آج 22 فروری 2026 کو ملک کے معروف ماہر تعلیم، شاعر، ادیب، مصنف اور ادبی خدمات انجام دینے والے پروفیسر ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم انتقال کر گئے ہیں۔ ان کی اچانک وفات کے باعث سرگودھا کی فضاء سوگوار ہے اور علمی و ادبی حلقوں میں گہرے دکھ کا اظہار کیا جا رہا ہے
ان کی طبیعت گزشتہ دنوں خراب ہوئی تھی جس پر انہیں پہلے ہارٹ اٹیک کے بعد سرگودھا اور پھر لاہور کے ہسپتالوں میں علاج معالجے کے لیے منتقل کیا گیا لیکن متعدد عوارض کی وجہ سے وہ اپنے خالق حقیقی سے جاملے
پروفیسر ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم پاکستان کے ممتاز تعلیمی، ادبی اور ثقافتی شخصیات میں شمار ہوتے تھے جنہوں نے اپنی زندگی تعلیم، ادب اور شاعری کے فروغ کے لیے وقف کی
اپ 2 اکتوبر 1955ء کو سرگودھا میں پیدا ہوئے۔
انہوں نے تعلیم کے میدان میں طویل خدمات انجام دیں اور گورنمنٹ انبالہ مسلم کالج سرگودھا سے ریٹائرمنٹ کے بعد بھی طلبا و طالبات کو علم سے روشناس کراتے رہے۔
وہ چیئرمین اکادمی ادبیات سرگودھا بھی تھے، جہاں انہوں نے ادبی ثقافت کو فروغ دیا۔
پروفیسر تبسم نے علم و ادب کے مختلف شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دیں
انہوں نے 100 سے زائد کتابیں تحریر کیں جن میں علامہ اقبال اور قائد اعظم محمد علی جناح پر مباحث شامل ہیں۔
ان کی کتب میں تنقید، تحقیق، تعلیم، شاعری اور سماجی موضوعات پر عمقی نظریات موجود تھے۔
ادبی اسلوب، تحقیقی مقالے اور تراشیدہ کلمات نے انہیں ادبی حلقوں میں مقام دلایا۔
ان کے انتقال کی خبر پر ادبی و تعلیمی برادری نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ ان کے شاگرد، ہمکار اور خاندان والے انہیں ایک شفیق استاد، محب انسان اور روشن خیال ادیب کے طور پر یاد رکھیں گے۔
پروفیسر ہارون الرشید تبسم کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی، اور ان کی ادبی تخلیقات آئندہ نسلوں کے لیے مشعل راہ ثابت ہوں گی۔