مٹی کا قرض اتارنے والا معلم: خالد بزمی

خطۂ پوٹھوہار کی مٹی میں نہ جانے کیا راز پوشیدہ ہے کہ اس کی کوکھ سے جنم لینے والے لوگ اپنی سادگی، جفاکشی، علم دوستی اور وفاداریِ وطن کے باعث اپنی الگ شناخت قائم کر لیتے ہیں۔ یہ وہ دھرتی ہے جہاں پتھریلی زمین پر بھی محبت کے پھول کھلتے ہیں، جہاں کچے راستوں سے نکلنے والے مسافر بڑے خوابوں کی منزل تک پہنچتے ہیں اور جہاں مٹی سے وابستگی محض جذبات نہیں بلکہ ایک طرزِ زندگی ہے۔اسی زرخیز دھرتی کے ایک تاریخی قصبے ٹکال میں 4 جون 1966ء کو ایک ایسے بچے نے آنکھ کھولی جس کے مقدر میں قلم سے رشتہ، کتاب سے محبت، درس و تدریس سے وابستگی اور مٹی سے وفا لکھی تھی۔ اس بچے کا نام خالد بزمی تھا۔

آج جب خالد بزمی گورنمنٹ بوائز ہائی سکول سرصوبہ شاہ سے اپنی طویل سرکاری تدریسی خدمات مکمل کرکے سبکدوش ہو رہے ہیں تو یہ محض ایک استاد کی ریٹائرمنٹ نہیں، بلکہ ایک ایسے عہد کا اختتام محسوس ہوتا ہے جس میں ایک معلم نے اپنی زندگی کے بہترین برس نسلِ نو کی تعمیر کے لیے وقف کر دیے۔ٹکال کی مٹی سے اٹھنے والی خوشبوٹکال، تحصیل کلرسیداں کا وہ تاریخی قصبہ ہے جس کی فضا میں علم، تہذیب، روحانیت اور سماجی اقدار کی خوشبو رچی بسی ہے۔ یہاں زندگی صرف گزاری نہیں جاتی، اسے روایت، رشتے اور اقدار کے ساتھ جیا جاتا ہے۔

خالد بزمی کی شخصیت کی تشکیل بھی اسی ماحول میں ہوئی۔ وہ ماحول جہاں بزرگوں کا احترام، علم کی توقیر، دین سے وابستگی، دوسروں کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھنا اور اجتماعی بھلائی کے لیے کام کرنا زندگی کے بنیادی اصول سمجھے جاتے تھے۔شاید یہی وجہ ہے کہ خالد بزمی نے زندگی کے ہر میدان میں اپنی ذات سے آگے بڑھ کر معاشرے کو دیکھا۔ انہوں نے علم کو صرف اپنی ذات کا سرمایہ نہیں بنایا بلکہ اسے دوسروں تک پہنچانے کو اپنا فرض سمجھا۔

ایک عظیم درسگاہ اور ایک عظیم استاد کی شاگردی ثانوی تعلیم مکمل کرنے کے بعد خالد بزمی نے دینی و عصری علوم کے حصول کے لیے دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریف، سرگودھا کا رخ کیا۔ یہ وہ عظیم علمی مرکز ہے جسے جسٹس پیر محمد کرم شاہ الازہری رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی علمی، فکری اور روحانی بصیرت سے ایک ممتاز مقام عطا کیا۔

پیر محمد کرم شاہ الازہری رحمۃ اللہ علیہ محض ایک عالمِ دین نہیں تھے؛ وہ ایک صاحبِ نظر مفکر، مفسر، محدث، ادیب اور روحانی رہنما تھے۔ ان کی شخصیت میں روایت اور جدت، علم اور عمل، شریعت اور طریقت کا حسین امتزاج نظر آتا تھا۔ انہوں نے قدیم اسلامی علوم کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی جو کوشش کی، اس کے اثرات آج بھی ان کے علمی و فکری ورثے میں نمایاں ہیں۔

خالد بزمی کو اس عظیم شخصیت کی براہِ راست شاگردی کا شرف حاصل ہوا۔ یہ تعلق محض استاد اور شاگرد کا تعلق نہیں تھا؛ یہ ایک علمی روایت سے وابستگی تھی، ایک فکر سے اکتساب تھا اور ایک چراغ سے دوسرے چراغ کا روشن ہونا تھا۔تفسیر، حدیث، سیرت اور عربی زبان کے علوم میں حاصل ہونے والی ان کی علمی تربیت نے ان کی شخصیت کو ایک ایسا فکری پس منظر عطا کیا جو بعد کی زندگی میں ان کی گفتگو، تحریر اور تدریس میں نمایاں نظر آتا رہا۔لیکن ان کی زندگی کا ایک نہایت منفرد اور قابلِ ذکر باب “ضیاء النبی ﷺ” سے وابستہ ہے۔

پیر محمد کرم شاہ الازہری رحمۃ اللہ علیہ کی شہرۂ آفاق تصنیف “ضیاء النبی ﷺ” سیرتِ طیبہ کے موضوع پر اردو زبان کا ایک عظیم علمی سرمایہ ہے۔ خالد بزمی کو اس علمی کام کے ضمن میں پیر صاحب کی خدمت اور اس عظیم تصنیف کی بعض املاء و کتابت میں حصہ لینے کا اعزاز حاصل ہوا۔یہ اعزاز کسی بھی طالبِ علم کے لیے محض ایک علمی تجربہ نہیں، بلکہ ایک روحانی اور تاریخی نسبت ہے۔ ایک طرف استاد کی زبان سے سیرتِ رسول ﷺ کا بیان، دوسری طرف شاگرد کے ہاتھ میں قلم، اور سامنے رسولِ اکرم ﷺ کی حیاتِ مبارکہ کا تذکرہ—یہ ایسا تجربہ ہے جس کے اثرات انسان کی پوری زندگی پر نقش ہو جاتے ہیں۔

کتاب سے نکل کر کتابِ زندگی تک تعلیم مکمل کرنے کے بعد خالد بزمی نے محکمہ تعلیم، حکومتِ پنجاب کے تحت تدریس کا آغاز کیا۔ یوں ان کی زندگی کا وہ سفر شروع ہوا جو تقریباً تین دہائیوں پر محیط رہا۔ان کا تدریسی سفر خطۂ پوٹھوہار کے مختلف تعلیمی مراکز سے گزرا۔ بیول سے آغاز ہوا، پھر گورنمنٹ بوائز ہائر سیکنڈری سکول چوآخالصہ جیسے تاریخی تعلیمی ادارے میں طویل عرصہ خدمات انجام دیں اور بالآخر گورنمنٹ بوائز ہائی سکول سرصوبہ شاہ ان کے تدریسی سفر کا آخری اور طویل پڑاؤ بنا۔

چوآخالصہ کی تاریخی درسگاہ میں تقریباً دو دہائیوں پر محیط خدمات ہوں یا سرصوبہ شاہ کے طلبہ کی تربیت، خالد بزمی کے لیے تدریس محض ایک سرکاری ذمہ داری نہ تھی۔وہ ان اساتذہ میں سے تھے جو سمجھتے ہیں کہ کلاس روم چار دیواری کا نام نہیں؛ یہ مستقبل کی تعمیر گاہ ہے۔ایک سچا استاد صرف نصاب مکمل نہیں کرتا، وہ شخصیت مکمل کرتا ہے۔وہ صرف کتاب نہیں پڑھاتا، زندگی پڑھاتا ہے۔وہ صرف سوالوں کے جواب نہیں دیتا، سوال کرنے کا حوصلہ بھی پیدا کرتا ہے۔وہ صرف امتحان کے لیے تیار نہیں کرتا، زندگی کے امتحان کے لیے بھی تیار کرتا ہے۔

خالد بزمی نے اپنے طویل تدریسی سفر میں اسی تصورِ معلم کو زندہ رکھا۔ ان کے ہزاروں طلبہ آج زندگی کے مختلف شعبوں میں اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔ ان میں سے ہر کامیاب شخص دراصل اس استاد کی محنت کا ایک خاموش اعتراف ہے۔
استاد کی اصل کامیابی کسی استاد کی کامیابی کا اندازہ صرف اس بات سے نہیں لگایا جا سکتا کہ اس نے کتنے طلبہ کو اچھے نمبر دلوائے۔ استاد کی اصل کامیابی اس وقت سامنے آتی ہے جب اس کا شاگرد برسوں بعد اسے یاد کرکے کہتا ہے:
“یہ بات میرے استاد نے مجھے سکھائی تھی۔”

خالد بزمی کی اصل میراث بھی یہی ہے۔کسی کے ہاتھ میں کتاب، کسی کے دل میں خود اعتمادی، کسی کے ذہن میں سوال کرنے کی جرأت، کسی کے کردار میں دیانت اور کسی کے دل میں اپنے علاقے اور اپنے وطن کے لیے محبت—یہ سب ایک استاد کی وہ خاموش نشانیاں ہیں جو کسی سرکاری فائل میں درج نہیں ہوتیں، مگر تاریخ کے حافظے میں محفوظ رہتی ہیں۔قلم، صحافت اور ڈیجیٹل عہدخالد بزمی نے تدریس کو اپنی زندگی کا واحد میدان نہیں بنایا۔ ان کا قلم کلاس روم سے نکل کر معاشرے کے مسائل تک بھی پہنچا۔مقامی صحافت اور ڈیجیٹل میڈیا کے میدان میں انہوں نے اپنی موجودگی کو محض خبر رسانی تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے سماجی شعور اور عوامی مسائل کی ترجمانی کا ذریعہ بنایا۔

سوشل میڈیا پر ان کے مختلف پلیٹ فارمز سے ہزاروں افراد وابستہ ہیں، جہاں وہ تعلیمی خبروں، محکمہ تعلیم سے متعلق معلومات، سرکاری نوٹیفکیشنز، مقامی مسائل اور علاقائی حالات کو اجاگر کرتے ہیں۔لیکن ان کی ڈیجیٹل سرگرمیوں کا ایک اور خوبصورت پہلو پوٹھوہاری ثقافت، لوک ورثے اور دیہی زندگی کی عکاسی ہے۔آج جب جدیدیت کی تیز رفتار یلغار بہت سی مقامی روایات، الفاظ، رسم و رواج اور دیہی مناظر کو ہماری اجتماعی یادداشت سے مٹا رہی ہے، ایسے میں کسی شخص کا اپنے علاقے کے لوک ورثے کو محفوظ کرنا دراصل آنے والی نسلوں کے لیے ایک امانت محفوظ کرنا ہے۔

خالد بزمی نے اس امانت کو محسوس کیا اور اپنے قلم، کیمرے اور ڈیجیٹل ذرائع کو اس مقصد کے لیے استعمال کیا۔
آواز اُن کی جو خود بول نہیں سکتےخالد بزمی کی شخصیت کا ایک اہم پہلو سماجی شعور ہے۔ٹکال، بیول، سرصوبہ شاہ اور گرد و نواح کے دیہی علاقوں کے مسائل—صاف پانی، سڑکوں کی حالت، تعلیمی مشکلات، غریب طلبہ کے مسائل اور بنیادی سہولیات کی کمی—کو اجاگر کرنا ان کے سماجی کردار کا حصہ رہا ہے۔
یہ کام آسان نہیں ہوتا۔

جو شخص مسائل کی نشان دہی کرتا ہے، اسے کبھی کبھی سوالات کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے، کبھی ناراضی مول لینی پڑتی ہے اور کبھی تنقید برداشت کرنا پڑتی ہے۔ لیکن اگر مقصد ذاتی مفاد نہیں بلکہ اجتماعی بھلائی ہو تو یہ مشکلات انسان کے عزم کو کمزور نہیں کرتیں۔خالد بزمی نے بھی یہی راستہ اختیار کیا۔ان کے لیے قلم محض اظہار کا ذریعہ نہیں رہا؛ یہ ان لوگوں کی آواز بنا جو اپنی مشکلات خود بیان کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے تھے۔

علم کی روشنی اور رواداری کا پیغام
پیر محمد کرم شاہ الازہری رحمۃ اللہ علیہ کی علمی و فکری نسبت نے خالد بزمی کی شخصیت میں مذہبی رواداری، صوفیانہ مزاج اور علمی مکالمے کی اہمیت کو مزید مضبوط کیا۔ان کی گفتگو میں روایت کا احترام بھی ہے اور عصرِ حاضر کے تقاضوں کا ادراک بھی۔وہ اختلاف کو دشمنی نہیں سمجھتے بلکہ مکالمے کا دروازہ کھلا رکھنے کے قائل نظر آتے ہیں۔ یہی وصف انہیں محض ایک مدرس نہیں بلکہ ایک سماجی استاد بھی بناتا ہے۔اساتذہ کی تنظیموں، علمی محفلوں اور سماجی تقریبات میں ان کی شرکت ہمیشہ ایک رابطہ کار اور پُل کی حیثیت رکھتی رہی ہے۔

ریٹائرمنٹ یا ایک نئے سفر کی ابتدا؟
2026ء میں جب خالد بزمی سرکاری ضابطے کے مطابق تدریسی ملازمت سے سبکدوش ہوئے تو کیلنڈر پر ایک تاریخ ضرور تبدیل ہوئی، مگر زندگی کا سفر کہاں رکا؟ریٹائرمنٹ دراصل ملازمت کا اختتام ہے، کردار کا نہیں۔ایک استاد ریٹائر ہو سکتا ہے، مگر اس کے پڑھائے ہوئے سبق ریٹائر نہیں ہوتے۔ایک سرکاری عہدہ ختم ہو سکتا ہے، مگر ایک معلم کی چھوڑی ہوئی فکری میراث ختم نہیں ہوتی۔ایک سکول کا دروازہ اس کے لیے بند ہو سکتا ہے، مگر معاشرے کی وسیع درسگاہ ہمیشہ کھلی رہتی ہے۔اور خالد بزمی تو پہلے ہی اس وسیع درسگاہ کے مسافر ہیں۔

وہ قلم جو برسوں تک طلبہ کے مستقبل کے لیے لکھتا رہا، اب سماج کے مسائل کے لیے لکھ سکتا ہے۔وہ آنکھ جس نے نسلوں کو پڑھتے دیکھا، اب اپنے علاقے کے مسائل اور امکانات کو دیکھ سکتی ہے۔وہ تجربہ جو دہائیوں کی تدریس سے حاصل ہوا، اب آنے والی نسلوں کے لیے رہنمائی بن سکتا ہے۔

مٹی کا قرض

خالد بزمی کی زندگی کو اگر ایک جملے میں بیان کرنا ہو تو شاید یہی کہا جا سکتا ہے:
انہوں نے اپنی مٹی کا قرض اتارنے کی کوشش کی ہے۔انہوں نے اسی مٹی سے علم حاصل کیا، پھر علم اسی مٹی کے بچوں میں بانٹا۔انہوں نے ایک عظیم استاد سے فیض پایا، پھر استاد کی دی ہوئی روشنی کو اپنے شاگردوں تک منتقل کیا۔انہوں نے “ضیاء النبی ﷺ” کی کتابت میں حصہ لیا، پھر اپنی زندگی کے صفحات پر خدمت، تعلیم اور سماجی شعور کی تحریر رقم کی۔

انہوں نے سکول میں نسلیں سنواریں، قلم سے مسائل اٹھائے، ڈیجیٹل دنیا میں اپنے علاقے کی آواز بنے اور پوٹھوہار کے ثقافتی ورثے کو محفوظ کرنے کی کوشش کی۔یہی کسی انسان کی سب سے بڑی کامیابی ہے کہ اس کے گزرنے کے بعد بھی اس کے کام باقی رہیں۔ایک چراغ سے دوسرے چراغ تک کہتے ہیں چراغ کی خوبصورتی اس میں نہیں کہ وہ خود کتنا روشن ہے، بلکہ اس میں ہے کہ اس نے کتنے چراغ روشن کیے۔خالد بزمی نے اپنی زندگی میں بہت سے چراغ روشن کیے۔کچھ چراغ ان کے طلبہ کے دلوں میں جل رہے ہیں۔کچھ ان کی تحریروں میں روشن ہیں۔

کچھ ان لوگوں کی دعاؤں میں موجود ہیں جن کے مسائل انہوں نے اجاگر کیے۔
اور کچھ ان نوجوانوں کے دلوں میں ہیں جو اپنے استاد کو برسوں بعد بھی احترام سے یاد کرتے ہیں۔
یہی وہ روشنی ہے جو ریٹائرمنٹ کے حکم نامے سے ختم نہیں ہوتی۔
اختتامِ ملازمت، آغازِ میراث
آج جب خالد بزمی تدریسی زندگی کے اس باب کو بند کر رہے ہیں تو یہ کہنا شاید زیادہ مناسب ہوگا کہ یہ اختتام نہیں، ایک نئے سفر کا آغاز ہے۔

ایک ایسا سفر جس میں سرکاری حاضری کا رجسٹر نہیں ہوگا، مگر قلم کی حاضری جاری رہے گی۔
جس میں کلاس روم نہیں ہوگا، مگر معاشرہ پوری طرح ایک کلاس روم ہوگا۔
جس میں طلبہ کا روزانہ کا اجتماع نہیں ہوگا، مگر وہ ہزاروں شاگرد ہوں گے جو ان کی دی ہوئی روشنی کو اپنے اپنے میدان میں آگے لے جا رہے ہیں۔

اور شاید یہی ایک معلم کی سب سے بڑی ریٹائرمنٹ بینیفٹ ہے کہ وہ اپنی زندگی بھر کی محنت کو اپنے شاگردوں کی صورت میں زندہ دیکھتا ہے۔
خالد بزمی صاحب!
آپ نے اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ کتابوں، تختۂ سیاہ، طلبہ، قلم اور اپنے علاقے کے لوگوں کے نام کر دیا۔
آپ نے مٹی سے رشتہ نبھایا۔
آپ نے علم کا چراغ جلایا۔
آپ نے استاد کی حرمت قائم رکھی۔
آپ نے اپنے عظیم استاد پیر محمد کرم شاہ الازہری رحمۃ اللہ علیہ کی علمی نسبت کو اپنی زندگی کے مختلف میدانوں میں آگے بڑھانے کی کوشش کی۔

اور سب سے بڑھ کر یہ کہ آپ نے یہ ثابت کیا کہ معلم صرف ملازم نہیں ہوتا؛ وہ معاشرے کا معمار ہوتا ہے۔
آپ کی سرکاری ملازمت کا باب ضرور مکمل ہوا ہے، مگر آپ کی علمی، ادبی اور سماجی زندگی کا سفر ابھی باقی ہے۔
آپ کی قلمی لکیریں شاید آنے والے وقت میں مزید بہت کچھ لکھیں گی۔
آپ کے تجربات شاید مزید کئی نسلوں کے کام آئیں گے۔
اور آپ کی مٹی سے محبت شاید ابھی کئی نئے چراغ روشن کرے گی۔
پُروقار سبکدوشی مبارک ہو، خالد بزمی صاحب!
آپ نے جو وقت درسگاہ کو دیا، وہ قوم کی امانت تھا۔
آپ نے جو علم بانٹا، وہ صدقۂ جاریہ ہے۔
آپ نے جو شاگرد سنوارے، وہ آپ کی زندہ کتابیں ہیں۔
آپ نے جو مسائل اٹھائے، وہ آپ کے سماجی شعور کی گواہی ہیں۔
اور آپ نے جو محبت اپنی مٹی سے کی، وہ آپ کے نام کی سب سے خوبصورت پہچان ہے۔
عہد ختم ہوا ہے، چراغ نہیں۔
ملازمت ختم ہوئی ہے، معلم نہیں۔
سفر کا ایک باب بند ہوا ہے، راستے ابھی باقی ہیں۔
اور پوٹھوہار کی یہ مٹی شاید آنے والی نسلوں سے کہتی رہے گی:
یہ وہ شخص تھا جس نے اپنی مٹی کا قرض علم، قلم اور خدمت سے اتارنے کی کوشش کی تھی۔