تحریر: حافظ نصرت علی خان
اٹک 03335973150
یکم مئی ۔۔۔ یومِ مزدور ، یہ محض ایک دن نہیں ، بلکہ محنت ، قربانی ، جدوجہد اور انسانی وقار کی ایک زندہ علامت ہے ، آج کے دن دنیا بھر میں ہر اُس ہاتھ کو خراجِ تحسین پیش کیا جاتا ہے جو رزقِ حلال کے لیے محنت کرتا ہے ، چاہے وہ فیکٹری میں مشینوں کے شور میں گم ہو ، کھیتوں میں دھوپ کی تپش سہہ رہا ہو ، اینٹ اور گارا اٹھا کر خوابوں کو چھت دے رہا ہو ، یا سڑکوں پر پسینہ بہا کر زندگی کا پہیہ چلا رہا ہو۔
یہ سب مزدور ہیں اور یہی معاشرے کی اصل بنیاد ہیں۔ مگر اسی ہجوم میں ایک اور مزدور بھی ہے ، جو اکثر نظروں سے اوجھل رہتا ہے، جس کے لیے نہ جلوس نکلتے ہیں، نہ بینر بنتے ہیں ، مگر اس کی محنت معاشرے کی سوچ ، شعور اور سمت کا تعین کرتی ہے۔ وہ مزدور جس کے ہاتھوں پر کالک تو ہے، مگر فیکٹری کی نہیں ، قلم کی ہے۔ وہ جو شور نہیں کرتا، مگر سچ کی سب سے توانا آواز بن جاتا ہے۔
یہ ہے صحافی… قلم کا مزدور۔
مزدور اینٹ اٹھاتا ہے تو عمارت بنتی ہے، کسان بیج بوتا ہے تو فصل اگتی ہے، محنت کش پسینہ بہاتا ہے تو معیشت چلتی ہے ، اور صحافی قلم اٹھاتا ہے تو سچ کی عمارت کھڑی ہوتی ہے۔
یہ سب اپنے اپنے محاذ کے سپاہی ہیں۔ فرق صرف کام کا نہیں حالات اور آزمائشوں کا بھی ہے۔ ہر مزدور کی اپنی ایک کہانی ہے، اپنی ایک جدوجہد ہے۔
کوئی جھلساتی دھوپ میں اپنا وجود جلاتا ہے، کوئی مشینوں کے شور میں اپنی خاموشی کھو دیتا ہے، کوئی قلیل اجرت پر بھی اپنے گھر کا چولہا جلانے کی کوشش کرتا ہے، اور کوئی بے روزگاری کے خوف میں جیتا ہے۔ مگر صحافی کی جدوجہد ایک الگ نوعیت کی ہے۔
وقت کی کوئی قید نہیں :
دوسرے مزدور اپنی ڈیوٹی مکمل کر کے لوٹ آتے ہیں، مگر صحافی کے لیے دن اور رات کی کوئی حد نہیں۔
حادثہ ہو، سانحہ ہو، سیاسی ہلچل ہو یا قدرتی آفت ، یہ قلم کا مزدور ہر وقت بیدار، ہر لمحہ متحرک رہتا ہے۔
اوزار کا فرق:
ایک کے ہاتھ میں ہتھوڑا، دوسرے کے ہاتھ میں قلم۔ ہتھوڑا اینٹ کو توڑتا ہے، مگر قلم جھوٹ، فریب اور ناانصافی کی بنیادیں ہلا دیتا ہے ، مگر ان سب سے بڑھ کر ایک کڑوی حقیقت ہے—
اجرت اور انصاف کی کمی۔
آج بھی بے شمار مزدور ایسے ہیں جو اپنی محنت کا پورا معاوضہ نہیں پاتے۔ کوئی دیہاڑی پر گزارہ کر رہا ہے، کوئی ٹھیکیداری نظام میں پسا ہوا ہے، اور کوئی کم تنخواہ میں زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔
انہی میں ایک بڑا اور مظلوم طبقہ لوکل رپورٹرز کا بھی ہے۔
وہ دن رات محنت کرتے ہیں، اپنے خرچ پر سفر کرتے ہیں، اپنا موبائل، اپنی توانائی، اپنا وقت صرف کرتے ہیں، اور ہر خبر کے پیچھے دوڑتے ہیں—
کبھی تھانے، کبھی ہسپتال، کبھی عدالت، کبھی کسی حادثے کی جگہ۔
مگر بدلے میں؟
اکثر صرف ایک نام… ایک شناخت…
یا یہ جملہ:
“اشتہار لے آئیں، اسی میں آپ کی کمائی ہے”۔
یعنی خبر بھی آپ کی، خرچ بھی آپ کا، اور کمائی بھی آپ کی ذمہ داری۔
یہ صرف ناانصافی نہیں—
یہ محنت کے بنیادی حق سے انکار ہے۔
خطرات بھی کم نہیں۔
کوئی مزدور حادثے کا شکار ہو جاتا ہے، کوئی مشینوں کے نیچے آ جاتا ہے، اور کوئی صحافی سچ لکھنے کی قیمت دھمکیوں، دباؤ اور مقدمات کی صورت میں ادا کرتا ہے ، مگر اس سب کے باوجود…
یہ سب اگلے دن پھر اپنے کام پر ہوتے ہیں۔
کیوں؟
کیونکہ یہ صرف مزدور نہیں ، یہ ذمہ داری اٹھانے والے لوگ ہیں۔ یہ وہ ستون ہیں جن پر معاشرہ کھڑا ہے۔
یومِ مزدور ہمیں یہی سکھاتا ہے:
یہ دن صرف نعروں اور تقاریر کا نہیں،
یہ دن احتساب اور شعور کا دن ہے۔
کیا ہر مزدور کو اس کا حق مل رہا ہے؟
کیا ہر محنت کش کو عزت دی جا رہی ہے؟
کیا قلم کا مزدور بھی اتنی ہی اہمیت رکھتا ہے جتنی ہاتھ سے کام کرنے والے مزدور کی؟
حقیقت یہی ہے کہ:
معاشرہ اسی وقت مضبوط ہوگا جب ہر مزدور کو اس کا حق اور مقام دیا جائے گا—
چاہے وہ ہاتھ سے کام کرے یا قلم سے۔
آج کا پیغام واضح ہونا چاہیے:
1: ہر مزدور کو باعزت روزگار دیا جائے
2: اس کی محنت کا پورا معاوضہ ادا کیا جائے
3: اس کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے
4: اور اسے محض ایک ضرورت نہیں، بلکہ ایک باوقار انسان سمجھا جائے
کیونکہ اگر مزدور کمزور ہوگا، تو معاشرہ بھی کمزور ہو جائے گا۔
یکم مئی کا اصل پیغام یہی ہے:
مزدور صرف وہ نہیں جو اینٹ اور گارا اٹھاتا ہے،
مزدور وہ بھی ہے جو کھیت میں بیج بوتا ہے، مزدور وہ بھی ہے جو مشین چلاتا ہے، اور مزدور وہ بھی ہے جو رات بھر جاگ کر سچ لکھتا ہے۔ آج ہمیں ہر محنت کش کو سلام پیش کرنا چاہیے ، اور خاص طور پر ان کو، جو خاموشی سے اپنا فرض نبھا رہے ہیں۔
اٹک میں یکم مئی ، محنت کشوں کے عالمی دن کے موقع پر ضلعی دفتر آل پاکستان پی ڈبلیو ڈی ورکرز یونین زیارت پارک اٹک سے ایک پروقار اور پُرجوش ریلی صبح 10 بجے نکالی گئی۔ اس ریلی کا مقصد دنیا بھر کے محنت کشوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی، ان کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرنا اور ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے آواز بلند کرنا تھا۔ ریلی میں مزدوروں، سرکاری ملازمین، وکلاء، صحافیوں اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی، جس سے اس دن کی اہمیت مزید اجاگر ہوئی۔ ریلی اپنے مقررہ راستے پر زیارت پارک سے روانہ ہوئی، جہاں شرکاء نے بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر محنت کشوں کے حقوق، انصاف، مساوی اجرت اور بہتر حالاتِ کار کے مطالبات درج تھے۔ شرکاء نعرے بازی کرتے ہوئے کچہری چوک سے ہوتے ہوئی ریلی فوارہ چوک کی جانب روانہ ہوئی اور وہیں اختتام پذیر ہوئی۔
ریلی کی قیادت ضلعی چیئرمین آل پاکستان پی ڈبلیو ڈی ورکرز یونین رانا فیصل علی خان نے کی۔ ان کے ہمراہ چیئرمین اٹک پریس کلب (رجسٹرڈ) ندیم رضا خان، مختلف وکلاء، مزدور رہنما اور سماجی شخصیات بھی موجود تھیں۔ اس موقع پر مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ محنت کش طبقہ کسی بھی معاشرے کی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، مگر بدقسمتی سے آج بھی انہیں ان کے جائز حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ مقررین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ مزدوروں کی کم از کم اجرت میں اضافہ کیا جائے، انہیں صحت، تعلیم اور رہائش جیسی بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں اور لیبر قوانین پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ یکم مئی ہمیں اس عہد کی یاد دلاتا ہے کہ ہم محنت کشوں کے حقوق کے لیے متحد ہو کر جدوجہد جاری رکھیں گے۔ ریلی کے اختتام پر شرکاء نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ ہر فورم پر مزدوروں کے حقوق کے تحفظ کے لیے آواز بلند کرتے رہیں گے اور کسی بھی ناانصافی کے خلاف خاموش نہیں رہیں گے۔ اس موقع پر ملک کی ترقی، خوشحالی اور استحکام کے لیے خصوصی دعا بھی کی گئی۔
تمام مزدوروں کو سلام
اور خاص طور پر ۔۔۔ قلم کے مزدوروں کو سلام ۔۔۔جو اپنے لفظوں سے سچ کو زندہ رکھتے ہیں… اور معاشرے کے ضمیر کو جگاتے ہیں۔
تحریر: حافظ نصرت علی خان
اٹک 03335973150
یکم مئی ۔۔۔ یومِ مزدور ، یہ محض ایک دن نہیں ، بلکہ محنت ، قربانی ، جدوجہد اور انسانی وقار کی ایک زندہ علامت ہے ، آج کے دن دنیا بھر میں ہر اُس ہاتھ کو خراجِ تحسین پیش کیا جاتا ہے جو رزقِ حلال کے لیے محنت کرتا ہے ، چاہے وہ فیکٹری میں مشینوں کے شور میں گم ہو ، کھیتوں میں دھوپ کی تپش سہہ رہا ہو ، اینٹ اور گارا اٹھا کر خوابوں کو چھت دے رہا ہو ، یا سڑکوں پر پسینہ بہا کر زندگی کا پہیہ چلا رہا ہو۔
یہ سب مزدور ہیں اور یہی معاشرے کی اصل بنیاد ہیں۔ مگر اسی ہجوم میں ایک اور مزدور بھی ہے ، جو اکثر نظروں سے اوجھل رہتا ہے، جس کے لیے نہ جلوس نکلتے ہیں، نہ بینر بنتے ہیں ، مگر اس کی محنت معاشرے کی سوچ ، شعور اور سمت کا تعین کرتی ہے۔ وہ مزدور جس کے ہاتھوں پر کالک تو ہے، مگر فیکٹری کی نہیں ، قلم کی ہے۔ وہ جو شور نہیں کرتا، مگر سچ کی سب سے توانا آواز بن جاتا ہے۔
یہ ہے صحافی… قلم کا مزدور۔
مزدور اینٹ اٹھاتا ہے تو عمارت بنتی ہے، کسان بیج بوتا ہے تو فصل اگتی ہے، محنت کش پسینہ بہاتا ہے تو معیشت چلتی ہے ، اور صحافی قلم اٹھاتا ہے تو سچ کی عمارت کھڑی ہوتی ہے۔
یہ سب اپنے اپنے محاذ کے سپاہی ہیں۔ فرق صرف کام کا نہیں حالات اور آزمائشوں کا بھی ہے۔ ہر مزدور کی اپنی ایک کہانی ہے، اپنی ایک جدوجہد ہے۔
کوئی جھلساتی دھوپ میں اپنا وجود جلاتا ہے، کوئی مشینوں کے شور میں اپنی خاموشی کھو دیتا ہے، کوئی قلیل اجرت پر بھی اپنے گھر کا چولہا جلانے کی کوشش کرتا ہے، اور کوئی بے روزگاری کے خوف میں جیتا ہے۔ مگر صحافی کی جدوجہد ایک الگ نوعیت کی ہے۔
وقت کی کوئی قید نہیں :
دوسرے مزدور اپنی ڈیوٹی مکمل کر کے لوٹ آتے ہیں، مگر صحافی کے لیے دن اور رات کی کوئی حد نہیں۔
حادثہ ہو، سانحہ ہو، سیاسی ہلچل ہو یا قدرتی آفت ، یہ قلم کا مزدور ہر وقت بیدار، ہر لمحہ متحرک رہتا ہے۔
اوزار کا فرق:
ایک کے ہاتھ میں ہتھوڑا، دوسرے کے ہاتھ میں قلم۔ ہتھوڑا اینٹ کو توڑتا ہے، مگر قلم جھوٹ، فریب اور ناانصافی کی بنیادیں ہلا دیتا ہے ، مگر ان سب سے بڑھ کر ایک کڑوی حقیقت ہے—
اجرت اور انصاف کی کمی۔
آج بھی بے شمار مزدور ایسے ہیں جو اپنی محنت کا پورا معاوضہ نہیں پاتے۔ کوئی دیہاڑی پر گزارہ کر رہا ہے، کوئی ٹھیکیداری نظام میں پسا ہوا ہے، اور کوئی کم تنخواہ میں زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔
انہی میں ایک بڑا اور مظلوم طبقہ لوکل رپورٹرز کا بھی ہے۔
وہ دن رات محنت کرتے ہیں، اپنے خرچ پر سفر کرتے ہیں، اپنا موبائل، اپنی توانائی، اپنا وقت صرف کرتے ہیں، اور ہر خبر کے پیچھے دوڑتے ہیں—
کبھی تھانے، کبھی ہسپتال، کبھی عدالت، کبھی کسی حادثے کی جگہ۔
مگر بدلے میں؟
اکثر صرف ایک نام… ایک شناخت…
یا یہ جملہ:
“اشتہار لے آئیں، اسی میں آپ کی کمائی ہے”۔
یعنی خبر بھی آپ کی، خرچ بھی آپ کا، اور کمائی بھی آپ کی ذمہ داری۔
یہ صرف ناانصافی نہیں—
یہ محنت کے بنیادی حق سے انکار ہے۔
خطرات بھی کم نہیں۔
کوئی مزدور حادثے کا شکار ہو جاتا ہے، کوئی مشینوں کے نیچے آ جاتا ہے، اور کوئی صحافی سچ لکھنے کی قیمت دھمکیوں، دباؤ اور مقدمات کی صورت میں ادا کرتا ہے ، مگر اس سب کے باوجود…
یہ سب اگلے دن پھر اپنے کام پر ہوتے ہیں۔
کیوں؟
کیونکہ یہ صرف مزدور نہیں ، یہ ذمہ داری اٹھانے والے لوگ ہیں۔ یہ وہ ستون ہیں جن پر معاشرہ کھڑا ہے۔
یومِ مزدور ہمیں یہی سکھاتا ہے:
یہ دن صرف نعروں اور تقاریر کا نہیں،
یہ دن احتساب اور شعور کا دن ہے۔
کیا ہر مزدور کو اس کا حق مل رہا ہے؟
کیا ہر محنت کش کو عزت دی جا رہی ہے؟
کیا قلم کا مزدور بھی اتنی ہی اہمیت رکھتا ہے جتنی ہاتھ سے کام کرنے والے مزدور کی؟
حقیقت یہی ہے کہ:
معاشرہ اسی وقت مضبوط ہوگا جب ہر مزدور کو اس کا حق اور مقام دیا جائے گا—
چاہے وہ ہاتھ سے کام کرے یا قلم سے۔
آج کا پیغام واضح ہونا چاہیے:
1: ہر مزدور کو باعزت روزگار دیا جائے
2: اس کی محنت کا پورا معاوضہ ادا کیا جائے
3: اس کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے
4: اور اسے محض ایک ضرورت نہیں، بلکہ ایک باوقار انسان سمجھا جائے
کیونکہ اگر مزدور کمزور ہوگا، تو معاشرہ بھی کمزور ہو جائے گا۔
یکم مئی کا اصل پیغام یہی ہے:
مزدور صرف وہ نہیں جو اینٹ اور گارا اٹھاتا ہے،
مزدور وہ بھی ہے جو کھیت میں بیج بوتا ہے، مزدور وہ بھی ہے جو مشین چلاتا ہے، اور مزدور وہ بھی ہے جو رات بھر جاگ کر سچ لکھتا ہے۔ آج ہمیں ہر محنت کش کو سلام پیش کرنا چاہیے ، اور خاص طور پر ان کو، جو خاموشی سے اپنا فرض نبھا رہے ہیں۔
اٹک میں یکم مئی ، محنت کشوں کے عالمی دن کے موقع پر ضلعی دفتر آل پاکستان پی ڈبلیو ڈی ورکرز یونین زیارت پارک اٹک سے ایک پروقار اور پُرجوش ریلی صبح 10 بجے نکالی گئی۔ اس ریلی کا مقصد دنیا بھر کے محنت کشوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی، ان کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرنا اور ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے آواز بلند کرنا تھا۔ ریلی میں مزدوروں، سرکاری ملازمین، وکلاء، صحافیوں اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی، جس سے اس دن کی اہمیت مزید اجاگر ہوئی۔ ریلی اپنے مقررہ راستے پر زیارت پارک سے روانہ ہوئی، جہاں شرکاء نے بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر محنت کشوں کے حقوق، انصاف، مساوی اجرت اور بہتر حالاتِ کار کے مطالبات درج تھے۔ شرکاء نعرے بازی کرتے ہوئے کچہری چوک سے ہوتے ہوئی ریلی فوارہ چوک کی جانب روانہ ہوئی اور وہیں اختتام پذیر ہوئی۔
ریلی کی قیادت ضلعی چیئرمین آل پاکستان پی ڈبلیو ڈی ورکرز یونین رانا فیصل علی خان نے کی۔ ان کے ہمراہ چیئرمین اٹک پریس کلب (رجسٹرڈ) ندیم رضا خان، مختلف وکلاء، مزدور رہنما اور سماجی شخصیات بھی موجود تھیں۔ اس موقع پر مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ محنت کش طبقہ کسی بھی معاشرے کی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، مگر بدقسمتی سے آج بھی انہیں ان کے جائز حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ مقررین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ مزدوروں کی کم از کم اجرت میں اضافہ کیا جائے، انہیں صحت، تعلیم اور رہائش جیسی بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں اور لیبر قوانین پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ یکم مئی ہمیں اس عہد کی یاد دلاتا ہے کہ ہم محنت کشوں کے حقوق کے لیے متحد ہو کر جدوجہد جاری رکھیں گے۔ ریلی کے اختتام پر شرکاء نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ ہر فورم پر مزدوروں کے حقوق کے تحفظ کے لیے آواز بلند کرتے رہیں گے اور کسی بھی ناانصافی کے خلاف خاموش نہیں رہیں گے۔ اس موقع پر ملک کی ترقی، خوشحالی اور استحکام کے لیے خصوصی دعا بھی کی گئی۔
تمام مزدوروں کو سلام
اور خاص طور پر ۔۔۔ قلم کے مزدوروں کو سلام ۔۔۔جو اپنے لفظوں سے سچ کو زندہ رکھتے ہیں… اور معاشرے کے ضمیر کو جگاتے ہیں۔