کلر سیداں میں آوارہ کتوں کے خاتمے کی مہم، عدالتی احکامات کی خلاف ورزی پر شدید تشویش

کلر سیداں (نمائندہ پنڈی پوسٹ) کلر سیداں آوارہ کتوں کے خاتمے کی مہم پر قانونی و عوامی حلقوں کی شدید تشویش۔تفصیلات کے مطابق تحصیل انتظامیہ کی جانب سے آوارہ کتوں کو زہر آلود گوشت کے ذریعے ہلاک کرنے کی حالیہ مہم نے قانونی ماہرین، شہریوں اور سماجی تنظیموں میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔ مقامی انتظامیہ کی طرف سے یونین کونسل سیکرٹریز اور پٹواریوں کو یہ ذمہ داری سونپنے کے فیصلے پر کئی حلقوں نے سوالات اٹھا دیے ہیں۔

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ عدالت عالیہ پہلے ہی واضح ہدایات جاری کر چکی ہے کہ آوارہ کتوں کو مہذب اور انسانی طریقے سے، صرف ماہرین کی نگرانی میں ہلاک کیا جا سکتا ہے۔ عدالت نے یہ بھی ہدایت کی ہے کہ ایک کتے کو ہلاک کرتے وقت کسی اور کتے کے سامنے ایسا عمل نہیں ہونا چاہیے اور ہلاک شدہ کتوں کی لاش کو مناسب طریقے سے دفن کیا جائے۔عدالت نے اینیمل برتھ کنٹرول (ڈاگز) پالیسی 2021 کے تحت غیر مہلک اور انسانی اقدامات اختیار کرنے کی بھی تاکید کی ہے، جن میں ویکسینیشن، نیوٹرنگ اور دیگر موثر انسانی طریقے شامل ہیں۔

تاہم کلر سیداں میں جاری مہم میں زہر آلود گوشت کے استعمال کو عدالتی احکامات کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا جا رہا ہے۔شہریوں اور فلاحی کارکنوں نے اس مہم کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کھلے عام زہر آلود گوشت پھینکنے سے نہ صرف دیگر جانور بلکہ بچوں اور ماحول پر بھی خطرات لاحق ہو سکتے ہیں، جو انسانی زندگی اور صحت کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ انتظامیہ فوری طور پر اس مہم کو روک کر عدالت عالیہ کے احکامات کے مطابق متبادل اور انسانی طریقہ کار اپنائے۔سماجی کارکن اور مقامی شہری حلقے زور دے رہے ہیں کہ آوارہ کتوں کے مسئلے کا حل انسانی اور ماہرین کی نگرانی میں ہونا چاہیے تاکہ نہ صرف جانوروں کے حقوق کا تحفظ ممکن ہو بلکہ شہریوں کی حفاظت اور صحت پر بھی کوئی منفی اثر نہ پڑے۔