پتراٹہ شریف کی روحانی فضا اور پیر عظمت نواز سرکار کی محبت۔

مری کی حسین وادیوں، سر سبز پہاڑوں اور ٹھنڈی فضاؤں کے درمیان واقع پتراٹہ شریف ایک ایسی روحانی بستی ہے جہاں پہنچ کر انسان دنیا کے شور و ہنگامے سے دور ایک عجیب سکون محسوس کرتا ہے۔ حال ہی میں مجھے یہ سعادت حاصل ہوئی کہ میں نے پتراٹہ شریف میں ایک رات گزاری اور وہاں کی روحانی فضا، لوگوں کی محبت، عقیدت اور پیر عظمت نواز سرکار کی شخصیت کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ یہ سفر میرے لیے محض ایک سیاحت نہیں بلکہ ایک روحانی تجربہ ثابت ہوا جس کی خوشبو آج بھی میرے دل و دماغ میں بسی ہوئی ہے۔
پتراٹہ شریف قدرتی حسن کے اعتبار سے تو اپنی مثال آپ ہے ہی، مگر اس بستی کی اصل پہچان وہاں کی روحانیت اور دربار سے وابستہ لوگوں کی محبت ہے۔

جب میں وہاں پہنچا تو فضا میں عجیب سا سکون محسوس ہوا۔ پہاڑوں سے آتی ٹھنڈی ہوا، درختوں کی سرسراہٹ اور لوگوں کے چہروں پر عقیدت کا نور دل کو اپنی طرف کھینچتا محسوس ہوا۔ وہاں آنے والا ہر شخص اپنے دل میں کوئی نہ کوئی دعا، امید یا روحانی طلب لیے آتا ہے اور یہی چیز اس مقام کو خاص بناتی ہے۔


پیر عظمت نواز سرکار کی شخصیت نہایت سادہ مگر پُراثر محسوس ہوئی۔ ان کے چاہنے والے انہیں صرف ایک روحانی شخصیت ہی نہیں بلکہ ایک ایسے انسان کے طور پر دیکھتے ہیں جو لوگوں کے دکھ درد کو سمجھتے اور ان کی رہنمائی کرتے ہیں۔ ان کی گفتگو میں عاجزی، محبت اور انسانیت کا پیغام نمایاں نظر آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دور دراز علاقوں سے لوگ ان سے عقیدت رکھتے ہیں اور ان کی محفلوں میں شریک ہو کر روحانی سکون حاصل کرتے ہیں۔


میری وہاں موجودگی کے دوران سب سے زیادہ متاثر کن چیز لوگوں کا اخلاق اور مہمان نوازی تھی۔ ہر شخص محبت سے ملتا اور یوں محسوس ہوتا جیسے برسوں کی شناسائی ہو۔ وہاں نہ کوئی غرور تھا، نہ دنیاوی نمود و نمائش بلکہ سادگی اور خلوص نمایاں تھا۔ یہی وہ اقدار ہیں جو آج کے دور میں کم ہوتی جا رہی ہیں۔ پتراٹہ شریف میں گزارے گئے چند لمحوں نے یہ احساس دلایا کہ اگر انسان محبت، برداشت اور روحانیت کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لے تو معاشرے کے بہت سے مسائل خود بخود ختم ہو سکتے ہیں۔


رات کے وقت جب پتراٹہ شریف کی فضا مزید خاموش اور پُرسکون ہوئی تو دل پر عجیب کیفیت طاری تھی۔ دور پہاڑوں پر بکھری روشنیوں اور ٹھنڈی ہواؤں کے درمیان دربار کے ماحول میں بیٹھ کر انسان اپنے اندر ایک تبدیلی محسوس کرتا ہے۔ دنیا کی بے چینی، پریشانیاں اور مادہ پرستی جیسے لمحہ بھر کے لیے پیچھے رہ جاتی ہیں اور انسان اپنے رب کے قریب محسوس کرتا ہے۔ شاید یہی اصل روحانیت ہے کہ انسان کے دل میں نرمی، عاجزی اور محبت پیدا ہو جائے۔


آج کا انسان ترقی، دولت اور مصروفیات کی دوڑ میں سکون کھو چکا ہے۔ ایسے میں پتراٹہ شریف جیسے مقامات انسان کو یاد دلاتے ہیں کہ اصل کامیابی صرف دنیاوی آسائشوں میں نہیں بلکہ دل کے سکون اور روحانی اطمینان میں ہے۔ پیر عظمت نواز سرکار کی شخصیت اور ان کی محفلیں لوگوں کو یہی سبق دیتی ہیں کہ انسانیت، محبت اور خدمت کا راستہ اپنایا جائے۔


یہ سفر میرے لیے ایک یادگار تجربہ رہا۔ میں جب واپس لوٹا تو صرف خوبصورت یادیں ہی ساتھ نہیں لایا بلکہ ایک روحانی سکون بھی دل میں محسوس کیا۔ پتراٹہ شریف کی فضائیں، وہاں کے لوگ، ان کی محبت اور پیر عظمت نواز سرکار کی سادگی مدتوں یاد رہے گی۔ ایسے مقامات معاشرے کے لیے روشنی کی مانند ہوتے ہیں جہاں انسان کو نہ صرف سکون ملتا ہے بلکہ اپنی ذات کو سمجھنے کا موقع بھی حاصل ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ پتراٹہ شریف کو ہمیشہ آباد رکھے اور وہاں کی روحانی فضا کو قائم دائم رکھے اور وہاں تاجدار ختم نبوت کے پر جوش نعرے لگتے رہیں تاکہ آنے والے لوگ اسی طرح سکون، محبت اور امید حاصل کرتے رہیں۔