
حکومت اور سرکاری ادارے پاکستانی معیشت کی بہترین تصاویر پیش کر رہے ہیں اور ان کے بقول پاکستان معاشی درستگی کی سمت تیزی سے گامزن ہے ۔عالمی اور علاقائی سیا ست اور سفارتکا ری کی بنیاد پر یہ دعویٰ بھی کیا جا رہا ہے کہ عالمی سطح پر نئے معاشی امکا نات اور مواقع کا پیدا ہو نا اور پا کستان کی اہمیت کا بڑھنا ظاہر کر تا ہے کہ ہم اگلے چند برسوں میں معاشی طور پر مضبوط ومستحکم ہو جا ئیں گے ۔یہ تجزیہ اپنی جگہ بہت اہمیت کا حامل ہے اور عمومی طور پر حکمران طبقہ اسی نقطہ پر زور دیتا ہے کہ ملک کے معاشی و اقتصادی حالا ت بہتری کی طرف بڑھ رہے ہیں
لیکن معاشی ماہرین اور اداروں کے بقول پا کستان کی معاشی صورتحال کو دیکھنے سے پتہ چلتاہے کہ اس میں وہ سب کچھ نہیں ہے جو حکمران طبقہ کا دعویٰ ہے یہی وجہ ہے کہ حکمران طبقہ اور معاشی ماہرین کے نقطہ نظر میں تضاد پا یا جا تا ہے۔ معاشی ترقی کے دعوے اپنی جگہ اہمیت کے حامل ہیں لیکن جو معا شی سطح کے حقائق ہیں انہیں بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ورلڈ بنک نے اپنی ایک حالیہ رپورٹ میں پا کستا ن کی معیشت کا پو سٹ ما رٹم کر تے ہو ئے بہت سے اہم پہلو و¾ں اور سوالات کو اٹھایا ہے
جو پورے حکومتی نظام کو جھنجوڑتے ہیں۔ اس رپورٹ میں پاکستان کی غربت کی سطح پچیس فیصد کا تخمینہ لگایا گیا ہے اور اس سے پتہ چلتا ہے کہ چھ کر وڑ افراد غربت کے شکنجے میں ہیں۔ ترقی کے مو جودہ ماڈل 2018-24کے دوران غربت کی سطح میں کو ئی فرق نہیں آیا ہے ۔
زراعت سکڑ رہی ہے اور تعمیرات میں اجرتیں کم ہیں قرضوں اور خساروں میں اضافہ ، سرمایہ کا ری کا کمزور ہو نا ، طاقتور اشرافیہ کا پا لیسیوں کو اپنے مفاد میں جوڑنا اسی طرح لا کھوں نوجوانوں کا ملک چھوڑ کر بیرون ملک چلے جا نا ، مقامی حکومتوں میں نا قص ڈلیوری اور ٹیکسوں کا بوجھ زیا دہ تر نچلے طبقہ پر ڈالتا سیا سی عدم استحکا م کا روباری اعتماد کو تباہ برباد کر رہا ہے۔ یہ تمام امور معاشی اہداف اور ترقی کے دعووں کے برعکس ہیں۔ ورلڈ بنک کے بین الاقوامی پا ور انڈکس کے مطابق پا کستا ن میں غربت پینتالیس فیصد ہے ۔ورلڈ بنک نے اپنی رپورٹ جا ری کر تے ہو ئے کہا ہے
کہ پا کستا ن کی غربت میں کمی کی کبھی امید نظر آنے والی بڑی پیش رفت اب رک گئی ہے اور پچھلے برسوں کی محنت ضائع ہو رہی ہے اور غربت کی شرح صوبوں میں بہت مختلف ہے یعنی پنجا ب سولہ فی صد شرح سب سے کم ،سندھ چوبیس فیصد اور بلو چستان تینتالیس فیصد سب سے زیادہ غربت مگر آبادی کم ہو نے سے کل غریبوں کا صرف بارہ فیصد حصہ خیبر پختو نخواہ تیس فی صد ہے جبکہ 2018-25کے دوران غربت میں مزید اضافہ ہوا ۔ لٰہذا پا کستان کو اپنی پچھلی کا میا بیوں کو بچانے اور غربت میں کمی کے لئے اصلاحا ت تیز کر نے کی ضرورت ہے
خا ص طور پر نو جو انوں اور عورتوں کے لئے روزگار کے مواقع پیدا کر نا شامل ہو نا چاہیے ۔مڈل کلاس آبادی کے لئے صحت و صفائی ، صاف پا نی ، توانائی اور رہا ئش کی منا سب داموں پر دستیا بی محدود ہو رہی ہے اس وقت پا کستان میں چار کر وڑ افراد کی ایک دن کی کمائی تقریباََ ایک ہزار روپے رہ گئی ہے اور اسی سلسلے میں معا شرے میں مو جو د کمزور طبقات کے تخفظ کے لئے اصلا حات نا گزیر ہو گئی ہیں اور پا کستا ن کو بڑے پیمانے پر عوامی خدمت میں سر ما یہ کا ری کر نی ہو گئی ورلڈ بنک کی رپو رٹ ہما ری داخلی معاشی بد حالی کی وجو ہا ت کے زمرے میں آتی ہیں پا کستاں میں سب سے بڑا چیلنج آمدنی اور اخراجا ت میں عدم توازن کا ہے اور اسی نے لو گو ں کی زندگیوں میں معاشی عدم تخفظ پیدا کیا ہے پا کستا ن کی اپر مڈل کلاس اور مڈل کلاس اس معاشی بحران سے بر ی طرح متاثر ہو رہی ہے
سرکا ری شعبہ کی بد حالی کے بعد نجی شعبہ لو گو ں کو لو ٹنے میں مصروف ہے اور اس نجی شعبہ سے جُڑی ایگولیٹری
اتھارٹیاں عدم شفافیت کا شکا ر ہیں سر ما یہ کا ری متاثر ہو رہی ہے اور گورننس کے مو جو دہ فر سودہ نظام سمیت بیورہ کریسی کا عدم شفافیت پر مو جو د ڈھا نچہ ہی معا شی تر قی کی راہ میں بڑی رکا وٹ ہے مجموعی طو ر پر نظام طبقاتی بنیا دوں پر قا ئم ہے اور ایک مخصوص طبقہ کی معا شی حا لت کو بہتر بنا نے میں حکومتی پا لیسیوں بے عام آدمی کو بہت زیادہ کمزور کر دیا ہے نئے روزگار پیدا کر نا اپنی جگہ بلکہ پہلے سے مو جود لو گو ں کا روزگار سے محروم کیا جا رہا ہے ہما رے معاشی ما ہر ین انظاف کے گورکھ دھندوں کے ساتھ معا شی خو شحالی کے شادیا نے بجا کر لو گوں کو گمراہ کر تے ہیں سیکورٹی ،گڈگورننس سیا سی عدم استحکا م کے بحران نے عالمی سرمایہ کا ری میں رکا وٹیں پیداکی ہیں
اور خا ص طور پر ہما را انتظامی ڈھا نچہ کا روبار کو فروغ دینے میں بڑی رکا وٹ بنا ہو ا ہے معا شی صورتحال کو بگاڑنے میں کو ئی ایک فر یق ذمے دار نہیں ہے بلکہ ریا ست ، حکومت اور معیشت سے جُڑے تما م فیصلہ سازہی اس صور تحال کے ذمہ دار ہیں جب معا شی پا لیسیا ں طا قتور افراد یا گروں کے کنٹرول میں ہو گی اور یہ ہی طاقتور افراد حکومت کا حصہ ہو نگے تو معاشی تر قی کے تضاد کا نمایا ں ہو نا فطری امر ہو گا اس ساری صورتحال میں سیا سی نظام اور پا رلیمنٹ کی بے بسی بھی دیکھنے کو ملتی ہے اور ہم روزانہ کی بنیا د پر بھاری قر ضے حا صل کر کے معا شی پید چلا کر مستقبل کو مزید خراب کر نے کے ذمہ دار بن رہے ہیں اسی وجہ سے لو گو ں کا حکومتی نظام پر اعتما د اُٹھ رہا ہے اس کا نتیجہ ملک میں خاص طور پر نو جوانوں کی سطح پر سخت ردعمل کی صور ت میں دیکھنے کومل رہا ہے اور ان کو لگتا ہے کہ یہ نظام ہما ری اپنی ضرورت سے زیا دہ طاقتور طبقات اس بات کو سمجھنے کی کو شش کر یں
کہ معا شی بد حالی لو گو ں میں بے چینی اور غیر یقینی کی صورتحال کو پیداکر رہی ہے ہمیں اس صورتحال کو فر سودہ خیا لا ت اور روایتی طور طریقوں سے نمٹنے کے بجائے ان غیر معمولی حالات میں غیر معمولی اقدامات کو بنیاد بنا کر آگے بڑھنا ہو گا یہ ذمے داری عالمی ما لیا تی اداروں کی بھی بنتی ہے کہ وہ ہما رے جیسے ملکوں میں جو امداد یا تر قی کے منصوبے تشکیل دیتے ہیں ان کو بھی اس ملک میں آنے والی امداد اور منصوبوں کے نظام میں شفافیت کو م¾وثر بنا نا ہو گا تا کہ جو پیسہ عوامی تر قی اور کمزور طبقات کو حالات کو بہتر بنا نے کے لئے پا کستان میں آتا ہے اس کی جو ابدہی کو ممکن بنا یا جا سکے