کلرسیداں(نمائندہ پنڈی پوسٹ )سہوٹ بنگیال میں انسانیت کو جھنجھوڑ دینے والے واقعہ میں مبینہ طور پر دو بیٹوں نے ضعیف العمر والد کو رسی سے چارپائی کے ساتھ باندھ کر ڈنڈے اور کرکٹ بیٹ سے بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنا ڈالا، جس سے وہ شدید زخمی ہو گیا۔ متاثرہ والد کی درخواست پر پولیس نے مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔متاثرہ محمد منیر سکنہ سہوٹ بنگیال نے پولیس کو دی گئی درخواست میں مؤقف اختیار کیا کہ وہ ضعیف العمر ہے اور اپنی اولاد کے بہتر مستقبل کی خاطر تقریباً 40 سال تک بیرون ملک محنت مزدوری کرتا رہا۔ اس کے تین بیٹے اور ایک بیٹی ہے، جبکہ اس نے ایک بیٹے کو اٹلی بھیجا اور دو بیٹے پاکستان میں مقیم ہیں۔محمد منیر کے مطابق اس کی اولاد مبینہ طور پر اس کے ساتھ نافرمانی، گالم گلوچ اور مارپیٹ کرتی رہی ہے۔ کچھ عرصہ قبل اس کے حقیقی بہن بھائیوں نے والد کی جدی جائیداد میں اپنے حصے کا مطالبہ کیا، جس پر وہ بڑا بھائی ہونے کے ناتے انہیں ان کا حق دینے کے لیے تیار تھا، تاہم اس کے بیٹے مبینہ طور پر جائیداد تقسیم کرنے سے اسے روکتے اور اسی معاملے پر اس سے جھگڑا کرتے رہے۔متاثرہ شخص نے بتایا کہ گزشتہ روز اس کے بیٹوں عرفان اور عدنان نے مبینہ طور پر اسے جان سے مارنے کی دھمکیاں دیں اور تشدد شروع کر دیا۔ دونوں نے رسی کے ذریعے اسے چارپائی کے ساتھ باندھ دیا۔ اس دوران عرفان مبینہ طور پر ڈنڈا لے آیا جبکہ عدنان نے کرکٹ بیٹ سے اس پر پے در پے وار کیے۔درخواست گزار کے مطابق اس نے جان بچانے کے لیے ہاتھ آگے کیا تو کرکٹ بیٹ کے وار سے اس کے بائیں ہاتھ کی انگلیوں اور پشت پر گہرے زخم آئے اور خون بہنے لگا، جبکہ دوسرے بیٹے نے بھی ڈنڈے سے مبینہ طور پر تشدد جاری رکھا۔زندگی بھر اولاد کا مستقبل سنوارنے والے باپ کو مبینہ طور پر چارپائی سے باندھ کر تشدد کا نشانہ بنانے کے واقعہ نے اہل علاقہ کو بھی تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ بزرگ شہری پر تشدد کے واقعہ میں ملوث ملزمان کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے تاکہ ایسے واقعات کی حوصلہ شکنی ہو سکے۔پولیس نے متاثرہ والد کی درخواست پر مقدمہ درج کر لیا ہے جبکہ واقعہ کے تمام پہلوؤں کی مزید تفتیش جاری ہے۔