اسلام آباد(پنڈی پوسٹ نیوز)وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان کی واضح سمت امداد سے تجارت اور سرمایہ کاری کی جانب منتقلی ہے،حکومت عالمی شراکت داری مضبوط بنانے اور دوطرفہ اقتصادی تعلقات کو فروغ دینے پر توجہ دے رہی ہے۔نیوز ایشیا چینل کو انٹرویو میں وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان خلیجی ممالک، چین، امریکا اور دیگر دیرینہ شراکت داروں کے ساتھ اقتصادی روابط مزید مضبوط بنانا چاہتا ہے، چین اور امریکا کے ساتھ تعلقات کو ایک دوسرے کے متبادل کے بجائے بیک وقت آگے بڑھانا ہے، چین پاکستان کا دیرینہ شراکت دار ہے اور سی پیک، بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کا اہم حصہ ہے۔
وفاقی وزیرخزانہ نے بتایا کہ سی پیک کے پہلے مرحلے میں سڑکوں، بندرگاہوں اور بجلی گھروں سمیت بنیادی ڈھانچے کی تعمیر پرتوجہ دی گئی، دوسرے مرحلے میں موجودہ بنیادی ڈھانچے سے معاشی فوائد حاصل کرنے، کاروباری مواقع بڑھانے اور مشترکہ سرمایہ کاری کو فروغ دینے پر کام کیا جارہا ہے، چین کے ساتھ بعض مشترکہ منصوبوں میں برآمدات کے لیے مصنوعات بھی تیار کی جا رہی ہیں۔
وزیرخزانہ نےکہا پاکستان امریکا کیساتھ بھی اقتصادی تعلقات کو وسعت دینا چاہتا ہے، پاکستانی قیادت کے امریکی انتظامیہ کےساتھ اچھے تعلقات کو اقتصادی تعاون آگے بڑھانے کے لیے بروئے کارلایا جائے گا، امریکا پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار جبکہ یورپی یونین کو دوسرے نمبر پر ہے۔
وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ عالمی تجارت میں بڑھتی ہوئی تقسیم کے باعث مختلف خطوں کے درمیان تعاون کی اہمیت بڑھ رہی ہے، پاکستان خلیجی ممالک، وسطی ایشیائی ریاستوں اور آسیان ممالک کے ساتھ تعاون کے نئے مواقع تلاش کر رہا ہے۔محمد اورنگزیب کے مطابق گزشتہ مالی سال پاکستان کو 41 ارب 60 کروڑ ڈالرکی ترسیلات زر موصول ہوئیں، رواں مالی سال یہ رقم 44 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے، خلیجی ممالک کے ساتھ پاکستان کے تعلقات تجارت اور ترسیلات زر دونوں حوالوں سے اہم ہیں۔
انہوں نےکہا کہ ملائیشیا اور انڈونیشیا کی قیادت کے پاکستان کے دوروں سے علاقائی روابط کو فروغ ملا، تھائی لینڈ کے وزیرخزانہ سے ملاقات بھی اقتصادی تعاون بڑھانے کا موقع فراہم کرے گی، پاکستان اپنے دیرینہ شراکت داروں کی مشکل وقت میں معاونت اور مسلسل تعاون کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔