قومیں اپنی بقا اور سلامتی کے لیے جن افراد پر فخر کرتی ہیں، وہ عام انسان نہیں ہوتے بلکہ ایسے عظیم سپوت ہوتے ہیں جو اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر تاریخ میں امر ہو جاتے ہیں۔ پاکستان آرمی کے شہید نائیک مظہر حسینؒ بھی انہی عظیم سپوتوں میں شامل ہیں جنہوں نے بہادری، شجاعت اور فرض شناسی کی ایسی روشن مثال قائم کی جو آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔
شہید نائیک مظہر حسینؒ 17 نومبر 1985 کو گاؤں دھندہ، تحصیل و ضلع راولپنڈی میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ایک سادہ مگر باوقار گھرانے سے تھا جہاں محنت، دیانت اور حب الوطنی بنیادی اقدار سمجھی جاتی تھیں۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم اپنے آبائی گاؤں سے حاصل کی اور 2004 میں میٹرک کا امتحان کامیابی سے پاس کیا۔
وطن سے محبت اور جذبۂ خدمت انہیں وردی تک لے آیا اور 2006 میں انہوں نے بلوچ رجمنٹ میں بطور سپاہی پاکستان آرمی میں شمولیت اختیار کی۔ بنیادی فوجی تربیت مکمل کرنے کے بعد انہیں 37 بلوچ رجمنٹ میں تعینات کیا گیا۔
نائیک مظہر حسینؒ فطری طور پر ایک نڈر، دلیر اور فرض شناس سپاہی تھے۔ مشکل ترین حالات ہوں یا جان لیوا ذمہ داریاں، وہ ہمیشہ رضاکارانہ طور پر آگے بڑھتے تھے۔ انہیں اسلحہ اور فائرنگ سے خصوصی دلچسپی تھی اور وہ ہر مشن کو قومی فریضہ سمجھ کر سرانجام دیتے تھے۔ انہوں نے مختلف سیکٹرز میں چار مرتبہ آپریشنل ایریاز میں خدمات انجام دیں اور ہر مقام پر اپنی پیشہ ورانہ مہارت، نظم و ضبط اور جرات مندانہ کردار سے نمایاں پہچان حاصل کی۔
ان کی شاندار خدمات کے اعتراف میں 2020 میں انہیں نائیک کے عہدے پر ترقی دی گئی۔ بعد ازاں انہوں نے 10 کور راولپنڈی میں کور کمانڈر کے اسٹاف آفیسر (COS) کے رنر کے طور پر بھی فرائض سرانجام دیے، جہاں ان کی فرض شناسی، اخلاقی کردار اور نظم و ضبط کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔
13 ستمبر 2025 کو وہ اپنے 16 دیگر ساتھی جوانوں کے ہمراہ بلاکیج پارٹی کے رکن کے طور پر تعینات تھے۔ آدھی رات کے وقت دہشت گردوں نے بزدلانہ انداز میں اچانک فائرنگ شروع کر دی۔ اس نازک لمحے میں نائیک مظہر حسینؒ نے خوف یا کمزوری کا مظاہرہ کرنے کے بجائے مردانگی، جرات اور بہادری کی مثال قائم کی اور دشمن کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ اسی معرکے میں وہ اپنے 11 دیگر ساتھیوں سمیت جنوبی وزیرستان کے علاقے لدھا میں جامِ شہادت نوش کر گئے۔
شہید نائیک مظہر حسینؒ کی قربانی اس حقیقت کی گواہ ہے کہ پاکستان کا سپاہی اپنی جان تو قربان کر سکتا ہے مگر وطن کی عزت، سلامتی اور خودمختاری پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرتا۔ ان کی شہادت صرف ایک خاندان کا غم نہیں بلکہ پوری قوم کے لیے سرمایۂ افتخار ہے۔
ایسے ہی شہداء کی قربانیوں کی بدولت آج یہ سرزمین محفوظ ہے۔ سلام ہے اس عظیم سپاہی پر، سلام ہے ان کے عزم و حوصلے پر، اور سلام ہے ان تمام شہداء پر جو قوم کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔
شہداء کبھی مرتے نہیں،
وہ قوموں کی تاریخ اور ضمیر میں زندہ رہتے ہیں۔
جب تک نہ جلیں دیپ شہیدوں کے لہو سے…
کہتے ہیں کہ جنت میں چراغاں نہیں ہوتا
تحریر: وقار احمد اعوان