
آج کا دن بھی گزشتہ دنوں کی طرح بوجھل اور بےیقینی سے بھرپور محسوس ہوا۔ فضا میں ایک عجیب سی گھٹن ہے، جیسے ہر سمت مسائل کا دباؤ انسان کے حوصلے کو آہستہ آہستہ ختم کر رہا ہو۔ مہنگائی اب کوئی عارضی مسئلہ نہیں رہی بلکہ ایک مستقل حقیقت بن چکی ہے، جو ہر گھر، ہر فرد اور ہر سوچ پر اثر انداز ہو رہی ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ایک ایسا سلسلہ بن چکا ہے جس کا کوئی واضح اختتام نظر نہیں آتا، اور ہر نیا دن عوام کے لیے مزید مشکلات لے کر آتا ہے۔
آج جب میں بازار سے گزرا تو لمبی قطاریں دیکھ کر دل مزید بوجھل ہو گیا۔ لوگ خاموشی سے کھڑے تھے، جیسے کسی ناگزیر تقدیر کے سامنے سر جھکا دیا ہو۔ ان کے چہروں پر نہ کوئی واضح غصہ تھا اور نہ ہی امید کی کوئی کرن، بلکہ ایک گہری بےیقینی اور مایوسی نمایاں تھی۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے عوام نے حالات کے سامنے خود کو بےبس تسلیم کر لیا ہو۔ مہنگائی نے صرف جیبوں کو خالی نہیں کیا بلکہ لوگوں کے حوصلے بھی توڑ دیے ہیں۔
گزشتہ دنوں جماعت اسلامی کی جانب سے مہنگائی اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف مختلف مقامات پر احتجاج دیکھنے کو ملا، بالخصوص کہوٹہ اور دیگر شہروں میں عوام کی ایک بڑی تعداد سڑکوں پر نکلی۔ لوگوں نے بینرز اور پلے کارڈز اٹھا کر اپنے مطالبات پیش کیے اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف آواز بلند کی۔ مگر افسوس کے ساتھ یہ احساس بھی شدت اختیار کرتا جا رہا ہے کہ ایسے احتجاج اب جیسے بے اثر ہوتے جا رہے ہیں۔ گویا یہ آوازیں ایوانوں تک پہنچتی ہی نہیں، یا اگر پہنچتی ہیں تو ان پر کوئی سنجیدہ توجہ نہیں دی جاتی۔
یہ تاثر مضبوط ہوتا جا رہا ہے کہ حکمران طبقہ عوامی مسائل سے لاتعلق ہو چکا ہے۔ عوام مہنگائی، بےروزگاری اور بنیادی ضروریات کے حصول کے لیے پریشان ہیں، جبکہ حکمران اپنی ترجیحات میں مصروف دکھائی دیتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے جیسے عوام کی مشکلات ان کے لیے کوئی فوری اہمیت نہیں رکھتیں۔ یہی وجہ ہے کہ احتجاج، جو کسی بھی جمہوری معاشرے میں تبدیلی کا ذریعہ ہوتا ہے، اب اپنی تاثیر کھوتا جا رہا ہے۔
حکومتی پالیسیاں بظاہر عوامی فلاح کے لیے بنائی جاتی ہیں، مگر عملی طور پر ان کے اثرات اس کے برعکس نظر آتے ہیں۔ معیشت کی کمزوری، بڑھتی ہوئی بےروزگاری اور وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم نے حالات کو مزید گھمبیر بنا دیا ہے۔ پٹرول، بجلی، گیس اور اشیائے ضروریہ کی قیمتیں اس حد تک بڑھ چکی ہیں کہ ایک عام آدمی کے لیے زندگی گزارنا ایک مسلسل جدوجہد بن چکا ہے۔
اقربا پروری نے نظام کو اندر سے کمزور کر دیا ہے۔ میرٹ، جو کسی بھی مضبوط معاشرے کی بنیاد ہوتا ہے، یہاں ثانوی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ فیصلے اکثر ذاتی مفادات اور تعلقات کی بنیاد پر کیے جاتے ہیں، جس کے نتیجے میں اہل افراد نظر انداز ہو جاتے ہیں اور نااہل عناصر آگے آ جاتے ہیں۔ اس کا براہ راست اثر نظام کی کارکردگی اور عوامی اعتماد پر پڑتا ہے۔
جرائم کی بڑھتی ہوئی شرح بھی انہی مسائل کا شاخسانہ ہے۔ جب لوگوں کے پاس روزگار نہ ہو اور بنیادی ضروریات پوری نہ ہوں تو مایوسی اور اضطراب جنم لیتا ہے، جو اکثر جرم کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ عوام خود کو غیر محفوظ محسوس کرتے ہیں اور ریاستی اداروں پر اعتماد میں کمی آتی جا رہی ہے۔
افسوسناک امر یہ ہے کہ وہ ادارے، جو انصاف اور شفافیت کے ضامن ہونے چاہئیں، اکثر خود ہی سوالات کی زد میں آ جاتے ہیں۔ کرپشن ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے اور احتساب کا نظام کمزور دکھائی دیتا ہے۔ چیک اینڈ بیلنس کا فقدان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ طاقت کا توازن بگڑ چکا ہے۔ جب جوابدہی نہ ہو تو بدعنوانی کو فروغ ملتا ہے، اور یہی صورتحال آج نمایاں نظر آتی ہے۔
ان تمام حالات کے باوجود ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ عوام میں شعور موجود ہے۔ لوگ مسائل کو سمجھتے ہیں، حالات کا ادراک رکھتے ہیں، مگر ان کے اندر وہ اعتماد اور یقین کمزور پڑ چکا ہے جو کسی بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ بنتا ہے۔ خاموشی اور مایوسی نے جیسے اجتماعی قوت کو دبا دیا ہے۔
یہ ڈائری محض ایک دن کی روداد نہیں بلکہ ایک پورے عہد کی عکاسی ہےایک ایسا عہد جہاں عوام مسائل کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں، مگر پھر بھی کہیں نہ کہیں بہتری کی امید باقی ہے۔ وقت کا تقاضا یہی ہے کہ عوامی مسائل کو سنجیدگی سے لیا جائے، پالیسیوں کو زمینی حقائق کے مطابق ترتیب دیا جائے اور حکمران طبقہ اپنی ذمہ داریوں کا ادراک کرے۔
اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف عوام کا اعتماد مزید کمزور ہوگا بلکہ معاشرتی توازن بھی متاثر ہوگا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ احتجاج کو سنجیدگی سے لیا جائے، عوامی آواز کو دبایا نہ جائے بلکہ اس کا احترام کیا جائے، تاکہ ایک متوازن اور مستحکم معاشرہ تشکیل پا سکے۔