کلرسیداں (یاسر ملک)
حکومتی دعوے دھرے کے دھرے، مہنگائی کی تلوار پھر چل گئی۔پیٹرول مہنگا، زندگی دشوار، کلرسیداں کے عوام بے حال۔عوامی حلقوں کا اظہارِ برہمی، قیمتیں فوری واپس لینے کا مطالبہ۔ملک بھر کی طرح کلرسیداں میں بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے پر شدید عوامی ردعمل سامنے آ رہا ہے۔تفصیلات کے مطابق حکومت نے بین الاقوامی منڈی میں قیمتوں میں اضافے کو جواز بنا کر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھا دی ہیں۔ پیٹرول کی نئی قیمت 275 روپے 62 پیسے اور ڈیزل کی نئی قیمت 287 روپے 33 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔ عوام کا کہنا ہے کہ حکومت ہر بار قیمتیں بڑھانے کے لیے بین الاقوامی منڈی کا سہارا لیتی ہے، مگر جب قیمتیں کم ہوتی ہیں تو عوام کو اس کا ریلیف نہیں دیا جاتا۔کلرسیداں کے شہریوں، ٹرانسپورٹرز، کاروباری حضرات اور عام صارفین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مہنگائی کے اس طوفان کو روکنے کے لیے ہنگامی اقدامات کرے۔ ایک مقامی دکاندار کا کہنا تھا کہ روزمرہ اشیائے ضروریہ کی قیمتیں پہلے ہی آسمان سے باتیں کر رہی ہیں، اب ایندھن کی قیمتیں بڑھنے سے ہر چیز مزید مہنگی ہو جائے گی۔ٹرانسپورٹ کے شعبے سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمت میں اضافے سے کرایوں میں اضافہ ناگزیر ہو گیا ہے، جس کا براہ راست اثر عام آدمی پر پڑے گا۔ ڈرائیور خالد محمود نے بتایا کہ تیل مہنگا ہونے سے ہمیں کرائے بڑھانے پڑیں گے، لیکن مسافر پہلے ہی بہت پریشان ہیں۔عوامی و سماجی حلقوں نے حکومت اور وزراء سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے شاہانہ اخراجات میں کمی کریں اور کفایت شعاری کی پالیسی اپنائیں تاکہ عوام کو کچھ ریلیف مل سکے۔ شہریوں کا کہنا تھا کہ اگر حکمران اپنے اخراجات کم کریں اور کرپشن پر قابو پایا جائے تو عوام پر بوجھ ڈالنے کی ضرورت ہی پیش نہ آئے۔شہریوں کا کہنا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ نہ صرف مہنگائی میں اضافے کا باعث بنتا ہے بلکہ معیشت پر بھی منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت فوری طور پر کوئی مؤثر پالیسی مرتب کرے تاکہ مہنگائی کے اس بڑھتے ہوئے طوفان کو قابو میں لایا جا سکے۔