تحریر ؛ میر اسلم رند
پاکستان کی معاشی داستان ایک ایسے دائرے میں قید دکھائی دیتی ہے جہاں قرض لینا وقتی سہارا تو بن جاتا ہے مگر مستقل حل نہیں بن پاتا عالمی مالیاتی اداروں خصوصاً آئی ایم ایف کے دروازے بار بار کھٹکھٹانا اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ ہم نے اپنی اقتصادی بنیادوں کو ابھی تک اس مضبوطی سے استوار نہیں کیا جو کسی بھی خودمختار ریاست کے لیے ضروری ہوتی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ قرض بذاتِ خود کوئی برائی نہیں اصل سوال اس کے استعمال شفافیت اور نیت کا ہے دنیا کے ترقی یافتہ ممالک بھی قرض لیتے ہیں امریکہ جرمنی برطانیہ اور جاپان جیسے ممالک کی معیشتوں میں بیرونی اور اندرونی قرضوں کا ایک نمایاں کردار ہے مگر وہاں قرض بوجھ نہیں بلکہ سرمایہ کاری کا ذریعہ بنتا ہے یہ قرض صنعتوں کی ترقی جدید انفراسٹرکچر تعلیم اور تحقیق پر خرچ ہوتا ہے جس کے نتیجے میں معیشت مزید مضبوط ہوتی ہے اور قرض واپس کرنا آسان ہو جاتا ہے اس کے برعکس پاکستان میں قرض اکثر ایسی مدات میں خرچ ہوتا رہا ہے جو نہ تو پائیدار ترقی کا باعث بنتی ہیں اور نہ ہی قومی پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ کرتی ہیں یہی وہ مقام ہے جہاں اصل بحران جنم لیتا ہے شفافیت کا فقدان اور احتساب کی کمزوری ہمارے ہاں اکثر قرضوں کے معاہدات کو راز میں رکھا جاتا ہے ان کی شرائط عوام کے سامنے نہیں لائی جاتیں اور نہ ہی ان کے نتائج کا کوئی باقاعدہ جائزہ لیا جاتا ہے نتیجتاً یہ قرض قومی مفاد کے بجائے بعض اوقات مخصوص مفادات کی نذر ہو جاتے ہیں اور قوم کو صرف مہنگائی ٹیکسوں کے بوجھ اور معاشی دباؤ کی صورت میں اس کی قیمت ادا کرنی پڑتی ہے یہ امر بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ جمہوری حکومتیں جن سے زیادہ امید وابستہ کی جاتی ہے اس سمت میں کوئی مضبوط اور مستقل پیش رفت نہیں کی ہر آنے والی نئی حکومت نے ماضی میں خصوصاً فوجی ادوار پر الزامات عائد کیے مگر خود شفافیت قرضوں کے آڈٹ اور پارلیمانی بالادستی کو ایک مضبوط نظام میں ڈھالنے میں ناکام رہی الزام تراشی کی اس سیاست نے مسائل کو حل کرنے کے بجائے مزید الجھا دیا ہے یہ درست ہے کہ ماضی میں کچھ کوششیں ہوئیں مثلاً یہ تجویز کہ بیرونی قرض لینے سے پہلے پارلیمنٹ سے منظوری لازمی ہو اور قرض کی ایک حد مقرر کی جائے مگر ان اقدامات کو کبھی مستقل اور غیر متنازعہ نظام کا حصہ نہیں بنایا جا سکا نتیجہ یہ نکلا کہ آج بھی فیصلے محدود حلقوں میں ہوتے ہیں اور قوم محض نتائج بھگتتی ہے اب سوال یہ ہے کہ کیا ہم اسی دائرے میں گھومتے رہیں گے یا کوئی جرات مندانہ قدم اٹھائیں گے کیا یہ ممکن نہیں کہ ملک کے اعلیٰ ترین ذمہ دار ادارے خواہ وہ سول قیادت ہو یا عسکری ایک مشترکہ قومی مفاد کے تحت ایسے اصول طے کریں جو ناقابلِ واپسی ہوں کیا یہ ممکن نہیں کہ ریاست کے تمام ستون مل کر یہ فیصلہ کریں کہ آئندہ کوئی قرض بغیر شفافیت، پارلیمانی نگرانی اور آزاد آڈٹ کے نہیں لیا جائے گا یہ بھی سوچنے کا مقام ہے کہ کیا قومی مفاد کے لیے کچھ مشکل فیصلے ناگزیر نہیں ہوتے کیا ایک مضبوط اور شفاف نظام قائم کرنے کے لیے چند بااثر طبقات کو جوابدہی کے دائرے میں لانا ضروری نہیں تاریخ گواہ ہے کہ قومیں اس وقت آگے بڑھتی ہیں جب وہ وقتی مفادات سے بالاتر ہو کر اجتماعی مفاد کو ترجیح دیتی ہیں یہاں یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ پائیدار حل صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب تمام اقدامات آئینی قانونی اور ادارہ جاتی دائرے میں ہوں تاکہ اصلاحات وقتی نہ رہیں بلکہ مستقل بنیادوں پر نظام کا حصہ بن جائیں کسی بھی غیر متوازن یا غیر جمہوری راستے سے وقتی بہتری تو آ سکتی ہے مگر دیرپا استحکام صرف مضبوط اداروں قانون کی حکمرانی اور شفاف طرزِ حکمرانی سے ہی ممکن ہے
لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ ہر بیرونی قرض کے لیے پارلیمانی منظوری لازمی ہو ایک خودمختار آڈٹ نظام قائم کیا جائے تمام معاہدات عوام کے سامنے لائے جائیں
اور کرپشن کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی جائے
یہ وقت مایوسی کا نہیں بلکہ خود احتسابی اور اصلاح کا ہے ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ کیا ہم آنے والی نسلوں کو بھی اسی قرض اور انحصار کے چکر میں دھکیلنا چاہتے ہیں یا ایک ایسا نظام قائم کرنا چاہتے ہیں جہاں معیشت خود کفیل ہو فیصلے شفاف ہوں اور ریاست حقیقی معنوں میں خودمختار ہو
اگر ہم نے آج بھی قرضوں کے استعمال کا کھلا دیانتدارانہ اور مؤثر احتساب نہ کیا تو تاریخ ہمیں ایک کھوئے ہوئے موقع کے طور پر یاد رکھے گی لیکن اگر ہم نے شفافیت اجتماعی ذمہ داری اور جرات مندانہ اصلاحات کا راستہ اختیار کر لیا تو یہی بحران ایک نئی شروعات کی بنیاد بن سکتا ہے یہ ملک وسائل صلاحیت اور عزم کی کمی کا شکار نہیں یہ صرف سچ بولنے والی قیادت جوابدہ نظام اور قومی مفاد کو ذاتی مفاد پر ترجیح دینے کے فیصلے کا منتظر ہے۔