دعا

لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری
یوں ہی پھولوں کی سی فطرت ہو مہکنا میری
نخل نوخیز ہوں دیمک سے بچانا مجھ کو
ماں کی آغوش سے حاصل ہو سنورنا مجھ کو
جو ہے تعلیم کی غربت یہ جہاں میں پھیلی
میں کروں صاف زمیں تیری بڑی ہے میلی
الجھنوں کے ہیں جو قیدی وہ خوشی سے یا رب
لو لگا لیں یہ تجھی سے یہ نبی سے یا رب
میرے احساس سے روشن ہو یہ دل کا گوشہ
سب غریبوں کی مدد کرنا مرا ہو پیشہ
یہ جو سستی کا لبادہ ہے چھڑالے مجھ سے
یا خدایا تو کوئی کام بڑا لے مجھ سے
لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری
یوں ہی پھولوں کی سی فطرت ہو مہکنا میری
(علی رضا اعوان‘ مندرہ ڈھوک اعوان)

اپنا تبصرہ بھیجیں