رمضان المبارک: ضبطِ نفس سے عظمتِ کردار تک

رمضان المبارک اسلامی سال کا وہ مقدس مہینہ ہے جو انسان کی روحانی، اخلاقی اور سماجی تربیت کا جامع نظام پیش کرتا ہے۔ یہ محض بھوک اور پیاس برداشت کرنے کا نام نہیں بلکہ نفس کی اصلاح، کردار کی تعمیر اور زندگی کے ہر پہلو کو سنوارنے کا مہینہ ہے۔ اسی لیے جب ہم رمضان اور کردار سازی کی بات کرتے ہیں تو دراصل ہم ایک ایسی تربیتی درسگاہ کا ذکر کر رہے ہوتے ہیں جس میں انسان کو باطن کی پاکیزگی، نیت کی درستگی، عمل کی سچائی اور رویّوں کی شائستگی سکھائی جاتی ہے۔ رمضان انسان کے اندر چھپی کمزوریوں کو بے نقاب کرتا ہے اور انہیں دور کرنے کا عملی موقع فراہم کرتا ہے تاکہ وہ ایک بہتر فرد اور ایک ذمہ دار معاشرتی رکن بن سکے۔

رمضان کا بنیادی مقصد تقویٰ کا حصول ہے، جیسا کہ قرآنِ مجید میں ارشاد ہوتا ہے کہ روزے تم پر فرض کیے گئے تاکہ تم متقی بن جاؤ۔ تقویٰ دراصل اللہ تعالیٰ کی ہمہ وقت نگرانی کا شعور ہے۔ جب ایک روزہ دار شدید گرمی میں پانی سے پرہیز کرتا ہے حالانکہ کوئی اسے دیکھ نہیں رہا ہوتا، تو وہ اس بات کا عملی ثبوت دیتا ہے کہ اس کے اندر جواب دہی کا احساس زندہ ہے۔ یہی احساس کردار سازی کی بنیاد ہے۔ جو شخص تنہائی میں بھی برائی سے بچ سکتا ہے، وہ معاشرے میں بھی دیانت داری اور راست بازی کا مظاہرہ کرے گا۔ رمضان انسان کے اندر یہی باطنی نگرانی پیدا کرتا ہے جو اسے جھوٹ، خیانت، بددیانتی اور ظلم سے دور رکھتی ہے۔

روزہ صبر کی عملی تربیت ہے۔ صبح صادق سے غروب آفتاب تک خواہشات پر قابو پانا آسان نہیں، مگر یہی مشق انسان کے ارادے کو مضبوط بناتی ہے۔ صبر محض تکلیف برداشت کرنے کا نام نہیں بلکہ اپنے جذبات، زبان اور رویّے کو قابو میں رکھنے کا نام ہے۔ جب کوئی شخص غصے کی حالت میں بھی بدکلامی سے بچتا ہے اور کہتا ہے کہ میں روزے سے ہوں، تو وہ دراصل اپنے کردار کو سنوار رہا ہوتا ہے۔ رمضان ہمیں سکھاتا ہے کہ اشتعال انگیزی، بدتمیزی اور جلد بازی کمزور کردار کی نشانیاں ہیں، جبکہ بردباری، تحمل اور نرم خوئی مضبوط شخصیت کی علامت ہیں۔ یوں روزہ انسان کے اندر برداشت اور حوصلے کی ایسی صفت پیدا کرتا ہے جو زندگی کے ہر میدان میں اس کے کام آتی ہے۔

رمضان میں عبادات کی کثرت انسان کے باطن کو نورانی بناتی ہے۔ نمازِ تراویح، تلاوتِ قرآن، ذکر و اذکار اور دعا انسان کے دل کو نرم اور حساس بناتے ہیں۔ جب دل میں اللہ کی محبت اور خوف جاگزیں ہو جاتا ہے تو انسان دوسروں کے حقوق پامال کرنے سے ڈرتا ہے۔ وہ جان لیتا ہے کہ اس کی ہر بات اور ہر عمل کا حساب ہونا ہے۔ یہی احساسِ جواب دہی اسے انصاف، دیانت اور امانت داری کی طرف مائل کرتا ہے۔ کردار سازی کا سب سے اہم پہلو یہی ہے کہ انسان اپنے آپ کو قانون اور اخلاقی اصولوں کا پابند سمجھے، چاہے کوئی اسے دیکھ رہا ہو یا نہیں۔ رمضان اس شعور کو بیدار کرتا ہے اور انسان کو ظاہری اور باطنی یکسانیت عطا کرتا ہے۔

رمضان ہمدردی اور احساسِ ذمہ داری کا مہینہ بھی ہے۔ جب صاحبِ حیثیت شخص بھوک اور پیاس کی شدت کو محسوس کرتا ہے تو اسے غریبوں اور محتاجوں کا خیال آتا ہے۔ یہی احساس اسے صدقہ و خیرات پر آمادہ کرتا ہے۔ زکوٰۃ اور فطرانہ کی ادائیگی صرف مالی فریضہ نہیں بلکہ دل کی وسعت کا مظہر ہے۔ جو شخص دوسروں کے دکھ درد کو اپنا دکھ سمجھنے لگے، اس کا کردار لازماً بلند ہو جاتا ہے۔ رمضان ہمیں خود غرضی سے نکال کر ایثار اور قربانی کی راہ دکھاتا ہے۔ یہ مہینہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اصل کامیابی دوسروں کو سہارا دینے میں ہے، نہ کہ صرف اپنی خواہشات کی تکمیل میں۔

رمضان میں جھوٹ، غیبت، چغلی اور بدزبانی سے بچنے کی خاص تاکید کی جاتی ہے۔ اگرچہ یہ برائیاں پورے سال ہی ممنوع ہیں، مگر روزے کی حالت میں ان سے بچنا زیادہ ضروری ہے کیونکہ یہ روزے کی روح کو مجروح کرتی ہیں۔ زبان کی حفاظت کردار سازی کا بنیادی جز ہے۔ اکثر معاشرتی فساد زبان کی بے احتیاطی سے جنم لیتا ہے۔ جب انسان سچ بولنے اور خاموش رہنے کی عادت اپناتا ہے تو اس کے تعلقات مضبوط ہوتے ہیں اور اس کی شخصیت پر اعتماد پیدا ہوتا ہے۔ رمضان انسان کو یہ شعور دیتا ہے کہ الفاظ بھی امانت ہیں اور ان کا غلط استعمال اخلاقی دیوالیہ پن کی علامت ہے۔

وقت کی پابندی بھی رمضان کی ایک اہم تربیت ہے۔ سحری اور افطار کے اوقات کی پابندی، پانچ وقت نماز کا اہتمام، تراویح میں شرکت—یہ سب انسان کو نظم و ضبط سکھاتے ہیں۔ جو شخص وقت کی قدر کرنا سیکھ لیتا ہے وہ زندگی کے دیگر معاملات میں بھی منظم اور ذمہ دار بن جاتا ہے۔ کردار سازی کا ایک اہم پہلو یہی ہے کہ انسان اپنے وعدوں اور ذمہ داریوں کو وقت پر پورا کرے۔ رمضان کا مہینہ انسان کو سستی، کاہلی اور بے ترتیبی سے نکال کر ایک باقاعدہ اور متوازن زندگی کی طرف لے جاتا ہے۔

رمضان انسان کو عاجزی اور انکساری کا سبق بھی دیتا ہے۔ بھوک اور پیاس انسان کو اس کی کمزوری کا احساس دلاتی ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ وہ اپنی بنیادی ضروریات کے لیے بھی اللہ کا محتاج ہے۔ یہی احساسِ احتیاج غرور اور تکبر کو توڑ دیتا ہے۔ تکبر ایک ایسی اخلاقی بیماری ہے جو انسان کو دوسروں سے دور کر دیتی ہے اور اس کے کردار کو داغدار کرتی ہے۔ رمضان کی مشقیں انسان کے اندر تواضع پیدا کرتی ہیں، جس سے اس کی شخصیت میں نرمی اور کشش آتی ہے۔

رمضان خود احتسابی کا بہترین موقع فراہم کرتا ہے۔ یہ مہینہ انسان کو اپنے اعمال کا جائزہ لینے پر آمادہ کرتا ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ گزشتہ سال اس سے کیا غلطیاں ہوئیں اور آئندہ وہ انہیں کیسے سدھار سکتا ہے۔ توبہ و استغفار کی کثرت دراصل اصلاحِ نفس کی علامت ہے۔ جب انسان اپنی کمزوریوں کو تسلیم کر کے انہیں دور کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اس کا کردار مضبوط ہوتا ہے۔ رمضان ہمیں سکھاتا ہے کہ کامل ہونے کا دعویٰ نہ کرو بلکہ بہتر بننے کی کوشش جاری رکھو۔

یہ مہینہ اجتماعی شعور بھی بیدار کرتا ہے۔ افطار کی محفلیں، مسجد میں اجتماعات اور باہمی ملاقاتیں محبت اور بھائی چارے کو فروغ دیتی ہیں۔ جب لوگ ایک ساتھ عبادت کرتے اور ایک ساتھ روزہ افطار کرتے ہیں تو ان کے درمیان قربت بڑھتی ہے۔ یہ قربت معاشرتی ہم آہنگی کا سبب بنتی ہے۔ ایک صالح معاشرہ صالح افراد سے تشکیل پاتا ہے، اور رمضان ایسے ہی افراد تیار کرتا ہے جو ایک دوسرے کا احترام کرتے ہیں اور باہمی تعاون کو فروغ دیتے ہیں۔

رمضان کی اصل کامیابی اسی وقت ممکن ہے جب اس کی تربیت سال بھر جاری رہے۔ اگر انسان اس مہینے میں حاصل کی گئی خوبیوں کو باقی گیارہ مہینوں میں بھی برقرار رکھے تو اس کا کردار مستقل طور پر سنورتا رہے گا۔ ورنہ اگر رمضان کے بعد وہی پرانی عادتیں لوٹ آئیں تو مقصد فوت ہو جاتا ہے۔ رمضان ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ عبادت وقتی جذبہ نہیں بلکہ مستقل طرزِ زندگی ہونی چاہیے۔ دیانت، سچائی، صبر اور ہمدردی کو صرف ایک مہینے تک محدود کرنا کافی نہیں بلکہ انہیں زندگی کا حصہ بنانا ضروری ہے۔

آخر میں یہ کہنا بجا ہے کہ رمضان المبارک دراصل ایک جامع تربیتی نظام ہے جو انسان کو جسمانی، روحانی اور اخلاقی اعتبار سے مضبوط بناتا ہے۔ یہ مہینہ ہمیں اپنے خالق سے جوڑتا اور مخلوق کے ساتھ حسنِ سلوک کا درس دیتا ہے۔ روزہ ہمیں سکھاتا ہے کہ اصل طاقت نفس پر قابو پانے میں ہے، اصل دولت قناعت میں ہے اور اصل کامیابی اعلیٰ کردار میں ہے۔ اگر ہم رمضان کی روح کو سمجھ کر اس کے پیغام کو اپنی عملی زندگی میں نافذ کر لیں تو نہ صرف ہماری انفرادی زندگی سنور سکتی ہے بلکہ ہمارا معاشرہ بھی امن، محبت اور عدل کا گہوارہ بن سکتا ہے۔ رمضان اور کردار سازی کا تعلق اتنا گہرا ہے کہ اسے جدا نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ یہی مہینہ انسان کو وہ اخلاقی بنیاد فراہم کرتا ہے جس پر ایک باوقار اور باکردار زندگی کی عمارت تعمیر ہوتی ہے۔


Discover more from pindipost.pk

Subscribe to get the latest posts sent to your email.