نمبر 3 پر گیا تو وہاں تعینات عملے نے جواب دیا کہ گیٹ نمبر 5 پر رابطہ کریں کیونکہ سابق چیئرمین سے متعلق امور گیٹ 5 پر نمٹائے جاتے ہیں جب میں گیٹ نمبر 5 پر پہنچا تو عملے نے انتظار کا کہا لیکن یہ پاور آف اٹارنی اور

متعلقہ دستاویزات سابق چیئرمین تک نہیں پنچائے گئے اسی طرح 2 اپریل کو بھی ایسا ہی کیا گیا جبکہ سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرنے کی مقررہ معیاد جلد ختم ہو رہی ہے اس طرح پاور آف اٹارنی پر سابق چیئرمین کے دستخط نہ ہونا آپ کی انتظامی ناکامی ہے جس کی آڑ میں سابق چیئرمین کے بنیادی حقِ رسائی برائے انصاف میں رکاوٹ ڈالی جا رہی ہے مراسلہ میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ میں اپیلوں کیلئے وکالت ناموں پر دستخط ناگزیر ہیں اور ایک طرف آپ کا یہ رویہ نہ صرف بنیادی آئینی حقوق بلکہ جیل قوانین سے بھی متصادم ہے بلکہ دوسری جانب آپ بحثیت جیل سپرنٹنڈنٹ اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں بھی ناکام ہیں مراسلہ

میں جیل سپرنٹنڈنٹ کو 24 گھنٹے کی مہلت دیتے ہوئے زور دیا گیا ہے کہ پاور آف اٹارنی پر سابق چیئرمین کے دستخط اور انگوٹھے کے نشان لگوا کر فوری انہیں واپس کئے جائیں تاکہ مقررہ مدت میں سپریم کورٹ میں اپیل دائر ہو سکے بصورت دیگر قانونی چارہ جوئی کی جائے گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
راولپنڈی () تھانہ صدر بیرونی پولیس نے سابق چیئرمین کی ہمشیرہ علیمہ خانم کی جانب سے اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی کال پر جیل کے باہر دھرنے، پولیس مزاحمت اور پرتشدد کاروائیوں پر مقدمہ درج کرلیا ہے جبکہ پولیس نے 41 مشتعل مظاہرین کو موقع سے گرفتار کر کے ملزمان کے زیر استعمال ایک درجن سے زائد گاڑیاں بھی قبضہ میں لے لیں مقدمہ میں سابق چیئرمین کی تینوں بہنوں، وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر شفیع جان، موجودہ و سابق اراکین اسمبلی اور تحریک انصاف کے رہنماؤں سمیت 400 کے قریب کارکنان کو نامزد کیا گیا ہے مقدمہ میں انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعات کے علاوہ اقدام قتل سمیت تعزیرات پاکستان کی 13 مختلف دفعات شامل کی گئی ہیں تھانہ صدر بیرونی کے سب انسپکٹر محمد عمران خان کی مدعیت میں درج مقدمہ کے متن کے مطابق وہ دیگر پولیس افسران و اہلکاروں کے ہمراہ منگل کے روز ڈیوٹی پر موجود تھے کہ سہ پہر کے وقت علیمہ خانم، عظمیٰ خانم، نورین خانم، تابش فاروق، سینیٹر مرزا آفریدی، سابق و موجودہ اراکین اسمبلی اقبال خان آفریدی، ملک فہد، ملک عدیل اقبال، تنویر اسلم، سعد علی خان، مینا خان، شیخ امتیاز، شاہد خٹک، راشد حفیظ، عبد الکریم خان کے علاوہ نعیم حیدر پنجوتھہ کی قیادت میں 300 سے 400 مرد وخواتین جو کہ علیمہ خانم کی کال پر اکٹھے ہوئے تھے مسلسل نعرہ بازی اور اشتعال انگیزی کررہے تھے حالات کی سنگینی کو بھانپتے ہوئے پولیس کی مزید نفری طلب کی گئی جس پر احتجاج کرنے والے افراد نے پتھر رکھ کر اڈیالہ روڈ بلاک کر دی جنہیں متعدد بار وارننگ دی گئی کہ چونکہ ضلع راولپنڈی میں پہلے ہی دفعہ 144 نافذ ہے لہٰذا پُرامن منتشر ہو جائیں جس پر مجمعے میں موجود نامعلوم مسلح افراد شدید نعرہ بازی کرتے ہوئے پولیس افسران سے

دست و گریباں ہو گئے اسی اثناء میں مظاہرین نے پتھراؤ شروع کر دیا جس سے 9 پولیس اہلکار زخمی ہوگئے جبکہ متعدد کے یونیفارم پھٹ گئے جس پر علیمہ خانم، شفیع جان، مینا خان، شاہد خٹک اور ان کے ساتھ موجود مرد وخواتین کو سجھانے کی کوشش کی لیکن مذکورہ قائدین کارکنان کو اکساتے اور اشتعال دلاتے رہے اس دوران پتھراؤ سے اڈیالہ چوکی کی سرکاری موبائل نمبر آر ایل بی 7525 کو بھی شدید نقصان پہنچا جس پر پولیس نے موقع سے 41 افراد کو گرفتار کر کے انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ 7 اور 21/1 کے علاوہ تعزیرات پاکستان کی دفعات 324، 120 بی، 147، 109، 285، 286، 149، 440، 186، 341، 188، 427 اور 353 کے تحت مقدمہ درج کرلیا اس دوران بعض ملزمان گاڑیاں چھوڑ کر فرار ہوگئے جبکہ پولیس نے 13 گاڑیاں قبضہ میں لے کر تلاشی کے دوران 30 لیٹر پٹرول، شیشے کی خالی بوتلیں، روئی اور دیگر بھی برآمد کر لیں