
پاکستان کی انسان دوست تاریخ میں ایک ایسا روشن اور تابناک باب موجود ہے جسے کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا، اور وہ نام ہے بلقیس ایدھی کا۔ آج اُن کی چوتھی برسی کے موقع پر نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر کے انسان دوست افراد اُن کی عظیم خدمات کو یاد کر رہے ہیں، اور اُن کے درجات کی بلندی کے لیے خصوصی دعائیں مانگ رہے ہیں۔ اُن کی شخصیت ایک ایسی روشنی تھی جس نے اندھیروں میں امید کے چراغ جلائے۔
بلقیس ایدھی صرف ایک فرد نہیں بلکہ ایک مکمل ادارہ تھیں، جنہوں نے ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں بے سہارا انسانوں کو زندگی کا سہارا دیا۔ خاص طور پر یتیم اور لاوارث بچوں کے لیے وہ ایک ایسی ماں بنیں جن کی گود میں آ کر ہر بچہ خود کو محفوظ اور پیارا محسوس کرتا تھا۔ اُن کے چہرے پر موجود شفقت اور محبت ہر بچے کے دل میں سکون پیدا کرتی تھی۔
اُن کی زندگی کا سب سے نمایاں پہلو یہ تھا کہ انہوں نے اپنے شوہر عبدالستار ایدھی کے ساتھ مل کر انسانیت کی خدمت کو اپنا مشن بنایا اور اسے اپنی زندگی کا مقصد قرار دیا۔ دونوں نے مل کر ایک ایسا فلاحی نظام قائم کیا جو نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک مثال بن گیا۔ایدھی فاؤنڈیشن کے پلیٹ فارم سے بلقیس ایدھی نے خاص طور پر خواتین اور بچوں کے لیے بے شمار انقلابی اقدامات کیے۔ اُن کی سب سے بڑی پہچان “جھولا سسٹم” ہے، جس کے ذریعے نوزائیدہ بچوں کو زندگی کا دوسرا موقع فراہم کیا گیا اور اُنہیں بے دردی سے مرنے سے بچایا گیا۔
یہ جھولا محض ایک لکڑی یا لوہے کا ڈھانچہ نہیں تھا بلکہ یہ امید، تحفظ اور انسانیت کی علامت تھا۔ مجبور مائیں جو کسی وجہ سے اپنے بچوں کی پرورش نہیں کر سکتی تھیں، وہ اپنے دل پر پتھر رکھ کر اُنہیں اس جھولے میں رکھ دیتی تھیں، اس یقین کے ساتھ کہ ان کا بچہ محفوظ ہاتھوں میں ہے۔بلقیس ایدھی نے یتیم خانوں کا ایسا نظام قائم کیا جہاں بچوں کو صرف چھت ہی نہیں بلکہ مکمل تربیت، تعلیم اور ایک باوقار زندگی فراہم کی جاتی تھی۔ وہ ہر بچے کے ساتھ ذاتی طور پر دلچسپی لیتی تھیں اور ان کی ضروریات کا خاص خیال رکھتی تھیں۔
ان کی سادہ طرزِ زندگی بھی ایک مثال تھی۔ وہ نہایت سادگی سے رہتی تھیں، سادہ لباس پہنتی تھیں اور دنیاوی آسائشوں سے مکمل طور پر بے نیاز تھیں۔ ان کا اصل مقصد صرف اور صرف خدمتِ خلق تھا، جس میں انہوں نے کبھی کوئی سمجھوتہ نہیں کیا۔بلقیس ایدھی کی عاجزی اور انکساری اُن کی شخصیت کا نمایاں پہلو تھی۔ اتنی بڑی خدمات انجام دینے کے باوجود وہ خود کو ایک عام انسان سمجھتی تھیں اور ہمیشہ دوسروں کو آگے بڑھنے کی ترغیب دیتی تھیں۔
مشکل ترین حالات میں بھی اُن کا حوصلہ کبھی پست نہیں ہوا۔ قدرتی آفات، غربت، بیماری یا معاشرتی ناانصافیاں—ہر موقع پر وہ ایک مضبوط ستون کی طرح کھڑی رہیں اور متاثرہ افراد کی مدد کرتی رہیں۔انہوں نے خواتین کے لیے شیلٹر ہومز قائم کیے جہاں بے سہارا اور مظلوم خواتین کو نہ صرف پناہ ملی بلکہ انہیں عزت اور تحفظ کے ساتھ نئی زندگی شروع کرنے کا موقع بھی فراہم کیا گیا۔
بلقیس ایدھی کی خدمات صرف بچوں یا خواتین تک محدود نہیں تھیں بلکہ انہوں نے بزرگوں، مریضوں اور معذور افراد کی بھی بھرپور خدمت کی۔ ان کی نظر میں ہر انسان برابر تھا اور ہر ایک کو جینے کا حق حاصل تھا۔ان کی شخصیت میں ایک مثالی ماں، ایک مخلص رہنما اور ایک عظیم انسان کی تمام خوبیاں یکجا تھیں۔ وہ اپنے عمل سے یہ سبق دیتی تھیں کہ انسانیت کی خدمت سب سے بڑی عبادت ہے اور یہی اصل کامیابی ہے۔
دنیا بھر میں ان کی خدمات کو سراہا گیا اور انہیں مختلف اعزازات سے نوازا گیا، لیکن وہ ہمیشہ ان سب چیزوں سے بے نیاز رہیں۔ ان کے نزدیک اصل کامیابی لوگوں کی دعائیں اور اُن کی خوشی تھی۔2022 میں اُن کی وفات نے پوری قوم کو غمزدہ کر دیا۔ ایسا محسوس ہوا جیسے انسانیت ایک عظیم سایہ دار درخت سے محروم ہو گئی ہو، جس کی چھاؤں میں لاکھوں لوگ سکون پاتے تھے۔
آج اُن کی چوتھی برسی پر اُن کی یادیں دلوں میں تازہ ہو جاتی ہیں اور اُن کی خدمات ہمیں یہ یاد دلاتی ہیں کہ ایک انسان بھی پوری دنیا میں مثبت تبدیلی لا سکتا ہے۔بلقیس ایدھی کا مشن آج بھی زندہ ہے اور اُن کے قائم کردہ ادارے اُن کے نظریات کے مطابق خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ہزاروں لوگ اُن کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے انسانیت کی خدمت کر رہے ہیں.
ایدھی فاؤنڈیشن آج بھی اسی جذبے کے ساتھ کام کر رہی ہے اور ضرورت مندوں تک بلا امتیاز مدد پہنچا رہی ہے، جو بلقیس ایدھی کے خواب کی عملی تعبیر ہے۔ان کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ خلوص نیت، محنت اور ایثار کے ذریعے ناممکن کو ممکن بنایا جا سکتا ہے۔ وہ ایک ایسی مثال ہیں جو ہمیشہ زندہ رہے گی۔وہ اپنے پیچھے ایک ایسا مشن چھوڑ گئی ہیں جو آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہے اور انسانیت کی خدمت کا جذبہ زندہ رکھتا ہے۔
ہر وہ شخص جو کسی مجبور کی مدد کرتا ہے، دراصل بلقیس ایدھی کے مشن کو آگے بڑھا رہا ہوتا ہے اور اُن کے کارِ خیر میں حصہ ڈال رہا ہوتا ہے۔ہم سب کو چاہیے کہ ہم بھی اپنی زندگیوں میں اُن کی تعلیمات کو اپنائیں اور اپنے اردگرد کے لوگوں کے لیے آسانیاں پیدا کریں تاکہ معاشرہ بہتر بن سکے۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ بلقیس ایدھی کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، اُن کی مغفرت فرمائے اور ہمیں اُن کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق دے۔